عراق میں مہنگائی کے خلاف پُر تشدد مظاہرے، ہلاکتوں کی تعداد 19 ہو گئی

عراق میں مہنگائی کے خلاف پُر تشدد احتجاجی مظاہرے تیسرے روز میں داخل ہو گئے ہیں، بغداد سمیت عراق کے جنوبی شہروں میں ہلاک افراد کی تعداد 19 ہو گئی۔

تفصیلات کے مطابق عراق میں مہنگائی کے خلاف پر تشدد مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد انیس ہو گئی ہے، مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے تین روز سے جاری ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسی کا کہنا ہے عراقی شہروں الناصریہ اور العمارہ میں پر تشدد مظاہرے زوروں پر ہیں، عراقی وزیر اعظم کے حکم پر آج صبح 5 بجے سے غیر معینہ مدت تک کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق مظاہرین حکومت کی کارکردگی اور خدمات کی فراہمی میں ناکامی پر برہم ہیں۔

واضح رہے کہ تین دن سے عراق میں بد عنوانی، شہریوں کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی اور بے روزگاری کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، اس دوران پولیس کی فائرنگ سے متعدد لوگ ہلاک اور 200 سے زاید زخمی ہو چکے ہیں۔

گزشتہ روز مشتعل مظاہرین نے سڑکوں پر جلاؤ گھیراؤ کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی، تحریر اسکوائر پر سیکورٹی فورسز کی جانب سے مظاہرین پر آنسو گیس اور آبی توپوں کا استعمال کیا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ عراقی پولیس نے مظاہرین کو گرین زون میں جانے سے روکنے کے لیے براہ راست فائرنگ، شیلنگ اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں