او آئی سی کا مقبوضہ کشمیر کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار

اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مقبوضہ وادی سے فوری طور پر کرفیو اور دیگر پابندیاں ہٹا دے۔

او آئی سی سیکرٹریٹ سے جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت کا خاتمہ بھارت کا یکطرفہ اقدام ہے، جسے وہ تسلیم نہیں کرتی۔

او آئی سی کے اعلامیہ کے مطابق اسلامی ممالک کی تنظیم کشمیر  کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق  متنازعہ علاقہ تسلیم کرتی ہے۔
او آئی سی یقین رکھتی ہے کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہی ممکن ہے۔

او آئی سی سمٹ میں شریک اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کے کئے گیےپچھلے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ تنظیم کشمیری عوام سے بھر پور یکجہتی کا اظہار کرتی ہے اور بھارت سے کرفیو اور مواصلاتی پابندیاں اٹھانے کا مطالبہ کرتی ہے۔

او آئی سی نے کشمیر کو پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ علاقہ تسلیم قرار دیتے ہو اس مسلہ کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی  روشنی میں مستقل اور انصاف پر مبنی حل پر زور دیا ہے۔

او آئی سی نے پاکستان اور بھارت پر زور دیا ہے کہ وہ مسٔلہ کشمیر کو حل کرنے کے لیے فوری مذاکرات کا آغاز کریں، کیونکہ  مسلے کا حل ہی جنوبی ایشیاء میں ترقی، امن اور استحکام  کا ضامن ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں