لاہور: ہاؤسنگ سوسائٹی میں فی گھر 2 درخت لگانا لازمی قرار

لاہور ہائی کورٹ نے ہر ہاؤسنگ سوسائٹی میں فی گھر دو درخت لگانے کو لازمی قرار دے دیا۔

جسٹس جواد حسن نے شیخ عاصم کی درخواست پر 78 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا جس میں درخت نہ لگانے والی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نقشے منظور نہ کرنے کا حکم دیا گیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق درخت کاٹنے والوں کو بھاری جرمانے ہوں گے اور درخت نہ لگانے والی فیکٹریوں کی این او سی منسوخ کردی جائے گی۔

جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ درخواستوں پر نمبر لگانا اور اس کا خیال رکھنا متعلقہ محکموں کے افسران کی ذمہ داری ہوگی اور وہ درخت لگانے کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کریں گے۔

فیصلے میں حکومت پنجاب سے متعلق کہا گیا کہ پنجاب حکومت زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کے حوالے سے آگاہی مہم چلائے اور درختوں کے حوالے سے متعلقہ قوانین میں نظرثانی کریں۔

عدالت نے درخت لگانے اور کاٹنے کے لیے متعلقہ اتھارٹی سے رجوع لازمی قرار دیا۔

عدالتی فیصلے کے مطابق رجسٹرار کوآپریٹو تمام ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں درخت لگانے کے حوالے سے واضح احکامات جاری کرنے کے پابند ہوں گے اور محکمہ جنگلات اور پی ایچ متعلقہ اداروں کو درختوں کے بارے سہولت فراہم کریں۔

جسٹس جواد حسن نے فیصلے میں کہا کہ تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، پارکنگ سمیت عوامی مقامات پر بھی درخت لگائے جائیں تاہم غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ پاکستان کے مستقبل کا معاملہ ہےاس لیے زیادہ سے زیادہ درخت لگائے جائیں۔

علاوہ ازیں عدالتی فیصلے میں درخت لگانے کے حوالے سے حکومتی پالیسی کو سراہا گیا۔

سماعت میں وفاقی حکومت کی جانب سے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل اف پاکستان سعدیہ ملک پیش ہوئیں جبکہ محکمہ ماحولیات، پی اینڈ ڈی، ایل ڈی اے اور پی ایچ اے کے نمائندے، سی ای او فاریسٹ اربن پالیسی، ایڈیشنل سیکرٹری جنگلات ،سمیت دیگر افسران پیش ہوئے۔

واضح رہے کہ عمران خان نے انتخابات سے قبل پارٹی منشور میں یہ واضح طور پر کہا گیا تھا کہ کامیابی حاصل کرنے پر پارٹی ملک بھر میں 10 ارب درخت لگائے گی۔

ملک میں جنگلات ختم ہو رہے ہیں۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے محفوظ رہنے اور ماحول کو بہتر بنانے کے لیے شجرکاری مہم ضروری ہے۔

پاکستان دنیا کے ان 7 ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہیں اور ان کے تباہ کن اثرات سے ہر سال ہلاکتوں میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے جہاں جنگلات تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں جنگلات صرف 2 سے 5 فیصد حصے پر مشتمل ہیں جو کہ اقوام متحدہ کے تجویز کردہ شرح 12 فیصد سے بہت کم ہے۔

ملک کا شمار ان پہلے 6 ممالک میں بھی ہوتا ہے جو گلوبل وارمنگ سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں