شجر کاری اور اس کی اہمیت، تحریر: ابوزر ایوب

پاکستان میں آنے والی حالیہ موسمیاتی تبدیلی ہم سب کے لئے ہی باعث تشویش ہے گرمیوں کا طویل ہونا سردی کا ایک دو ماہ تک محدود ہو جانا، کبھی خشک سالی تو کبھی بے وقت بارشوں کا ہونا ایسے عوامل ہیں جو نہایت توجہ طلب ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ آئندہ جنگیں پانی کے مسئلے پر ہوں گی مگر ہم نے مستقبل میں ایسی صورتحال سے نمٹنےکے لئے بھی کوئی حکمت عملی ترتیب نہیں دی ۔ اور نہ ہی پانی کے ذخیرے بنائے ہیں بلکہ سالہا سال سے ہماری سوئی کالا باغ ڈیم پر ہی اٹکی کھڑی ہے ۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک میں پانی کی قلت اور بجلی کا مہنگا اور نایاب ہونا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ مگر ایسا بھی نہیں ہونا چاہیئے کہ ہم تمام تر ذمہ داری حکومتی ایوانوں پر ڈال کر خود بری الذمہ ہو جائیں۔ مہذب معاشروں میں کچھ ذمہ داریاں اس کے شہریوں پر بھی عائد ہوتی ہیں۔

درخت لگانے کو شجرکاری کہتے ہیں۔ شجر کاری مہم کی کافی اہمیت ہے۔ جیسا کہ انسانوں اور جانوروں کی زندگی میں درختوں کا بہت عمل دخل ہے۔ مثلا آکسیجن کے اعتبار سے درخت بہت اہمیت کے حامل ہیں۔ اسی طرح اگر یہی درخت پھلدار ہوں تو ان کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ اسی طرح درخت آلودگی سے پیدا ہونیوالی بیماریوں کی روک تھام کا باعث بنتے ہیں۔ اور سیلاب کے پانی کی روک تھام میں بھی ان کا کلیدی کردار ہوتا ہے۔

درختوں سے انسان کو بہت سے فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں ۔ یہ فائدے معاشی بھی ہیں اورمعاشرتی بھی اگر ہم معاشی فوائد کا ذکر کریں تو درختوں سے حاصل ہونے والی لکڑی انسان كے بہت کام آتی ہے۔ کبھی یہ فرنیچر بنانے كے لیے استعمال ہوتی ہے تو کبھی جلانے كے لیے. کبھی اِس کی شاخیں جانوروں كے چارے كے طور پر استعمال ہوتی ہیں تو کبھی اِس كے سوکھے پتے کھاد بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔ پھلوں کا حصول ہو یا بچوں كے کھلینے کا میدان ہر جگہ درخت ہی انسانوں کے کام آتے ہیں۔ درختوں سے انسان کثیر زَر مبادلہ بھی کماتا ہے ۔ اچھے معاشرے میں درختوں کی بہت قدر و قیمت ہوتی ہے۔ یہ تعلیمی اور تحقیقی مقاصد كے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور ادویات کی تیاری میں بھی۔

دنیا کا 31 فیصد حصہ جنگلات پر مشتمل ہے. معیشت دان کہتے ہیں کہ کسی بھی ملک میں جنگلات کل رقبہ کے 25 فیصد تک ہونے چاہیے پاکستان میں جنگلات کا کل رقبہ ایک اندازے کے مطابق 05.31 فیصد ہے. جنگلات ہمارے ماحول کو آلودگی سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں. زمینی کٹاؤ، سیلاب گرمی سردی سے بھی محفوظ رکھتے ہیں ۔ پاکستان میں جنگلات کی رقبہ کے لحاظ سے کوئی بڑی تعداد نہیں ہے اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک کے ساتھ ساتھ صنعتی ملک بھی ہے اس کی پیداوار کا بہت بڑا حصہ لکڑی کی چیزیں بنا کر پورا ہوتا ہے. پاکستان میں اسی نظریہ کو دیکھتے ہوئے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں درخت کاٹ دیے جاتے ہیں اور مختلف قسم کی اشیاء کی تیاری میں لگا دیے جاتے ہیں۔

حدیث رسول:
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو مسلمان بھی کوئی درخت یا کھیتی لگاتا ہے تو اس سے کوئی پرندہ ، انسان یا چوپایہ کھائے گا تو اس کا ثواب اس درخت یا کھیتی لگانے والے کو ملے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں