دہشتگردی کے خلاف پاکستان کو 150 ارب ڈالر اور 80 ہزار جانیں گنوانا پڑی, وزیراعظم کا جنرل اسمبلی سے خطاب

وزیراعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ورچوئل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

 عمران خان نے کہا کہ نئی دہلی جموں وکشمیرتنازعہ کےمعاملے پرخودساختہ آخری حل کی طرف بڑھ رہاہے اور بھارت مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدلنا چاہتا ہے۔

وزیراعظم عمران خان نےکہا کہ حریت رہنماسید علی شاہ گیلانی شہیدکی نمازجنازہ  میں شرکت کے لیے اہل خانہ کو روکا گیا جبکہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا  اور کئی سینئر رہنماؤں کو قید کیا ہوا ہے ۔

انہوں نےکہا کہ بھارت کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جنیوا کنونشن کے خلاف ہیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ امن کا خواہشمند ہے جبکہ جنوبی ایشیا میں امن کا دارو مدار مسئلہ کشمیر کے حل میں ہے۔

‘اسلامو فوبیا جیسے رجحان کا ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے’

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ 11ستمبر کے بعد کچھ حلقو ں نے اسلام کودہشت گردی سے جوڑ ا جس کی وجہ سے دائیں بازو کی انتہا پسندی بڑھی جبکہ اسلامو فوبیا جیسے رجحان کا ہم سب کو مل کر مقابلہ کرنا ہے۔

اس کے علاوہ ان کا کہنا تھا افغانستان کے معاملے پرامریکا اور یورپ کے کچھ رہنماؤں نے پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا جبکہ افغان جنگ میں پاکستان نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا اس کے علاوہ پاکستان میں اس وقت 30 لاکھ افغان پناہ گزین ہیں۔

‘افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے’

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو 150 ارب ڈالر کانقصان ہوا جبکہ 80 ہزار سے زائد جانیں قربان کیں اور افغانستان کے بعد اگر کوئی ملک متاثر ہوا ہے تو وہ پاکستان ہے۔

اس کے علاوہ عمران خان نے کہا کہ دنیا کو اس وقت کورونا، معیشت اور موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کاسامنا ہے جبکہ پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے زیادہ متاثرہ ملکوں میں سے ایک ہے۔

عمران خان نے مزیدکہا کہ قابل تجدید توانائی کا حصول اور جنگلات کا تحفظ ہماری ترجیحات ہیں اور درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے دنیا کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔

انہوں نےکہا کہ پاکستان اب تک کورونا پر بڑی حد تک قابو پانے میں کامیاب رہا اور اسمارٹ لاک ڈاؤن کورونا کے خلاف ہماری منصوبہ بندی کا محور رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں