سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی حکومت اور بیوروکریسی پر برس پڑے, الٹم میٹم دے دیا

سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی کی حکومت پر کڑی تنقید،کہتے ہیں کہ حکومت کیوں اپنی گورنرنس بہتر نہیں کر رہی تین سال تیرلے منتوں سے نکال دئیے دو سال رہے گئے ہیں اب حکومت کو اپنی کارگردگی دکھانا ہوگی،،،،پنجاب اسمبلی نے استحقاق تحفظ ترمیمی 2021 دوبارہ متفقہ طور پر منظور کرلیا

پنجاب اسمبلی کا اجلاس دو گھنٹے 15 منٹ کی تاخیر سے سپیکر چوہدری پرویز الہی کی زیر صدارت شروع ہوا۔سپیکر نے اجلاس کے آغاز میں ہی وقفہ سوالات موخر کرتے ہوئے استحقاق تحفظ ترمیمی بل 2021 پیش کرنے کا حکم دیا۔ق لیگ کے رکن اسمبلی ساجد احمد نے بل ایوان میں پیش کیا۔جسے ایوان نے متفقہ طور منظور کر لیا۔اس موقع پر سپیکر نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بل پر گورنر پنجاب نے میڈیا کے حوالے سے اعتراضات اٹھائے تھے جنہیں دور کر دیا گیا ہے۔اب گورنر کے دستخط کی ضروت نہیں رہی،بل کا مقصد ممبران کا تحفظ یقینی بنانا ہے۔ہم نے وہ کام کیا جسے تاریخ یاد رکھے گئی۔اب حکومت کو اپنی گورنرنس بہتر کرنا ہوگا۔

ایوان سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر حسن مرتضی نے کہا کہ سیاستدان بیوروکریسی کیلئے ان کی من مرضی کی پارلیمان سے قانون سازی کرتے ہیں لیکن بیورکریٹ انہیں سیاسدانون کو اںتقام نشانہ بناتے ہیں۔جب تک سول سپر میسی اور پارلیمنٹ کو تسلیم نہیں کیا جائے گا ملک ترقی نہیں کر سکتا ہے۔نوکری سے پہلے بیورکریٹ کے اثاثے چیک کریں ملک قرضہ اور ملک کے چوریوں کا پتہ چل جائے گا۔لیگی رکن سمیع اللہ خان نے کہا بل پر مذاہمت نظر آ رہی ہے اس کی سمجھ آتی ہے۔بیوروکریسی کے کہنے پر گورنر نے بل واپس بیجھا،اسمبلی کی تاریخ میں بل واپس بیجھنے کے واقعات بہت کم ہوتے ہیں۔

پنجاب اسمبلی نے قرشی یونیورسٹی ترمیمی بل 2021 بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا۔تاہم وزیر قانون راجہ بشارت اور صوبائی وزیر راجہ یاسر ہمایوں نے بل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ بل کی کاپی ایوان میں کسی کو نہیں دی گئی کاپی کے بغیر بل کیسے منظور ہو سکتا ہے۔جس پر سپیکر نے کہا کہ بل پر حکومتی اعتراضات کو کیمٹی میں دور کر دیا گیا تھا۔جس کے بعد سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہی نے اجلاس 6 اگست جمعہ کی صبح 9 بجے تک ملتوی کر دیا

اپنا تبصرہ بھیجیں