وزیر خارجہ کا کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل اور یو این سیکرٹری جنرل کو خط

وزیر خارجہ کا مقبوضہ کشمیر سے متعلق حالیہ پریشان کن خبروں کو اجاگر کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو خط لکھ دیا

اس حوالے سے ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ وزیر خارجہ کا خط اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب نے نیو یارک میں سلامتی کونسل کے صدر کے حوالے کیا۔ وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو خط لکھا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا خط میں ان رپورٹس پر پاکستان کی تشویش سے آگاہ کیا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں مزید غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات کرنے پر غور کر رہا ہے۔

زاہد حفیظ چوہدری نے کہا کہ رپورٹس کے مطابق مقبوضہ جموں کشمیر کے حصے بخرے کرنے کے لیے مذید تقسیم اور آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے جیسے ناجائز اقدامات کرنا چاہتا ہے۔
خط میں مقبوضہ کشمیر کے مسلسل فوجی محاصرے کی طرف توجہ مبذول کروائی گئی ہے ، جو بائیس ماہ سے جاری ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ فوجی محاصرے مقصد کشمیریوں کے انسانی حقوق کی مجموعی اور منظم خلاف ورزیوں سمیت بڑے پیمانے پر جبر کے ذریعے ان کے جائز مطالبات کو دبانا ہے۔
5 اگست 2019 کو بھارت کی غیرقانونی اور یکطرفہ کارروائیوں کے بعد سے ، بھارتی قابض افواج نے سیکڑوں کشمیریوں کو قتل ، تشدد ، آزادانہ طور پر گرفتار اور نظربند کیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ پوری کشمیری قیادت سیمیت ہزاروں افراد جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ جعلی ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے اجراء جیسے دیگر اقدامات کے ذریعہ مقبوضہ کشمیر کے آبادیاتی ڈھانچے کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی ڈھانچے میں تبدیلی کا مقصد کشمیری عوام کی حق خود ارادیت کے مطالبے کو کمزور بنانا ہے ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں 1951 سے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کر رہا ہے ۔5 اگست 2019 کو اور اس کے بعد شروع کیے گئے اقدامات بھارت کی اسی پالیسی کا حصہ ہیں ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت کی جانب سے یکطرفہ تبدیلیاں ، سلامتی کونسل کی قرار دادوں اور چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی متصور ہوں گی ۔ مقبوضہ جموں کشمیر کے لوگوں نے بھارت کی طرف سے عائد غیر قانونی اقدامات کو بھرپور انداز میں مسترد کردیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے تنازعہ پر اپنی قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اپنی ذمہ داری پوری کرے۔
وزیر خارجہ نے سلامتی کونسل سے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ بھارت سے مطالبہ کرے کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جبر کی اپنی مہم کو ختم کرے بھارت پر زور دیا جائے کہ وہ 5 اگست 2019 سمیت اپنی تمام غیر قانونی کارروائیوں کو واپس لے ۔

ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ بھارت سے کہا جائے کہ وہ مقبوضہ جموں کشمیر میں کسی بھی طرح کی یکطرفہ تبدیلیوں کو مسلط کرنے سے باز رکھے۔
وزیر خارجہ نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ پاکستان بھارت سمیت اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے۔ اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق تنازعہ جموں و کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیاءمیں پائیدار امن اور استحکام کے لیے ضروری ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں