فلسطین کے مسئلے کی طرح مارچ 2022 میں مسئلہ کشمیر بھی دنیا کے سامنے رکھوں گا، وزیر خارجہ قریشی

خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان کے عوام کو فخرہونا چاہئے کہ فلسطین کے مسئلہ پروزیراعظم عمران خان نے واضح اور دو ٹوک موقف اختیار کیا۔ مارچ 2022 میں مسئلہ کشمیر دنیا کے وزرائے خارجہ کے سامنے رکھونگا۔فلسطین اورکشمیر کے مسئلہ پرپوری قوم ایک ہے۔ افغانستان کے نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزرسے کہا ہے کہ وہ پاکستان کے بارے میں اپنے رویہ پر نظر ثانی کریں ۔ ورنہ کوئی با ضمیر پاکستانی نہ ان سے ہاتھ نہیں ملاۓ گا اور نہ ان سے گفتگو کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان اور میں نے ہمیشہ کابل کا دورہ قیام امن کیلئے کیا۔ ان کی گفتگو سے میرا خون کھول رہا ہے۔یہ شخص سپائلر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ کان کھول کر سن لیں ہم استحکام اور امن کی بات کر رہے ہیں۔ پاکستان نے فلسطین کامقدمہ پوری دنیا کے سامنے پیش کیااورپاکستان کی کوششوں کے نتیجے میں ہی اسرائیل جنگ بندی پرآمادہ ہوا،فلسطینیوں پرمظالم رکوانے کے لئے پاکستان

کاکردارکلیدی تھا۔فلسطین میں نہتے فلسطینیوں کی شہادتیں ہوئیں۔مجھے فلسطین کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ غزہ میں 25 منٹ میں 125 بم گرائے گئے۔ جس پر پوری دنیا نے آواز اٹھائی۔سوشل میڈیا کے ذریعے پوری دنیا میں یہ بربریت بے نقاب ہوئی۔پوری دنیا میں ایسا ماحول بن گیا کہ نہ چاہتے ہوئے بھی اسرائیل کو جنگ بندی اختیارکرنا پڑی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز مسئلہ فلسطین پر کامیاب سفارت کاری کے بعداسلام آباد سے ملتان پہنچنے پر شاہ رکن عالم انٹر چینج پر استقبال کرنے والے پی ٹی آئی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ‘ صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی اور پی ٹی آئی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا استقبال کیا۔انہوں نے کہا میرے سی این این کے انٹرویو کو ایک منصوبے کے تحت سبوتاج کرنے کی کوشش کی گئی ۔ لیکن میں اپنے موقف پر ڈٹ گیا اور اپنے ملک کے موقف کا بھر پور دفاع کیا۔ یہودی لابی نے مجھ پر حملہ کیا تو پوری قوم اور لاکھوں کروڑوں لوگوں نے میرا دفاع کیا۔میرے انٹرویو کو 48گھنٹے میں تیس لاکھ لوگ دیکھ چکے تھے اور انہوں نے میرے موقف کی تائید کی۔انہوں نے کہا او آئی سی اور عرب لیگ کے پلیٹ فارم سے کیس اقوام متحدہ کے سامنے رکھا- اقوام متحدہ کے فورم پر کھڑے ہوکر کہا کہ میری نگاہ غزہ پر بھی ھے اور کشمیر پر بھی ہے۔پاکستان کی متفقہ قرارداد نے ثابت کیا کہ فلسطین اور کشمیرپر قوم ایک ہے۔ اسرائیل نے فلسطینیوں پرمظالم کی انتہاکردی،نہتے فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلی گئی ،پاکستان نے ہرپلیٹ فارم پرفلسطینیوں کامقدمہ لڑا۔اوآئی سی کے اجلاس میں ان کی وکالت کی ،عرب لیگ اوراقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ہنگامی اجلاس میں بھی ہم نے آوازبلند کی۔انہوں نے کہاکہ اوآئی سی کااجلاس ابھی جاری تھاکہ ہمیں کامیابی ملی اوراسرائیل جنگ بندی پرآمادہ ہوگیا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ صرف امت مسلمہ ہی نہیں پوری دنیا نے اسرائیلی جارحیت کی بھرپورمذمت کی۔دنیابھرمیں اسرائیل کے خلاف مظاہرے کئے گئے۔انہوں نے کہاکہ فلسطین کی طرح کشمیر میں بھی انسانی حقوق پامال کئے جارہے ہیں وہاں بھی لوگوں پرزندگیاں تنگ کی جاچکی ہیں۔وزیرخارجہ نے مزید کہاکہ فلسطین کے مسئلے پرپارلیمنٹ نے بھی متفقہ قراردادوں کے ذریعے مجھے مضبوط کیا۔قومی اسمبلی اورسینٹ میں اس موقع پرمتفقہ قراردادیں منظورکی گئیں۔وزیرخارجہ نے کہاکہ افغانستان میں امن واستحکام کے لئے ہماری کاوشیں جاری رہیں گی۔انہوں نے کہا افغانستان کے مسئلہ پر تہمتیں لگانے والے بھی قائل ہوگئے کہ یہ مذاکرات کے ذریعے حل ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے دور میں ہمیں گرے لسٹ کا تحفہ ملا ۔ کچھ طاقتوں نے سیاسی بنیادوں پرہمیں ایف اے ٹی ایف کے کٹہرے میں لاکر کھڑا کرنے کی کوشش کی۔ایف اے ٹی ایف کے پاس پاکستان کو مزید گرے لسٹ میں رکھنے کا جواز نہیں رہ گیا۔ لیکن عمران خان کی کوششوں سے ہم گرے لسٹ سے باہر آ رہے ہیں۔ اگر ہمارے سروں پر سیاسی تلوار نہ لٹکائی گئی تو اگلے ماہ ہم گرے لسٹ کو ختم کروانے کیلئے میدان مار کر دکھائیں گے۔انہوں نے کہا پی ڈی ایم میں نظریہ،سوچ اور منشور ایک نہیں لیکن مقصد ایک ہے کہ بند گلی سے فرار ہو کر این آ راو حاصل کرکے جو کھا یا ہے اسے ہضم کیا جائے۔میں صدقے تمہارے ہاضمے پر، آنے والا مورخ لکھے گا کہ کمال یہ ہے کہ نمائندگی حزب اختلاف کی اورووٹ سرکار کا ۔ سبحان اللہ پی ڈی ایم کو ملتان کے چراغ سے آگ لگی۔ اس گھر کو ملتان کے چراغ سے آگ لگ گئی ۔ حالانکہ ملتان نے ہمیشہ سیاسی جدوجہد میں ہراول دستہ کا کردار ادا کیا ہے۔ اور آئندہ کی سیاسی نگاہیں بھی ملتان کی طرف ہیں ۔صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک نے کہا حلقہ این اے 157 اور ملتان کے عوام نے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا والہانہ استقبال کرکے ثابت کردیا ہے کہ انہوں نے اسرائیلی جارحیت کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کی آزادی کیلئے جو تاریخی جدوجہد کی ہے وہ ان کا عظیم کارنامہ ہے۔ شاہ محمود قریشی نے وزیراعظم عمران کے ویژن کےمطابق پاکستان کا مقدمہ اقوام عالم میں بھرپور طریقے سے بیان کیا ۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج فلسطین میں سیز فائر ہو چکا ہے۔ اور ہم کشمیر کا مقدمہ بھی جلد جیت جائیں گے۔ کیونکہ یہ ثابت ہو گیا ہے کہ این اے 156 کی طرح این اے 157 بھی مخدوم شاہ محمود قریشی کا حلقہ ہے۔ قبل ازیں وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اسلام آبا دسے شاہ رکن عالم انٹر چینج پر پہنچے توسینکڑو ں لوگوں نے استقبال کیا جبکہ سابق ایم این اے بیگم نسیم چودھری سمیت حلقہ این اے 157 کے عوام کی جانب سے بڑی تعداد میں استقبالیہ بینرز لگائے گئے۔ جن میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔ بعد ازاں گرین لینڈ میرج ہال ملتان میں میڈیا سے گفتگو و تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے واضح طور پر کہا پاکستان امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو اڈے نہیں دے گا۔ اس سلسلے میں غلط افواہیں پھیلائی جار ہی ہیں جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔حکومت پاکستان اور تمام اداروں کی متفقہ رائے ہے کہ ہمیں پاکستان کے مفادات کا تحفظ کرناہے اور کر کے رہیں گے۔ قوم کوقیادت پر اعتماد ہوناچاہئے۔ قیاس آرائیوں پر اعتماد نہیں کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا ہم مسئلہ کشمیر کو نظر انداز نہیں کرسکتے۔ ہم بھارت کے ساتھ امن کے ساتھ تعلقات چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہمیں امید ہے ترین گروپ بجٹ کی منظوری میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالے گا ۔ صوبائی اور وفاقی بجٹ آرام سے پاس ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کرونا کی وجہ سے دنیا بھر کی معیشت متاثر ہوئی ہے۔ ہمار ے ہمسایہ ملک بھارت کی معیشت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس کے برعکس پاکستان کی معیشت میں واضح بہتری آ رہی ہے۔ وزیراعظم کے ویژن کی بدولت کرونا کا بہتر انداز میں مقابلہ کیا ۔ پاکستانی معیشت کی شرح نمو 4 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ شرح نمو میں بہتری کے ساتھ غربت اور بے روزگاری کا خاتمہ اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا کرپشن نے اس ملک کی جڑوں کو کمزور کیا ہے۔ عمران خان کا کرپشن اور کرپٹ مافیا کے خلاف واضح موقف ہے اور انہو ں نے واضح انداز میں کہا ہے اپنا ہے یا پرایہ، احتساب سب کا ہوگا۔ انہوں نے کہا اپوزیشن کی سیاست پر کوئی پابندی نہیں ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اندر بھی تقسیم ہے ۔عوام کافی باشعور ہو چکے ہیں۔ اور وہ ملکی حالات کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا ہماری ترجیح مہنگائی کو کنٹرول کرنا اور عوام کو ریلیف دینا ہے۔ایک اور سوال کے جواب میں انہو ں نے کہا سندھ کے اندر گورنس کے ایشو کو ہٹانے کیلئے پانی کا مسئلہ چھیڑا جا رہا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر توانائی ڈاکٹر اختر ملک ‘صوبائی معاون خصوصی حاجی جاوید اختر انصاری‘صوبائی پارلیمانی سیکرٹری اطلاعات ندیم قریشی‘ مخدوم شعیب اکمل ہاشمی‘ رانا عبدالجبار ‘ خالد جاوید وڑائچ ‘ طارق محبوب و پی ٹی آئی کارکنوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس موقع پر موجود تھی#

اپنا تبصرہ بھیجیں