جنوبی ایشیاء میں امن و استحکام کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ضروری، صدر جنرل اسمبلی اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر وولکن بوزکر نے دورہ پاکستان کے دوران وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ فلسطین پر قراداد پر بے عملی اقوام متحدہ اور سکیورٹی کونسل کی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

اسلام آباد میں نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے بھی انہوں نے خطاب کیا اور کہا کہ کورونا ویکسین امیر اور غریب ممالک کی یکساں ضرورت ہے، کورونا کے سدباب کے لیے پاکستان نے جو کیا اس پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستانی حکومت کے اقدامات کے حوصلہ افزا نتائج آرہے ہیں۔

اس موقع پر فلسطین کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی نے پچھلے ہفتے فلسطین کی صورتحال پر میٹنگ بلائی، اس میٹنگ کا مقصد تھاکہ سکیورٹی کونسل کی خاموشی اور ڈیڈلاک کا ازالہ کیا جاسکے، اس موقع پر انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ سکیورٹی کونسل میں بھی اس اہم اور ضروری مسئلے پر متفقہ آواز سنائی دے گی۔

وولکن بوزکر کا مزید کہنا تھا کہ اسرائیل کی جانب سے ہونے والے حملوں کے نتیجے میں انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہوئی جس میں سینکڑوں فلسطینیوں کی جانیں چلی گئیں

اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ نے بھی فلسطینیوں کےحقوق کے لیے مضبوط مؤقف اور حمایت کا اظہار کیا، انہوں نے کہا کہ اس وقت مذاکرات کی فوری ضرورت ہے تاکہ اسرائیلی قبضے کو ختم کیا جاسکے، دو خود مختار ریاستوں کا قیام عمل لانے کے لیے مذاکرات کی فوری ضرورت ہے، مشرق وسطیٰ میں امن کی بحالی تک یواین جنرل اسمبلی آرام سے نہیں بیٹھےگی۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ مجھے جموں کشمیر کی صورتحال کا بھی بخوبی علم ہے، اندازہ ہے کہ اس صورتحال میں ایک عام پاکستانی کشمیر کے حوالے سے کیا محسوس کرتا ہوگا، میں نے ہمیشہ فریقین پر زور دیاکہ زمینی حقائق کو تبدیل نہ کیا جائے، ہمیشہ کہا کہ متنازع علاقے کی حیثیت کو بدلنے سے گریز کیا جائے، تنازع کشمیر بھی اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ مسئلہ فلسطین ہے، بطور صدر جنرل اسمبلی میں انڈیا، پاکستان پر زور دیتا ہوں کہ اس مسئلےکے پر امن حل کے راستے پر چلیں کیونکہ جنوبی ایشیامیں امن و استحکام اور خوشحالی کا دار و مدار پاک بھارت تعلقات کی بحالی پر ہےاس لیے جنوبی ایشیا میں امن واستحکام کے لیےضروری ہے کہ تنازع کشمیر کاحل نکالیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں