شہری نمازِ عید کے بعد ہاتھ ملانے اور گلے ملنے سے گریز کریں, این سی او سی

وفاقی وزیر اسد عمر کی زیر صدارت این سی او سی کا اجلاس ہوا جس میں معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کی بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی گئی

اجلاس میں 8 سے 16 مئی تک شہریوں کی نقل و حرکت محدود کرنے کے لیے نافذ حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا جبکہ وباء کا پھیلاؤ روکنے کے لیے ایس او پیز کے اطلاق کے لیے قومی سطح پر کاوشیں تیز کرنے کی ہدایت بھی جاری کر دی گئیں

اس موقع پر این سی او سی کی ایس او پیز کے اطلاق کے لیے قوم سے اکٹھے اور مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہنے کی اپیل بھی کی گئی

اجلاس میں عید الفطر کے حوالے سے ایس او پیز کی بھی منظوری دے دی گئی

این سی او سی کی عید کے حوالے سے جاری ایس او پیز کے مطابق منتظمین کی جانب سے عیدالفیطر کی نماز کا بندوبست کھلی جگہوں پر کیا جائے, مسجد میں نماز کی ادائیگی کی صورت میں کھڑکیاں اور دروازے کھلے رکھے جائیں

این سی او سی کا کہنا ہے کک ایک ہی مقام پر 2 یا 3 بار نماز عید کی ادائیگی سے سماجی فاصلوں کی خلاف ورزیوں پر قابو پایا جاسکتا ہے، این سی او سی کی خطیب سے نماز عید کا خطبہ مختصر رکھنے کی درخواست جبکہ گھر والوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا گیا کہ بیمار، بزرگ اور 15 سال سے کم عمر بچوں کی نماز عید کی مسجد میں ادائیگی کی حوصلہ شکنی کی جائے

ہدایات کے مطابق دوران نماز ماسک کا استعمال اور 6 فٹ کا فاصلہ یقینی بنایا جائے، مساجد میں سینٹائزرز اور تھرمل سکینر کا استعمال بھی یقینی بنایا جائے،

این سی او سی کی جانب سے شہریوں کو اپنے ساتھ اپنے جائے نماز لانے کی درخواست

ہدایات میں کہا کہ نماز عید کے بعد شہری ہاتھ ملانے یا گلے ملنے سے پرہیز کریں، شہری نماز سے پہلے اور بعد میں رش کی صورتحال سے گریز کریں، مساجد کے باہر کورونا ایس او پیز کے حوالے سے بینرز لگانے کی بھی ہدایات

اپنا تبصرہ بھیجیں