این ڈی ایم اے کے تمام معاملات گڑبڑ ہیں, چیف جسٹس گلزاد احمد

سپریم کورٹ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت کے دوران این ڈی ایم اے کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے سخت ریمارکس بھی دئیے

چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی تو
دوران سماعت چیف جسٹس گکزار احمد نے ریمارکس دیے کہ حکومت سندھ نے اپنی رپورٹ میں تعلیم، صحت اور دیگر شعبوں میں خطیر رقم کا ذکر کیا ہے اس حوالے سے جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ جتنے پیسے آپ نے خرچ کرنے کا بتایا سندھ کو تو پیرس بن جانا چاہیے تھا

اس موقع پر دوران سماعت چیف جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا سندھ حکومت کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں 2013 اور 2017 میں تعلیم پر 2 ہزار 6 ملین ڈالر خرچ ہوئے اگر ایسا ہوا ہے تو اب تک تو سندھ کے تعلیمی اداروں کو ہارورڈ بن جانا چاہیے تھا نہ صرف اتنا بلکہ سندھ میں اسکولوں کی صورت میں محلات تعمیر ہو جانے چاہیے تھے اور شرح تعلیم 100 فیصد ہونی چاہیے تھی، سندھ میں سارا پیسہ تنخواہوں میں جاتا ہے

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ایڈووکیٹ جنرل سندھ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ ایڈوکیٹ جنرل سندھ عدم پیشی پر تحریری جواب 15 دن میں جمع کروائیں۔

جسٹس گلزار احمد کا ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا سے مکالمہ کرتے ہوئے کہنا تھا کہ خیبرپختوخوا حکومت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں کورونا کیسز کی شرح میں کمی آئی ہے، کیا خیبرپختونخوا کورونا کی تیسری لہر سے کم متاثر ہوا ہے؟

ایڈووکیٹ جنرل کے پی شمائل بٹ نے بتایا کہ کورونا وائرس کی تیسری لہر نے خیبرپختونخوا کو بری طرح متاثر کیا ہے، کورونا کی تیسری لہر میں چند شہروں میں شرح 40 فیصد سے بڑھ گئی تھی، جس کی وجہ سے این سی او سی کے احکامات اور صوبائی قیادت کے فیصلوں کے پیش نظر خیبر پختونخوا کے چند شہروں میں مکمل لاک ڈاؤن لگانا پڑا تھا۔

شمائل بٹ نے بتایا کہ خوش قسمتی سے خیبر پختونخوا میں تین چار دن میں کورونا کیسز میں واضح کمی آئی ہے۔

چیف جسٹس نے این ڈی ایم اے کی رپورٹ غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے ریمارکس دیے کہ این ڈی ایم اے کے سارے معاملات گڑبڑ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ نجی کمپنی کو این 95 ماسک کی فیکٹری لگوائی گئی، فیکٹری کے لیے ساری مشینری اور ڈیوٹیز کی ادائیگی نقد کی گئی، چارٹرڈ جہاز کے ذریعے مشینری منگوائی اس کی ادائیگی بھی نقد ہوئی جبکہ اس حوالے سے دیگر معاملات بھی مشکوک دکھائی دیتے ہیں

چیف جسٹس پاکستان نے استفسار کیا کہ چین میں پاکستانی سفارتخانے کے ذریعے کیوں خریداری کی گئی؟ کیا چین میں پاکستانی سفارتخانہ خریداری کے لیے استعمال ہوتا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ چارٹرڈ جہاز بھی سفارتخانے کے ذریعے ہی کروایا گیا، کیاچین میں پاکستانی سفیر خریداری ہی کرتے ہیں یا ڈپلومیٹک کام بھی؟ یہ بہت بری صورتحال ہے۔

سپریم کورٹ نے کورونا ازخود نوٹس کیس کی سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں