بھارتی سیکورٹی فورسز کی ایک بار پھر ورکنگ باؤنڈری پر بِلااشتعال فائرنگ, دفترِ خارجہ کا احتجاج

پاکستان نے بھارتی بارڈر سیکیورٹی فورسز کی طرف سے جان بوجھ کر ورکنگ باونڈری پر ممنوعہ حرکات پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے،

زرائع کے مطابق بھارتی بی ایس ایف نے 3 مئی کو صبح پانچ بجکر چھپن منٹ پر چاروا سیکٹر پر جنگ بندی کی بلااشتعال خلاف ورزی کی،
چاروا سیکٹر مقبوضہ کشمیر کے جموں سیکٹر کے بالمقابل ہے.

زرائع کا بتانا ہے کہ پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن کو وزارت خارجہ نے اس حوالے سے احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے،
مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بی ایس ایف کی پوسٹ جو جموں سیکٹر میں اسکوائر9530 پر واقع ہے سے پاکستانی چاروا سیکٹر پر چھوٹے اسلحہ کے 30 راونڈ فائر کئے گئے، مراسلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بلااشتعال پاکستانی پوسٹ جو اسکوائر9630 پر واقع ہے پر 60 ملی میٹر مارٹر کے 4بم بھی فائرُ کئے گئے، مراسلہ کے مطابق یہ واقعہ اس وقت ہوا جب بی ایس ایف کے 15 اہلکاروں نے 3ٹریکٹرز پر پاکستانی علاقے میں ہل چلانے کی کوشش کی

زرائع کے مطابق پاکستان رینجرز پنجاب کے جوانوں نے سپیکر اور سیٹیوں کے ذریعہ بی ایس ایف کو واپس جانے کے لئے کہا تو بھارتی بی ایس ایف کی طرف سے چھوٹے ہتھیاروں اور مارٹرزسے بلا اشتعال پاکستانی پوسٹ پر فائر کئے گئے، بی ایس ایف کی طرف سے پاکستانی پوسٹ پر جانی نقصان پہنچانے کے لئے اسنائپر شاٹ بھی مارا گیا،

وزارت خارجہ کے مطابق حیرت کی بات ہے کہ الٹا بھارتی میڈیا پر پاکستان پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات کی خبر چلنا شروع ہوگئی، مراسلہ کے مطابق بی ایس ایف کے اہلکاروں نے ورکنگ باونڈری کراس کرکے جارحانہ رویہ کا ارتکاب کیا.

مراسلے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی بی ایس ایف نے ایل او سی اور ورکنگ باونڈری پر امن کو سبوتاژ کرنے کے لئے دھڑلےسے مارٹرز کا استعمال کیا،

زرائع کے مطابق وزارت خارجہ نے زور دیا کہ دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کے درمیان 2021 میں ہونے والی مفاہمت کی یہ تشویشناک خلاف ورزی ہے، وزارت خارجہ نے بھارتی ہائی کمیشن پر زور دیا ہے کہ بھارت میں متعلقہ حکام سے رابطہ کرکےڈی جی ایم اوز کے درمیان مفاہمت بارے بی ایس ایف کے لاپرواہ رویہ سے آگاہ کرے

اپنا تبصرہ بھیجیں