کورونا وائرس؛ بی جے پی کو ریاستی انتخابات میں بدترین شکست کا سامنا

کورونا وائرس کی انڈیا میں تباہ کن صورتحال کے اثرات سامنے آنا شروع ہوگئے، شہریوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر سامنے آنے والی بدترین رپورٹس کی ذمہ داری بی جے پی پر ڈالتے ہوئے انتخابات میں فیصلہ سنا دیا گیا

بھارت کی 5 ریاستوں مغربی بنگال، تامل ناڈو، کیرالا، آسام اور پڈوچیری کے ودھان اسمبلی کے انتخابات میں مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کو 3ریاستوں میں بدترین شکست کا سامنا ہے جبکہ دو ریاستوں میں انتخابی اتحاد کے باعث بہ مشکل سبقت حاصل کرسکی ہے

بھارتی میڈیا کے مطابق مغربی بنگال میں ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس، تامل ناڈو میں درا ویدیئن پروگریسیو فیڈریشن، کیرالہ میں لیفٹ ڈیموکریٹک فرنٹ جبکہ آسام اور پڈوچیری میں بی جے پی کی سربراہی میں قائم انتخانی اتحاد ’نیشنل ڈیموکریٹک الائنس‘ نے بمشکل میدان مارا ہے

سب سے اہمیت کا حامل مغربی بنگال کا الیکشن تھا جہاں مجموعی طور پر 292 نشستوں میں 185 پر وزیراعلیٰ ممتا بنرجی کی جماعت ترنمول کانگریس نے کامیابی حاصل کرکے مودی کو شکست کی دھول چٹادی۔ بی جے پی 104 نشستیں جیت کر دوسرے نمبر پر رہی۔
دوسرا بڑا انتخابی معرکہ تامل ناڈو میں ہوا جہاں 234میں سے 138 نشستوں پر ’ڈی ایم کے‘ نے فتح کے جھنڈے گاڑ دیے جبکہ اپوزیشن جماعت نے 92نشستوں پر کامیابی حاصل کی۔ اس ریاست میں بی جے پی نہ ہونے کے برابر رہی۔
اسی طرح کیرالہ میں 140نشستوں کے لیے مقابلہ تھا جو بائیں بازو کی جماعت لیفٹ ڈیموکریٹک فیڈریشن نے 81 نشستیں جیت کر اپنے نام کرلیا۔ یہاں بی جے پی کے 30 سے زائد سیاسی جماعتوں کے انتخابی اتحاد کو صرف 3 نشستیں مل سکیں۔
آسام میں بی جے پی کے انتخابی اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس نے 77 نشستوں پر کامیابی حاصل کی جب کہ یونائیٹڈ پروگریسیو الائنس نے 48سیٹیں اپنے نام کیں اسی طرح پڈوچیری میں 30 میں 17 نشستیں مودی کے اتحاد اور 11 یونائٹڈ پروگریسیو الائنس نے حاصل کیں۔
دوسری جانب بھارت ميں گزشتہ 24گھنٹوں کے دوران 3لاکھ 70 ہزار سے زائد نئے کيسزرپورٹ ہوئے جبکہ 3ہزار 442 افراد انتقال کرگئے۔
بھارت کے دارالحکومت دہلی میں اب بھی ہسپتال مسلسل مدد مانگ رہے ہيں جہاں لوگوں کا آکسيجن کا ملنا محال ہے، لوگ بے يارومددگار ہيں۔ ماہرين نے کہا ہے کہ وائرس ميں مزيد باريک ميوٹيشنز سامنے آرہی ہيں۔ جو مزيد تباہ کُن ثابت ہوئیں ہیں

اپنا تبصرہ بھیجیں