ورلڈ پریس ڈے, مظلوم کی آواز بننے والے مظلوم صحافیوں کا دِن

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ’’ ورلڈ پریس فریڈم ڈے ‘‘ بھرپور انداز میں منایا جا رہا ہے۔ اس دن کی مناسبت سے ملک بھر میں نمائندہ صحافتی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، ریلیوں اور مختلف تقاریب کا اہتمام کیا جائے گا۔

پاکستان میں موجودہ حکومت کی پالیسیز کی وجہ سے مالی مسائل سے دوچار صحافیوں کی جانب سے کئی شہروں میں مظاہرے اور احتجاجی تقاریب کا اہتمام کیا گیا, اس موقع پر متاثرہ صحافیوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت صحافیوں کے لیے خصوصی جاب سٹرکچر کی منظوری دے جس کے تحت صحافی کے لیے ماس کمیونیکشن کی تعلیم لازمی قرار دیکر اُن کی مخصوص تنخواہ, پے سکیل سمیت دیگر مراعات کو یقینی بنایا جائے

آزادی صحافت کا عالمی دن منانے کا مقصد پیشہ وارانہ فرائض کی بجا آوری کیلئے پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا کو درپیش مشکلات، مسائل، دھمکی آمیز رویوں اور صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے متعلق دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔

آزادی صحافت کے عالمی دن کی مناسبت سے ملک بھر میں نمائندہ صحافتی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، ریلیوں اور مختلف تقاریب کا اہتمام کریں گی۔اس دن کے منانے کا مقصد دنیا میں پریس فریڈم کی موجودہ صورتحال، صحافتی فرائض کے دوران قتل، زخمی یا متاثر ہونے والے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے۔

یہ دن ہر سال 3 مئی کو منایا جاتا ہے جس کا آغاز 1993ء کو ہوا اور اس کی باقاعدہ منظوری اقوام متحدہ کے ادارے جنرل اسمبلی نے دی ہے۔ جس کے بعد سے آج تک ہر سال اس روز صحافتی تنظیموں کی جانب سے مطالبات کی منظوری کے لیے احتجاجی ریلیوں اور سیمینارز کا انعقاد کیا جاتا ہے تاہم تقریبا 28 سال گزرنے کے باوجود صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے کوئی قانون پاس نہیں کیا جاسکا جبکہ موجودہ حکومت کی جانب سے جن کے حوالے سے عام تاثر یہ ہے کہ عمران خان کو وزیراعظم بنانے والی بڑی طاقت میڈیا یے, یہ حکومت بھی میڈیا کے مسائل حل کرنے میں ناکام رہی

اپنا تبصرہ بھیجیں