قاضی فائز عیسی نظرثانی کیس کی سماعت, ججز کی آپس میں تکرار, جسٹس مقبول باقر اُٹھ کر چلے گئے

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظر ثانی کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے ججز کے درمیان آپس میں ہی تکرار ہو گئی جبکہ جسٹس مقبول باقر اٹھ کر چلے گئے۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں پر سماعت سپریم کورٹ کے جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 10 رکنی بینچ نے کی۔

وکیل حامد خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ ریفرنس ختم ہونے پر سپریم جوڈیشل کونسل غیر فعال ہو جاتی ہے، جسٹس عمر عطال بندیال نے کہا کہ کونسل غیر فعال نہیں ہوتی، اسے معلومات دی جا سکتی ہیں، جس پر حامد خان نے جواب دیا کہ کالعدم ہوئے ریفرنس پر کوئی کارروائی نہیں ہو سکتی۔

جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیے کہ عدالتی فیصلے میں ریفرنس کی بحالی کا کہیں ذکر نہیں، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کونسل ایف بی آر کے مواد کا جائزہ لے گی۔

حامد خان نے کہا کہ اہلیہ اور بچوں کے اثاثے سپریم جوڈیشل کونسل میں نہیں دیکھے جا سکتے تھے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ افتخار چوہدری کیس میں معاملہ ارسلان افتخار کا تھا، سپریم کورٹ ججز کے اہلخانہ سے متعلق آبزرویشن دے چکی ہے۔

آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس صرف عوامی عہدیداروں پر نہیں بنتا،جسٹس عمر عطا بندیال
جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس بھی صرف عوامی عہدیداروں پر نہیں بنتا جبکہ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ جج کے مؤقف سے اہلخانہ کے ساتھ کنیکشن بنے تو کیا عدالت جائزہ نہیں لے سکتی۔

حامد خان بولے کہ سپریم جوڈیشل کونسل مستقل قائم رہنے والا ادارہ نہیں ہے، از خود نوٹس لینا سپریم جوڈیشل کونسل کی صوابدید ہوتی ہے، سپریم جوڈیشل کونسل کو ازخود نوٹس کی ہدایت نہیں کی جا سکتی۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ آج کے دن تک ایف بی آر رپورٹ کا جوڈیشل کونسل نے جائزہ نہیں لیا، رجسٹرار کے پاس مواد موجود ہے جو کونسل کو پیش کر سکتا ہے، کیا سپریم جوڈیشل کونسل کو مواد پیش کرنے سے روکا جا سکتا ہے؟

فاضل جج نے کہا کہ جوڈیشل کونسل کہیں سے ملی معلومات پر بھی کارروائی کر سکتی ہے، جس پر حامد خان نے کہا کہ کونسل کے پاس موجود مواد سپریم کورٹ کے حکم پر جمع ہوا۔

جسٹس عمرعطا بندیال نے کہا کہ عام آدمی کی نسبت عوامی عہدہ رکھنے والے کی جانچ کا طریقہ کارسخت ہے، جسٹس فائز عیسیٰ اور اہلخانہ کے خلاف کرپشن کا مقدمہ نہیں ہے۔

ایڈووکیٹ حامد خان نے کہا کہ آئین پاکستان ججز کی مدت ملازمت کا محافظ ہے، آئین خود مختار عدلیہ کا دفاع کرتا ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ خود مختار عدلیہ اور مدت ملازمت کے تحفظ کے پیش نظر مکمل استثنیٰ نہیں دیا جا سکتا، عدلیہ کا وقار عوام کی نظروں میں بلند ہونا چاہیے، عدلیہ پر عوام کا مکمل اعتماد ہونا چاہیے۔

حامد خان نے دلائل میں کہا کہ جج مبہم الزام پر وضاحت کا پابند نہیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں کوئی غلطی ہوئی ہے تو تصحیح کریں گے۔

سپریم کورٹ کے پاس ایف بی آر کو ہدایات دینے کا اختیار نہیں تھا،وکیل حامد خان
وکیل حامد خان نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس ایف بی آر کو ہدایات دینے کا اختیار نہیں تھا، جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ کیا ریفرنس کالعدم ہونے سے حقائق بھی ختم ہو جاتے ہیں؟ سپریم کورٹ کے پاس آرٹیکل 184/3 کے تحت وسیع اختیارات ہیں، ہر شہری بیرون ملک جائیداد بنانے کا حق رکھتا ہے، لیکن عوامی عہدیدار اور عام فرد میں فرق ہوتا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ سچ کو سامنے لایا جانا چاہیے ناکہ چھپانا چاہیے، گزشتہ روز سرینا عیسیٰ نے بعض دستاویزات دکھائیں جس میں بڑی رقم باہر بھیجنے کی تفصیلات تھیں۔

حامد خان کے دلائل مکمل ہونے پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپ نے بہت ٹھوس اور اچھے دلائل دیے، بہت عرصے بعد اس عدالت میں قانونی دلائل سنے، یہ تعریف میں بینچ کے تمام معزز ممبران کے توسط سے کر رہا ہوں۔

جسٹس منظور ملک نے کہا کہ آپ کے دلائل بتا رہے ہیں کہ وکیل کو کیس میں اپنا مدعا کیسے بیان کرنا چاہیے۔

پی ایف یو جے اور سندھ بار کے وکیل رشید اے رضوی نے حامد خان کے دلائل اپنا لیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل کے دلائل پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ میری تقریر آئین، اسلام اور بنیادی حقوق سے متعلق تھی، آپ نے میری تقریر کو اسلام اور قرآن کے منافی کہا۔

جسٹس مقبول باقر نے کہا میں 50 بار کہہ چکا کہ کیس جلد ختم کریں، ہم دوسری سائیڈ کو بھی وقت کم ہونے کا کہہ چکے، جس پر جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایڈیشنل اٹارنی جنرل صاحب آپ دلائل جاری رکھیں، یہ کیا بات ہوئی کہ سینئر کا احترام نہیں۔

جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ عامر رحمان کے لیے وقت مقرر کریں یا دلائل پورے کرنے دیں، بار بار وکیل کو ٹوکتے رہے تو میں اٹھ کر چلا جاؤں گا، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ اٹھ کر تو میں بھی جاسکتا ہوں۔

حکومتی وکیل نے کہا کہ مناسب ہوگا عدالت 10 منٹ کا وقفہ کر لے، جس پر جسٹس مقبول باقر نے کہا کہ 10 منٹ کے وقفے سے کیا ہو گا؟ جسٹس مقبول باقر اٹھ کر چلے گئے۔

ایف بی آر کو ٹائم فریم دینے کا مقصد مقدمہ جلد نمٹانا تھا،ایڈیشنل اٹارنی جنرل
ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے اپنے دلائل میں بتایا کہ طریقہ کار میں کوتاہی کو بنیاد بنا کر نظرثانی اپیل سماعت کے لیے منظور نہیں کی جا سکتی، سپریم کورٹ کا ایف بی آر کو ٹائم فریم دینے کا مقصد مقدمہ جلد نمٹانا تھا، اس کیس میں تسلیم شدہ حقائق بھی موجود ہیں، ایف بی آر کا تحقیقات کے اختیار پر سوال نہیں اٹھایا گیا، عدالت نے ایک فیصلے میں تحقیقات کے لیے معاملہ متعلقہ فورم کو بھیجنےکا عدالتی اختیار تسلیم کیا۔

عامر رحمان کا کہنا تھا کہ سرینا عیسیٰ کے لیے متعلقہ فورم ایف بی آر ہی تھا، عدالت نے سرینا عیسیٰ کے خلاف کوئی حکم جاری نہیں کیا تھا، سماعت کی ضرورت کسی کے خلاف فیصلہ دینے کے لیے ہوتی ہے، کیس ایف بی آر کو بھجوانے سے پہلے بھی سرینا عیسیٰ کو سنا گیا۔

جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہا کہ وفاقی حکومت نے کوئی نظرثانی درخواست دائر نہیں کی، ایف بی آر کا معاملہ میری اہلیہ اور ادارے کے درمیان ہے، حکومت صرف کیس لٹکانے کی کوشش کر رہی ہے، حکومت چاہتی ہے جسٹس منظور ملک کی ریٹائرمنٹ تک کیس لٹکایا جائے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ سرینا عیسیٰ نے سماعت نا ہونے سے متعلق قانونی حوالے نہیں دیے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ میرے دلائل پر اعتراض کیا جا رہا ہے، ایسا ہی کرنا ہے تو ہم سے تحریری دلائل لے لیے جائیں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ دلائل پر اعتراض نہیں، ہمیں آپ کی معاونت چاہیے۔

عامر رحمان کا کہنا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے میرے کنڈکٹ پر بات کی ہے، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی بات غیرمناسب تھی۔ جسٹس منظور ملک نے کہا کہ عامر رحمان صاحب آپ اچھے انسان اور وکیل ہیں بات ختم کریں۔

جسٹس منصور علی شاہ نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ جس عدالتی فیصلے کا حوالہ دے رہے ہیں وہ زیر سماعت مقدمے سے مختلف ہے، جسٹس فائز عیسیٰ کے خلاف صدارتی ریفرنس اکثریتی ججز نے خارج کر دیا تھا، گھر بیٹھی جج کی فیملی کے خلاف کارروائی شروع ہو گئی۔

جسٹس منصور علی شاہ نے مزید کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ایف بی آر خود کارروائی شروع کر سکتی ہے یا نہیں، ہمیں معلوم نہیں، ایف بی آر نے جج صاحب کے اہلخانہ کے خلاف تحقیقات ہمارے حکم کی روشنی میں شروع کیں، صدارتی ریفرنس اے کے خلاف تھا اور کارروائی بی کے خلاف شروع ہو گئی، ایسے کیس کی قانونی مثال دیں کہ کیس خاوند کے خلاف ہو اور کارروائی اہلیہ کے خلاف ہو جائے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ آف شور جائیدادوں کے خلاف ایف بی آر کارروائی نہ کرتا تو توہینِ عدالت کا مرتکب ہوتا۔

جسٹس یحیٰ آفریدی نے ریمارکس دیے کہ سپریم جوڈیشل کونسل ایف بی آر کو تحقیقات کا حکم دیتا تو بات درست تھی، ایف بی آر کو تحقیقات کرنے کا حکم سپریم کورٹ کی طرف سے دیا گیا، سپریم کورٹ نے تو وہ اختیار استعمال کیا جو سپریم جوڈیشل کونسل کا اختیار تھا، ہمیں ان نکات پر معاونت فراہم کریں۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جب آپ پانی نا پی سکیں تو تازہ ہوا میں سانس کافی ہوتا ہے، روزے کی وجہ سے ہم بھی تازہ ہوا میں سانس لیکر آئے ہیں۔

‘جسٹس مقبول باقر بینچ کی محبوبہ ہیں’
ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر کو میری کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت خواہ ہوں، جس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ جسٹس مقبول باقر بینچ کی محبوبہ ہیں جبکہ جسٹس مقبول باقر بولے کہ آپ کی کوئی بات مجھے بری نہیں لگی۔

عامر رحمان کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 187 کے تحت سپریم کورٹ کے اختیارات پر بات کروں گا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے دوران سماعت بولنے کی کوشش جس پر جسٹس منظور ملک نے کہا کہ قاضی صاحب آپ کی بہت مہربانی بیٹھ جائیں، قاضی صاحب بار بار کارروائی میں مداخلت نا کریں۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ کہا جا رہا ہے کہ سرینا عیسیٰ کا کیس ایف بی آر کو نہیں بھیجا جاسکتا، سپریم کورٹ کے اختیارات پر عدالتی فیصلے موجود ہیں۔

سپریم کورٹ نے جسٹس فائز عیسیٰ نظرثانی درخواستوں کی سماعت کل صبح ساڑھے 10 نجے تک ملتوی کر دی

اپنا تبصرہ بھیجیں