انڈونیشیاء اور مشرقی تیمور میں سیلاب سے تباہی, درجنوں شہری جان سے گئے

انڈونیشیا اور پڑوسی ایسٹ تیمور میں بارش کے بعد آنے والے زبردست سیلاب نے بھاری تباہی مچا دی جس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے لیے مجبور ہونا پڑا ہے۔
انڈونیشیا اور پڑوسی ملک ایسٹ تیمور میں آنے والے زبردست سیلاب اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے اب تک کم از کم 75 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ درجنوں دیگر لاپتہ بتائے جاتے ہیں۔

سرکاری عہدیداروں نے پیر کے روز بتایا کہ سیلاب نے زبردست تباہی مچائی ہے۔ اس نے انڈونیشیا سے لے کر ایسٹ تیمور کو اپنی زد میں لے لیا ہے۔ اس کی وجہ سے ہزاروں افراد کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے کے لیے منتقل ہونا پڑا ہے۔ سیلاب اور چٹانیں کھسکنے کی وجہ سے ندیوں میں پانی کی سطح کافی اوپر پہنچ گئی ہے جس کی وجہ سے ہزاروں مکانات پانی میں ڈوب گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کو لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچانے میں کافی مشقت کرنی پڑ رہی ہے۔

انڈونیشیا کے ڈیزاسٹرمینجمنٹ ایجنسی کے ترجمان رادتیا جاتی نے میٹرو ٹی وی کو بتایا ”55 لوگوں کی موت ہوچکی ہے لیکن اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ 42 افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔”

ایسٹ تیمور کے ایک عہدیدار نے بھی بتا یا کہ کم از کم 21 لوگوں کی موت ہوچکی ہے۔ ایسٹ تیمور، انڈونیشیا اور آسٹریلیا کے درمیان واقع ایک چھوٹا سا ملک ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں