عرب اتحادیوں نے بھی جمال خاشقجی قتل کیس پر امریکی رپورٹ مسترد کر دی

سعودی عرب کے بعد اب عرب اتحادیوں نے بھی صحافی جمال خاشقجی سے متعلق امریکی رپورٹ مسترد کر دی ہے۔

متحدہ عرب امارات، عمان، بحرین اور کویت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی رپورٹ پر سعودی عرب کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔

 عرب امارات کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں سعودی عدالت کے فیصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار اور حمایت کا اعلان کیا ہے۔

بحرین کی وزارت خارجہ نے بھی اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ ایسی کسی بھی چیز کو مسترد کرتا ہے جو سعودی عرب کی خود مختاری کے خلاف ہو۔ 

دوسری جانب کویت کا اپنے بیان میں کہنا ہے کہ سعودی عرب کا خطے اور بین الاقوامی سطح پر تشدد اور انتہاپسندی کے خلاف اہم کردار ہے، جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق سعودی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے پہلے سعودی وزارت خارجہ نے جمال خاشقجی کے قتل سے متعلق امریکی انٹیلی جینس کی رپورٹ کو منفی اور غلط قرار دے کر رد کر دیا تھا۔

خاشقجی قتل کیس کا پس منظر

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ سے منسلک سعودی صحافی جمال خاشقجی 2 اکتوبر 2018 کو ترکی میں استنبول میں واقع سعودی قونصل خانے سے لاپتہ ہو گئے تھے جس کے بعد ان کو قتل کیے جانے کی تصدیق ہوئی تھی۔

بعد ازاں سعودی عرب کی جانب سے اس بات کا اعتراف کیا گیا تھا کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی استنبول میں واقع قونصل خانے میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

برطانوی میڈیا کے مطابق سعودی صحافی کو قتل کرنے کے بعد ان کی لاش کو بے دردی سے ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تھا جبکہ گمشدگی کے چند روز بعد جمال خاشقجی کے جسم کے اعضاء سعودی قونصلر جنرل کے گھر کے باغ سے برآمد ہوئے تھے۔بعدازاں سعودی عدالت نے صحافی جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث 8 ملزمان کو قید کی سزائیں سناتے ہوئے مقدمے کو ختم کردیاتھا تاہم گزشتہ سال مقتول صحافی کے لواحقین نے قاتلوں کو معاف کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد قانون کے تحت سزائیں کم کی گئی تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں