اسلام آباد: الیکشن کمیشن نے این اے 75 کا انتخابات کالعدم قرار دےدیا۔

الیکشن کمیشن نے حکم دیا ہےکہ حلقے میں الیکشن کے لیے سازگار ماحول نہیں تھا جس کے بعد الیکشن کو کالعدم قرار دیا جاتا ہے

الیکشن کمیشن نے حلقے میں 18 مارچ کو دوبارہ پولنگ کا حکم دیا ہے ۔

چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ الیکشن میں جو امیدواروں کو ماحول دیا گیا وہ منصفانہ نہیں تھا، یہ فری اور فیئر ماحول میں الیکشن منتخب نہیں ہوسکے تھے جس کی بنا پر اس الیکشن کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔

محمد زبیر کی گفتگو

الیکشن کمیشن کے فیصلے پر مسلم لیگ (ن) کے رہنما محمد زبیر کا کہنا تھا کہ دھاندلی کرنے کے لیے مکمل سازش کی گئی تھی لیکن حکومت کے حربے ناکام ہوئے، عمران خان سازش میں سب سے آگے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آج سے عدم اعتماد ہوچکا، ان کی حکومت کا دھڑم تختہ ہوچکا، کس کس نے سازش کی جب تک سامنے نہیں آئے گا،انصاف نہیں ہوگا۔

واضح رہے کہ این اے 75 ڈسکہ کے ضمنی الیکشن میں بدنظمی دیکھنے میں آئی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ 20 پولنگ اسٹیشنوں کے نتائج تاخیر سے ملنے پر الیکشن کمیشن نے اس حلقے کا نتیجہ روک لیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) نے این اے 75 کے پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا مطالبہ کیا تھا

اپنا تبصرہ بھیجیں