آغا سراج درانی کی ضمانت منسوخی کی درخواست پر نوٹسز جاری

سپریم کورٹ نے قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سندھ اسمبلی کے اسپیکر آغا سراج درانی کی ضمانت منسوخ کرنے کی درخواست پرفریقین کو نوٹسز جاری کردیے۔

آمدن سے زائد اثاثہ جات کیس میں نیب نے آغا سراج درانی کی ضمانت منسوخی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر رکھا ہے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی، جس میں نیب کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں ساری ذمہ داری نیب پر ڈال دی، ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا۔

نیب کا مؤقف تھا کہ آغا سراج درانی نے معلوم آمدن سے زائد ڈیڑھ ارب روپے کے اثاثے بنائے، ان کے اثاثوں میں قیمتی گاڑیاں ،اور گھڑیاں بھی شامل ہیں۔

وکیل کے مطابق 20اپریل 2019 کو آغا سراج درانی کے خلاف تحقیقات کی اجازت دی گئی تھی تاہم آغا سراج درانی اور ان کے اہلخانہ اپنے اثاثوں کے حوالے کوئی معقول معلومات نہ دے سکے۔

نیب وکیل کا مزید کہنا تھا کہ آغا سراج درانی کے ملازمین کے نام پر بھی کروڑوں روپے کی جائیدادوں کا لین دین کیا گیا ہے۔

نیب کی درخواست پر جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ نیب نے 9 مختلف افراد کی ضمانتوں کے خلاف درخواستیں دی ہیں، کیس میں تمام فریقین کو نوٹسز جاری کرنا ضروری ہے۔

چنانچہ عدالت عظمیٰ نے نیب کی درخواست پر آغا سراج درانی کے علاوہ 8 شریک ملزمان کو بھی نوٹس جاری کرکے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔

خیال رہے کہ نیب نے آغا سراج درانی، ان کی اہلیہ، بچوں، بھائی اور دیگر پر مبینہ طور پر غیر قانونی طریقوں سے بنائے گئے ایک ارب 61 کروڑ روپے کے اثاثے رکھنے کا الزام عائد کیا تھا۔

سپیکر سندھ اسمبلی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے مبینہ طور پر معلوم آمدن سے زائد منقولہ اور غیر منقولہ اثاثے بنانے کی تحقیقات کے سلسلے میں فروری 2019 میں اسلام آباد کی ایک ہوٹل سے گرفتار بھی کیا گیا تھا۔

بعدازاں 21 فروری کو انہیں کراچی کے احتساب عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ان کا ریمانڈ منظور کیا گیا اور اس میں کئی مرتبہ توسیع ہوئی۔

تاہم 13 دسمبر کو سندھ ہائی کورٹ نے ایک کروڑ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض آغا سراج درانی کی ضمانت منظور کرلی تھی تاہم اگلے ہی روز ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کرنے کا حکم بھی دیا۔

عدالت نے آغا سراج درانی کی گرفتاری پر نیب کے اقدام پر سوال اٹھایا اور اسپیکر سندھ اسمبلی کی گرفتاری اور ان کے گھر کی تلاشی کو بلاجواز قرار دیا تھا۔

علاوہ ازیں احستاب عدالت میں آم آغا سراج درانی اور اہلخانہ سمیت دیگر 18 افراد کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں سے متعلق ریفرنس بھی دائر ہے جس میں گزشتہ برس 30 نومبر کو ملزمان پر فرد جرم عائد کی گئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں