چین نے مائیک پومپیو سمیت 28 عہدیداران پر پابندیاں عائد کردی

چین نے ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ کے سبکدوش ہونے والے ریاستی سیکریٹری مائیک پومپیو اور 27 دیگر اعلی عہدیداروں کے خلاف ‘جھوٹ اور دھوکہ دہی’ کے الزام میں پابندیاں عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر جو بائیڈن کی نئی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنا چاہتا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق یہ اقدام چین کے غصے کی علامت ہے جو خاص طور پر مائیک پومپیو کی جانب سے اپنے عہدے کے آخری ایام میں چین پر اپنے ایغور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی کے الزام عائد کرنے کے رد عمل میں سامنے۔

چین کے حوالے سے یہ نظریہ جو بائیڈن کی جانب سے مائیک پومپیو کی جگہ منتخب کیے گئے انتھونی بلینکین بھی رکھتے ہیں۔

ٹرمپ کے دور میں واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کی تردید میں چینی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ان پابندیوں کا اعلان اس وقت کیا جب صدر جو بائیڈن صدارتی حلف اٹھا رہے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مائیک پومپیو اور دیگر نے ‘متعدد بے وقوفانہ اقدامات کی منصوبہ بندی کی، ان کو فروغ دیا اور پر عمل کیا جو چین کے اندرونی معاملات میں مداخلت تھے اور جس سے چین کے مفادات کو مجروح کیا گیا، چینی عوام کو ناراض کیا گیا، اور چین امریکا تعلقات کو شدید نقصان پہنچا’۔

پابندی کا سامنا کرنے والے دیگر سابق ٹرمپ عہدیداروں میں تجارتی سربراہ پیٹر نیارو، قومی سلامتی کے مشیر رابرٹ او برائن اور جان بولٹن، صحت کے سکریٹری الیکس آذر، اقوام متحدہ کے سفیر کیلی کرافٹ اور ٹرمپ کے سابق معاون اسٹیو بینن شامل ہیں۔

28 سابق عہدیداروں اور ان کے اہلخانہ کے افراد کو سرزمین چین، ہانگ کانگ یا مکاؤ میں داخلے پر پابندی ہوگی اور ان سے وابستہ کمپنیوں اور اداروں کو چین کے ساتھ کاروبار کرنے پر پابندی ہوگی۔

اٹلانٹک کونسل کے تھنک ٹینک کے پابندیوں کے ماہر برائن اوٹول نے چین کے اقدام کو انتقامی کارروائی اور ‘سیاسی بیان’ کے طور پر دیکھا۔

انہوں نے کہا کہ ‘مجھے شبہ ہے کہ وہ کسی واضح پابندیوں کے بجائے کیس کے حساب سے مزید درخواستوں کو ڈیفالٹ کردیں گے’۔

امریکی صدر جو بائیڈن کی قومی سلامتی کونسل کے ایک ترجمان نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سابق عہدیداروں پر پابندیوں کا چین کا اقدام ‘غیر پیداواری اور مذموم’ تھا جس کی دونوں جماعتوں کے امریکیوں نے مذمت پر زور دیا ہے۔

جو بائیڈن کی قومی سلامتی کونسل کی ترجمان ایملی ہورن نے رائٹرز کو ایک بیان میں کہا کہ ‘حلف برداری کے روز یہ پابندیاں عائد کرنا تقسیم کرنے کی بظاہر ایک کوشش ہے’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘دونوں جماعتوں کے امریکیوں کو اس غیر پیداواری اور مذموم اقدام کی مذمت کرنی چاہیے، صدر جو بائیڈن دونوں فریقین کے رہنماؤں کے ساتھ مل کر امریکا کو چین کا مقابلہ کرنے کے کی پوزیشن میں لانے کے منتظر ہیں’۔

چین نے گزشتہ سال بھی امریکی قانون سازوں پر پابندیاں عائد کی تھیں ہیں تاہم سابق اور سبکدوش ہونے والے امریکی عہدیداروں کو نشانہ بنانا نفرت کا ایک غیر معمولی اظہار تھا۔

مائیک پومپیو نے منگل کے روز کہا تھا کہ چین نے ایغور مسلمانوں کے خلاف نسل کشی اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے جبکہ انتھونی بلینکین نے کہا تھا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘مرد، خواتین اور بچوں کو زبردستی حراستی کیمپوں میں رکھنا، انہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کے نظریہ کی پیروی کرنے کے لیے دوبارہ تعلیم دینے کی کوشش کرنا، یہ سب نسل کشی کرنے کی کوشش ہیں’۔

چین بار بار اپنے سنکیانگ خطے کے بارے میں لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کرتا رہا ہے جہاں اقوام متحدہ کے ایک پینل نے کہا ہے کہ کم از کم دس لاکھ ایغور اور دیگر مسلمانوں کو کیمپوں میں نظربند کیا گیا ہے۔

سنکیانگ کے الزامات کے جواب میں چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چونئنگ نے ایک میڈیا بریفنگ کو بتایا کہ ‘مائیک پومپیو نے حالیہ برسوں میں بہت سارے جھوٹ بولے ہیں اور چین کے لیے یہ محض ایک اور جھوٹ کا سامنا کرنے کے علاوہ کچھ نہیں’۔

اپنا تبصرہ بھیجیں