پی ڈی ایم کی جنگ کس کیلئے ہے، مولانا فضل الرحمٰن نے بتا دیا

حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کا کہنا ہے کہ ہماری جنگ پاکستان میں جمہوری فضاؤں کی بحالی کیلئے ہے۔

بلوچستان کے ضلع لورالائی میں حکومت مخالف اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کے سربراہ پی ڈی ایم مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ اجتماع دھاندلی کی حکومت کو مسترد کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہماری جنگ پارلیمنٹ کی خود مختاری اور قانون کی عمل داری کے لیے ہے، ملک کی تمام سیاسی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر ہیں، قوم ایک پلیٹ فارم پر ہے، عوام کا سمندر ہمارے جلسوں میں امڈ آتا ہے، یہ موجیں مارتا سمندر کوئی مقاصد، کوئی نظریہ رکھتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یاد رکھیں عمران خان کو تو جانا ہی جانا ہے، پاکستان کے مالک عوام ہیں یا کچھ طاقتور ادارے ہیں، یہ جعلی حکومت ہے، جعلی وزیرِ اعظم ہیں، انہیں تو عقل ہی نہیں ہے، ان کاکوئی نظریہ نہیں، کبھی کہتے ہیں کہ ریاست مدینہ ہونا چاہیئے، کبھی کہتے ہیں چینی نظام ہونا چاہیئے، کبھی کہتے ہیں ایرانی نظام کی ضرورت ہے، کبھی کہتے ہیں امریکی نظام ہونا چاہیئے، اب ایک چیز رہ گئی ہے کہ اب اسرائیل جیسی حکومت کی فرمائش کریں۔

انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ مودی کامیاب ہو جائے تو کشمیر کا مسئلہ حل ہو جائے گا، مودی کامیاب ہو گیا، مسئلہ حل ہو گیا، اس نے کشمیر پر قبضہ کر لیا، ہم نے گلگت بلتستان کو کشمیر سے الگ کر دیا، گلگت بلتستان کو صوبہ بنایا جا رہا ہے، قبائلی علاقوں کو صوبہ نہیں بنایا جا رہا۔

سربراہ پی ڈی ایم کا کہنا ہے کہ آج ہم آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہم نے پاکستان کو امریکی کالونی نہیں بننے دینا، ہمارے حکمرانوں میں خود اعتمادی نام کی چیز نہیں، آج ہماری مدد کرنے والا کوئی نہیں، پڑوسی ملک ہمارا ساتھ نہیں دے رہے، افغانستان ہمارا ساتھ دینے کیلئے تیار نہیں، چین پاکستان سے ناراض ہے۔

انہوں نے کہا کہ افغانستان کی معیشت ترقی کر رہی ہے، ایران کی معیشت ہم سے طاقتور ہے، پورے خطے میں ایک پاکستان ہے جس کی معیشت ڈوب رہی ہے، ملک کی معیشت کا کباڑہ کر دیا گیا ہے، خدا جانے کیسے ٹھیک ہو گی۔

پی ڈی ایم کے سربراہ کا کہنا ہے کہ فارن فنڈنگ کیس میں بھارت، یورپ اور اسرائیل سے پیسہ آیا، آج تمہاری پارٹی کا بانی رکن الیکشن کمیشن میں جا جا کر تھک گیا ہے، یہ پیسے کہاں سے آئے؟ الیکشن کمیشن حساب تو لے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ ملک میں صرف بالادستی عوام کی ہوگی، یہ دوسروں پر الزام لگا رہے ہیں کہ یہ چور ہیں اور وہ چور ہیں، آج لوگ کہہ رہے ہیں کہ پرانے چوروں کو واپس لاؤ تاکہ روٹی تو ملے، ان شاء اللّٰہ 19 تاریخ کو ہم الیکشن کمیشن کے سامنےاحتجاج کریں گے، 18 ویں ترمیم میں صوبوں کو حقوق دیئے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم دوبارہ صوبوں کا حق مرکز کو دینے کو تیار نہیں ہیں، آئین کہتا ہے کہ صوبے کے حصے میں اضافہ ہو سکتا ہے، کمی نہیں ہو سکتی، اسلام آباد کے گلی کوچوں میں آپ کے سوا کچھ نہیں ہونا چاہیئے، ہم اپنا جائز مطالبہ منوا کر رہیں گے، انہوں نے حکومت کرنا بہت آسان نوالہ سمجھا تھا، یہی نوالہ لوہے کا چنا ثابت ہوا۔

سربراہ پی ڈی ایم مولانافضل الرحمٰن نے یہ بھی کہا کہ ان کی شکل دیکھو اور ریاستِ مدینہ کی بات دیکھو، غریب آدمی کی قوتِ خرید جواب دے چکی ہے، آج ہماری مائیں بچوں کو بازار میں فروخت کر رہی ہیں، آج مائیں غربت کےباعث اپنے بچے نہروں میں پھینک رہی ہیں۔

مولانا فضل الرحمٰن سے قبل سیکریٹری جنرل جے یو آئی ف سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے لورالائی کے سرکاری باغ فٹ بال گراؤنڈ میں منعقدہ پی ڈی ایم کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان وسائل سے مالا مال ہے، مگر یہاں بھوک اور افلاس ہے۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان سے نکلنے والی گیس ملک کے چپے چپے میں پہنچ گئی مگر یہ صوبہ آج بھی گیس سے محروم ہے، بلوچستان کے لوگوں کا ہمیشہ استحصال ہوا ہے۔

مولانا عبدالغفور حیدری کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں مہنگائی کے ڈیرے ہیں، لوگ بھوکے سو رہے ہیں، ان شاء اللّٰہ پی ڈی ایم کی تحریک سلیکٹڈ کو گھر بھیج کر دم لے گی۔

اس سے قبل لورالائی میں منعقدہ پاکستان ڈیمو کریٹ موومنٹ (پی ڈی ایم) کے جلسے میں پیش کی گئی قرار داد میں ملک میں حقیقی جمہوریت کیلئے پی ڈی ایم کی تحریک کو تیز کرنے کی حمایت کی گئی۔

جلسے میں عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی رہنما رشید ناصر نے قرار دادیں پیش کیں جنہیں جلسے کے شرکاء نے منظور کیا۔

قرار دادوں میں کہا گیا ہے کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بیروزگاری اور مہنگائی کی ذمے دار موجودہ حکومت ہے۔

پیش کردہ قرار دادوں میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ بلوچستان میں ایف سی چیک پوسٹوں کو فوری ختم کیا جائے، جبکہ نیب کی جانب سے سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے کیسز ختم کیئے جائیں۔

پیش کردہ قرار داد میں اے این پی کے رہنماء اسد خان اچکزئی سمیت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں