میشا شفیع ہراسگی کیس سپریم کورٹ کا حیران کن فیصلہ

سپریم کورٹ نے 11 جنوری کو میشا شفیع کی جنسی ہراسانی سے متعلق ایک درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے اسے جنسی ہراسانی کے ازخود نوٹس کیس میں ضم کیا تھا۔

عدالت کی جانب سے میشا شفیع کی درخواست کو قابل سماعت قرار دیے جانے اور اسے ازخود نوٹس کیس میں ضم کیے جانے پر سوشل میڈیا پر کئی افراد نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے گلوکارہ کو مبارک باد پیش کی۔

میشا شفیع نے سپریم کورٹ میں دسمبر 2019 میں درخواست دی تھی کہ ان کی جنسی ہراسانی کی درخواست کو محتسب اعلیٰ پنجاب، گورنر پنجاب اور لاہور ہائی کورٹ نے تکنیکی بنیادوں پر مسترد کیا۔

درخواست میں کہا گیا تھا کہ تینوں اعلیٰ اداروں نے گلوکارہ کی درخواست کو ورک پلیس ایکٹ 2010 کے زمرے میں نہ آنے کی وجہ سے مسترد کیا تھا۔تحریر جاری ہے‎

گلوکارہ کی درخواست پر 11 جنوری 2021 کو سماعت ہوئی تو میشا شفیع کے وکلا نے عدالت کو دلیل دی کہ لازمی نہیں کہ جنسی ہراسانی کی شکایت کرنے والا شخص الزام لگانے والے کا ملازم ہو اور ورک پلیس ایکٹ 2010 کا قانون ہی تعلیمی اداروں میں بھی نافذ ہے۔

میشا شفیع کے وکلا کے دلائل کے بعد عدالت نے ریمارکس دیے کہ گلوکارہ کے وکلا کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات غور طلب ہیں اور عدالت نے علی ظفر کے وکلا سے تحریری جواب طلب کرلیا۔

عدالت کی جانب سے میشا شفیع کی درخواست کو پہلے سے ہی زیر سماعت جنسی ہراسانی ازخود نوٹس کیس میں ضم کیے جانے کے بعد کئی افراد نے سوشل میڈیا پر اسے میشا شفیع کی کامیابی قرار دیا اور لوگوں نے انہیں مبارک باد پیش کرنے سمیت ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔

زیادہ تر خواتین نے سپریم کورٹ کی جانب سے میشا شفیع کی درخواست کو ازخود نوٹس کیس میں ضم قرار دیے جانے کو گلوکارہ کی کامیابی قرار دیتے ہوئے ان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا۔

میشا شفیع کی وکیل نگہت داد نے سب سے پہلے ٹوئٹ کرتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ نے میشا شفیع کے وکلا کی درخواست منظور کرتے ہوئے گلوکارہ کے کیس کی سماعت منظور کرلی۔

نگہت داد نے لکھا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے کیس پر سماعت کا مقصد ہے کہ عدالت میشا شفیع کے وکلا کے قانونی سوالات کے مطابق کیس کی سماعت کرے گی۔

انہوں نے میشا شفیع اور اپنی ٹیم کے ارکان کو مبارک باد بھی پیش کی۔

میشا شفیع کی وکلا ٹیم میں شامل نور اعجاز چوہدری نے بھی سپریم کورٹ کے باہر کھچوائی گئی تصویر شیئر کرتے ہوئے ٹوئٹ کی کہ سپریم کورٹ نے گلوکارہ کی درخواست گورنر پنجاب کے فیصلے کے خلاف سماعت کے لیے منظور کرلی۔

انہوں نے لکھا کہ کیس میں ہراسانی کا شکار ہونے والی تمام خواتین اور طلبہ کے معاملات کو بھی دیکھا جائے گا۔

نگہت داد اور نور اعجاز چوہدری کی جانب سے ٹوئٹ کیے جانے کے فوری بعد کئی خواتین سمیت مرد حضرات نے بھی میشا شفیع کے کیس کو سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے منظور کیے جانے کے معاملے پر ٹوئٹس کیں اور زیادہ تر لوگوں نے اسے میشا شفیع کی کامیابی قرار دیا۔

کلاسیکل ڈانسر و خواتین کے حقوق کی رہنما شیما کرمانی نے اپنی سلسلہ وار ٹوئٹس میں میشا شفیع کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ خواتین کی کامیابی ہے اور ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ سماج میں خواتین سے نفرت آموز رویہ اب بھی جاری ہے۔

گلالئی اسماعیل نے بھی میشا شفیع اور نگہت داد کو مختصر ٹوئٹ میں مبارک باد پیش کی۔

عائشہ صدیقہ خان نے بھی ٹوئٹ کی اور بتایا کہ سپریم کورٹ نے میشا شفیع کی جانب سے دائر درخواست کو سماعت کے لیے منظور کردیا اور سماعت کے دوران جنسی ہراسانی کے قوانین کا جائزہ لیا جائے گا۔

انفرادی شخصیات کے علاوہ تنظیموں اور اداروں نے بھی میشا شفیع کی درخواست کو ازخود نوٹس کیس میں ضم کیے جانے پر ٹوئٹس کیں اور انہوں نے بھی میشا شفیع کو مبارک باد پیش کی۔

زیادہ تر افراد اور تنظیموں کی جانب سے کی جانے والی ٹوئٹس میں سپریم کورٹ کی جانب سے گلوکارہ کی درخواست کو ازخود نوٹس کیس میں ضم کیے جانے پر زیادہ لوگوں نے اسے گلوکارہ کی کامیابی قرار دیا اور لوگوں نے می ٹو اور جنسی ہراسانی سمیت میشا شفیع کے لیے انصاف جیسے ہیش ٹیگز بھی استعمال کیے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہمدردی کا اظہار کیے جانے اور مبارک باد دیے جانے پر میشا شفیع نے تمام افراد اور تنظیموں کا شکریہ بھی ادا کیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں