حریت رہنماﺅں اور تنظیموں کا اقوام متحدہ سے مطالبہ

غیر قانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس سمیت حریت رہنماوں اور تنظیموں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی کونسل کی قراردادیں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کرکے جنوبی ایشیا کو ایٹمی فلیش پوائنٹ میں تبدیل ہونے سے بچائے۔

تفصیلات کے مطابق کل جماعتی حریت کانفرنس کے جنرل سیکریٹری مولوی بشیر احمد نے کشمیری عوام کوحق خودارادیت کی ضمانت دینے والی5 جنوری 1949 ءکی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری کے 72 سال مکمل ہونے پر اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ کشمیری عوام کو حق خودارادیت کی فراہمی یقینی بنائے جس طرح اس نے مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کے عوام کو حق خود ارادیت کا حق دلایاتھا۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کاکوئی غیر قانونی اور غیر اخلاقی اقدام ان قراردادوں پر اثر انداز نہیں ہوسکتا۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو درپیش مشکلات پر عالمی ادارے کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے

۔مولوی بشیر احمد نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مظالم جاری ہیں اور لوگ روزانہ کی بنیاد پر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں لیکن عالمی برادری بھارت کے سامنے بے بس نظر آتی ہے۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی مذکورہ قرارداد کی روشنی میں جموں وکشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری اسی حق کے لئے نسل درنسل قربانیاں دیتے آرہے ہیں۔

جموں و کشمیرتحریک مزاحمت کے چیئرمین بلال احمد صدیقی نے کہا کہ ایک طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود مسئلہ کشمیرکا حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ساکھ پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ 5 جنوری 1949 کی اقوام متحدہ کی منظور کردہ قرارداد کشمیری عوام کی جدوجہد آزادی کو ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہے۔

بلال صدیقی نے افسوس کا اظہار کیا کہ عالمی ادارہ کشمیر کے بارے میں اپنی قراردادوں پر عمل درآمد کرانے میں بری طرح ناکام رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اقوام متحدہ کی اس مجرمانہ غفلت کی وجہ سے کشمیریوں کو بھارتی فورسز کے ہاتھوں نسل کشی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر تین ایٹمی طاقتوں پاکستان ، بھارت اور چین کے درمیان ایک جوہری فلیش پوائنٹ میں تبدیل ہوگیا ہے اور اس نے پورے جنوبی ایشیائی خطے کے امن و استحکام کو خطرے میں ڈال دیاہے۔

جموں وکشمیر مسلم لیگ کے قائم مقام چیئرمین عبدالاحد پرہ ، یاسمین راجہ ، جموں وکشمیر نیشنل فرنٹ ، جموں و کشمیر فریڈم فرنٹ اور تحریک وحدت اسلامی نے بھی اپنے بیانات میں مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قرارداد پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے جاری بھارت کی ہٹ دھرمی اور دھوکہ دہی کی پالیسی تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

جموں وکشمیر اسلامک پولیٹیکل پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین نثار احمد نے سرینگر میں پارٹی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر عالمی برادری اقوام متحدہ کی قراردادوں کو پامال کئے جانے اورجموں وکشمیر کو بھارت میں ضم کرنے جیسے جرائم پر خاموش نہ رہتی توآج کشمیریوں کا قتل عام نہیں ہورہا ہوتا۔

انہوں نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ جاگ جائے اور کشمیریوں کے وجود کو فنا ہونے سے بچائے۔

جموں و کشمیر ینگ مینز لیگ کے وائس چیئرمین زاہد اشرف نے تنازعہ کشمیر کے حوالے سے اقوام متحدہ کے دہرے معیار پر مایوسی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر سب سے پرانے حل طلب مسئلے کے حوالے سے مجرمانہ طرز عمل نے قابض بھارت کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ انسانی جانوں اور آزادی کے بنیادی حقوق کی قیمت پر اپنے توسیع پسندانہ اور سامراجی عزائم پر عمل پیرا رہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں