مودی حکومت نہتے کشمیریوں کے خلاف ایک بھیانک تاریخ رقم کر رہی ہے

غیر قانونی طوپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں تحریک وحدت اسلامی نے قابض بھارتی فوجیوں کی طرف سے بڑھتی ہوئی سفاکانہ کارروائیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نریندر مودی کی فسطائی حکومت نہتے کشمیریوں کے خلاف جرائم کی ایک بھیانک تاریخ رقم کر رہی ہے۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق تحریک وحدت اسلامی کے ترجمان نے سرینگر سے جاری ایک بیان میں کہا کہ سال 2020میں بھی مقبوضہ علاقے میں بھارتی ریاستی دہشت گردی انتہا پر رہی اور قابض بھارتی فوجیوں نے اس برس بھی کئی بیگناہ کشمیری نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں شہید کیا جس کی تازہ ترین مثال 30 دسمبر 2020 کو سرینگر کے نواحی علاقے لاوے پورہ ہوکرسر میں تین نوجوانوں کی ایک فرضی جھڑپ میں شہادت کی صورت میں سامنے آئی۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی کی ہندو توا حکومت کشمیریوں کو آزادی کی جدوجہد سے روکنے کیلئے ہر قسم کے ہتھکنڈے آزما رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ مزاحمتی رہنماﺅں ، کارکنوں اور نوجوانوں کو زیر عتاب لانے کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ہر اس کشمیری کو سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا جاتا ہے جو آزادی کی جدوجہد میں پیش پیش ہے۔

انہوں نے کہا کہ مودی حکومت آزادی پسند کشمیریوں کو ڈرانے ، دھمکانے اور انہیں جھوٹے مقدمات میں پھنسانے کیلئے اپنے بدنام زمانہ تحقیقاتی اداروں این آئی اے اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کا بھر پور استعمال کر رہی ہے جبکہ آزادی پسند رہنماﺅں کو تا حیات جیلوں میں رکھنے کیلئے انکے خلاف جھوٹے الزامات کے تحت بغاوت کے مقدمات قائم کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ مودی حکومت نے کشمیریوں کو زیر کرنے کیلئے جو جابرانہ پالیسی اپنا رکھی ہے اس سے اس پورے خطے کا امن داﺅ پر لگ گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری بھارت کے ساتھ رہنے کیلئے ہرگز تیار نہیں اور مودی حکومت کو یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ظلم و ستم اور چیرہ دستیوں سے قوموں کے جذبہ آزادی کو ہرگز مٹایا نہیں جاسکتا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں