پاک افغان بارڈر پہ 2600 کلومیٹر طویل باڑ لگانے کا کام 83% تک مکمل ہو چکا

پاک افغان بارڈر پہ 2600 کلومیٹر طویل باڑ لگانے کا کام 83% تک مکمل ہو چکا ہے جبکہ 2021 کے ابتدائی 6 مہینوں میں اس باڑ کا کام مکمل ہو جائے گا۔

پاکستانی فورسز نے ریکارڈ مدت میں یہ کام مکمل کرکے پاکستان کو بڑی حد تک محفوظ کر دیا ہے۔

اس باڑ کی تعمیر پہ 500 ملین ڈالر لاگت آئی ہے جبکہ اس کا کام 2017 میں شروع کیا گیا تھا۔

پاک افغان سرحد پہ لگائی گئی باڑ دو رکاوٹوں کی صورت میں لگائی گئی ہے جبکہ دونوں باڑوں کے درمیان خاردار تار بچھائی گئی ہے۔

یہ باڑ سخت زمینی راستوں اور اونچی چوٹیوں کے طویل سلسلے پہ مشتمل ہے جہاں سردی میں برفباری اور گرمی میں شدید گرمی دونوں ہی موسم اپنی شدت پہ ہوتے ہیں جبکہ سرحد پار سے دہشتگردوں کے حملہ کا بھی بہت حد تک خطرہ بنا رہتا ہے۔

پاک افغان بارڈر کے علاوہ پاک ایران بارڈر پہ بھی کام جاری ہے جس کے 900 کلومیٹر طویل بارڈر پہ 30 فیصد تک بقڑ کا کام مکمل ہو چکا ہے جبکہ مزید 70% کام 2021 کے آخر تک مکمل ہوجائے گا۔

جبکہ ان دونوں بارڈر پہ سینکڑوں کی تعداد میں چھوٹے بڑے قلعے بنائے جائیں گے جہاں پاک فوج کے جوان تعینات ہونگے جبکہ انہیں سینکڑوں کی تعداد میں ہائی ڈیفینشن کیمروں اور ڈرونز کی مدد حاصل ہوگی جو دن رات میں دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ منصوبہ آسان نہیں تھا، تمام موسموں اور ہر طرح کے خطرات سے لڑ کر پاک وطن کے جوانوں نے اس عظیم منصوبے کو ممکن بنایا جبکہ اس منصوبے کی تکمیل میں پاک وطن کے سینکڑوں بیٹے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرچکے ہیں لیکن انہوں نے پاکستان کو ہر صورت محفوظ بنانے کی قسم کھا رکھی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں