بابراعظم پر الزامات، خاتون نے مقدمے اندراج کیلئے عدالت سے رجوع کر لیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم کے خلاف سنگین نوعیت کے الزامات عائد کرنے والی حامزہ نامی خاتون نے اندراج مقدمہ کے لیے سیشن کورٹ میں درخواست دائر کردی، جس پر عدالت نے ایس ایچ او نصیرآباد سے رپورٹ بھی طلب کر لی ہے۔

دائر درخواستوں میں بابر اعظم، محمد اعظم، فیصل اعظم، کامل اعظم اور محمد نوید کو فریق بنایا گیا ہے۔

درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ سی سی پی او لاہور کو اندارج مقدمہ کی درخواست دی لیکن عملدرآمد نہیں ہوا۔

مزید پڑھیں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی بابراعظم پر جنسی تعلقات سمیت دیگر سنگین الزمات عائد

حامزہ مختار نامی خاتون نے سی سی پی او لاہور کو ایک درخواست میں فریق بناتے ہوئے کہا کہ ملزم بابر نے انہیں شادی کے بہانے 2012 سے مستقل جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا اور اس دوران وہ حاملہ بھی ہوئیں اور بعدازاں انہوں نے ملزم کی ایما پر اسقاط حمل بھی کروایا۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان کے خلاف پولیس میں ایف آئی آر کے اندرا ج کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اس سلسلے میں کوئی شکایت درج نہ کی۔

درخواست میں تھانہ نصیر آباد پولیس کو بابر اعظم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

مذکورہ درخواست پر ایڈیشنل سیشن جج نعمان محمد نعیم نے ایس ایچ او نصیر آباد سے رپورٹ طلب کر لی۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ ایس ایچ او بتائیں کہ درخواست گزار نے مقدمے کے اندراج کے لیے رابطہ کیا تھا یا نہیں، اگر کیا تھا تو کارروائی شروع کیوں نہیں کی گئی، مذکورہ معاملے میں مزید کوئی تفتیش کی گئی یا نہیں۔

اس کے علاوہ حامزہ مختار نے ہراساں کرنے کے خلاف بابر اعظم کے اہلخانہ کے خلاف بھی درخواست دائر کی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کے اہل خانہ انہیں ہراساں کر رہے ہیں لہٰذا عدالت انہیں ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دے۔

ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا خان نے ہراساں کرنے کی درخواست پر بھی جواب طلب کر لیا۔

عدالت نے ہراساں کرنے سے روکنے کا حکم دیتے ہوئے ایس پی کمپلینٹ سے 5 دسمبر کو جواب طلب کرلیا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں