کیا نیپال بھارت کا دوست بن پائے گا؟

پہلے انڈیا کی خفیہ ایجنسی ریسرچ اینڈ انالیسس ونگ (آر اے ڈبلیو یعنی را) کے سربراہ سامنت کمار گوئل اور پھر انڈین فوج کے سربراہ جنرل منوج مکنڈ نروانے یعنی حال ہی میں انڈیا کے دو بڑے عہدیدار نیپال کا دورہ کر چکے ہیں۔

س کے بعد چار نومبر کو جنرل منوج مکند نراونے نیپال پہنچے۔ انھیں نیپال کی فوج کے اعزازی جنرل کے خطاب سے نوازا گیا۔ انھوں نے اپنے تین روزہ دورے کے دوران نیپال کے اعلی عہدیداروں سے بھی ملاقات کی جبکہ جمعہ کے روز وہ نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی سے ملاقات کی۔

انڈیا اور نیپال کے مابین اپریل اور اگست سنہ 2020 کے درمیان سرحدی تنازعے کے حوالے سے بہت بیان بازی ہوئی جس کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی جاری ہے۔ اسی کے ساتھ نیپال نے اپنے نقشے میں کالا پانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا علاقے کو بھی دکھایا جس سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھی کیونکہ انڈیا ان علاقوں کو اپنا بتاتا ہے۔

لیکن مہینوں کی کشیدگی، سرحدی تنازعات اور بات چیت میں آنے والی کمی کے درمیان انڈیا کی دو سکیورٹی ایجنسیوں کے اعلی عہدیداروں نے نیپال کا جو دورہ کیا وہ انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔

نیپال میں کورونا وائرس کی وبا اب بھی بڑھ رہی ہے۔ بین الاقوامی سرحدیں بھی بند ہیں۔ لیکن گوئل اور نراونے پھر بھی نیپال پہنچے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دونوں ممالک سیاسی بات چیت کی راہ ہموار کرنے کی فضا تیار کر رہے ہیں۔ نیپال کے وزیر خارجہ پردیپ گوالی کو بھی امید ہے کہ یہاں سے بات چیت میں پیش رفت ہوگی۔

بی بی سی کے ساتھ ایک مختصر گفتگو میں گوالی نے کہا: ‘انڈیا کے وزیر اعظم کے نمائندے کی حیثیت سے بھارتی انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کی آمد اور انڈین فوج کے چیف کے دورے نے کچھ نئے حالات پیدا کیے ہیں۔ نیپال اور انڈیا کے درمیان اب بات چیت کا سلسلہ مزید آگے بڑھنے کی توقع ہے۔

انڈیا نیپال

مودی کے ‘تین پیغامات’

انڈین خفیہ ایجنسی ‘را’ کے سربراہ سامنت کمار گوئل نے اپنے دورے کے دوران نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی سے ملاقات کی۔ وزیر اعظم اولی کے مشیر برائے امور خارجہ راجن بھٹارائے کے مطابق ‘گوئل کے اس دورے سے دونوں وزرائے اعظم کے مابین پیغامات کا تبادلہ ہوا۔ اولی کو گوئل کے ذریعہ نریندر مودی کے تین پیغامات موصول ہوئے۔

بھٹارائے کے مطابق پہلا پیغام یہ تھا کہ ‘انڈیا دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں بہتری لانا چاہتا ہے۔’

دوسرا پیغام یہ کہ دونوں ممالک کے مابین کچھ حل طلب مسائل ہیں جنھیں بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جاسکتا ہے اور انڈیا کا خیال ہے کہ ‘ان امور کو پرامن طریقے سے حل کیا جاسکتا ہے۔’

اور تیسرا پیغام یہ تھا کہ ‘ان امور کو حل کرنے کے بعد انڈیا دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی بلندیوں پر لے جانا چاہتا ہے۔’

ماہرین مستقبل میں سیاسی دوروں کی توقع ظاہر کر رہے ہیں۔

انڈیا نیپال

کیا سیاسی دورے ہونگے؟

ماہرین کا خیال ہے کہ اب یہ عمل آہستہ آہستہ آگے بڑھے گا لیکن ابھی یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کہاں تک آگے بڑھے گا۔

بھٹارائی جنھیں کورونا وائرس کے وبا کی وجہ سے فوری طور پر سازگار حالات کی توقع نہیں انھوں نے کہا کہ ‘وہ کسی بھی مرحلے پر سیاسی دورے کی تیاریوں سے آگاہ نہیں ہیں۔’

بھٹارائی نے کہا ‘جب ماحول قدرے سازگار ہوجائے گا تو ہی مسائل حل کرنے پر توجہ دینے میں مدد ملے گی۔’

لیکن کچھ حلقوں میں ان دوروں سے بے چینی بھی پائی جاتی ہے۔ خاص طور پر ‘را ‘ کے سربراہ گوئل کے دورے سے۔ گوئل اور وزیر اعظم اولی کے درمیان ملاقات نے ان کی پارٹی سی پی این (ماؤ نواز) کے اندر ہلچل پیدا کر دی ہے۔ کچھ رہنما یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ پارٹی کی پالیسی اور فیصلے کے خلاف ہے۔

اسی طرح کچھ مبصرین نے تشویش کا اظہار کیا ہے کہ انٹیلیجنس اور فوجی سطح کے مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اور سفارتی تعلقات کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔

نیپال فوجی

‘فوجی سفارتکاری’ کا کیا کردار ہے؟

ایک زمانے میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا تھا کہ انڈیا کی ناکہ بندی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے ‘فوجی سفارت کاری’ کا استعمال کیا گیا تھا۔ اس وقت اولی نیپال کے اور مودی انڈیا کے وزیر اعظم تھے۔

اس وقت کے آرمی چیف راجیندر چھتری نے اپنے انڈین ہم منصب دلبیر سنگھ کے علاوہ انڈیا کے وزیر داخلہ اور قومی سلامتی کے مشیر سے بات کی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ‘اگر بات چیت کے دوران دونوں ممالک میں انڈیا مخالف یا نیپال مخالف جذبات پھیل رہے ہیں تو اس کا استعمال غیر ضروری عناصر کے ساتھ کیا جاسکتا ہے۔

تاہم اندرونی ‘ہوم ورک’ کے بعد اولی کے انڈیا کے دورے کا راستہ بند سرحد کے ساتھ کھولا گیا تھا۔

دلبیر سنگھ کو گورکھا رائفلز سے انڈین آرمی چیف بننے والا تیسرا فوجی افسر کہا جاتا ہے۔

ان کے بعد جنرل بپن راوت انڈیا کے چیف آف آرمی اسٹاف بنے جنھیں ریٹائرمنٹ کے بعد انڈیا کا چیف آف ڈیفنس اسٹاف مقرر کیا گیا۔ جنرل منوج مکند نراونے راوت کے بعد انڈیا کے آرمی چیف بنے۔

چند ماہ قبل نیپال میں انڈیا – نیپال سرحدی تنازع پر نراونے کے تبصرے پر شدید تنقید کی گئی تھی۔ لیکن بعد میں انھوں نے کہا کہ ‘نیپال کے ساتھ تعلقات ہمیشہ مستحکم ہوں گے۔’

انڈیا نیپال پرچم

نیپال اور انڈیا کا سرحدی تنازعہ: حالیہ پیش رفت

تین نومبر سنہ 2019 انڈیا کی جانب سے جموں و کشمیر اور لداخ کو دو مرکزی علاقوں میں تقسیم کرنے کے بعد ایک نیا سیاسی نقشہ جاری کیا گیا جس میں لیپولیکھ اور لمپیادھورا خطے کو انڈیاکا حصہ دکھایا گیا۔ نیپال ان علاقوں پر اپنا دعویٰ پیش کرتا ہے جبکہ انڈیا اس دعوے کو مسترد کرتا رہا ہے۔

سات نومبر سنہ 2019 نیکو پال حکومت نے واضح کیا کہ کالاپانی خطہ نیپال کا حصہ ہے۔

سات نومبر سنہ 2019 انڈین وزارت خارجہ نے کہا کہ اس نے نیپال کے ساتھ سرحد کو اپنے نئے نقشے میں نہیں جوڑا ہے۔

20 نومبر سنہ 2019 انڈیا کے نئے نقشے پر نیپال نے انڈین حکومت کو ایک ‘سفارتی نوٹ’ ارسال کیا یہ یاد دلاتے ہوئے کہ سوگولی معاہدے کے مطابق لمپیادھورا کے مشرق میں کلندی اور لیپولیکھ خطے نیپال کی سر زمین ہیں۔

10 اپریل سنہ 2020 کو انڈین وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے دھار چولہ لیپولیکھ خطے میں تعمیر کردہ کیلاش مانسوروور لنک روڈ نیٹ ورک کا افتتاح کیا۔ ان میں سے کچھ علاقوں پر نیپال اپنا دعوی پیش کرتا ہے۔ نیپال نے کہا کہ یکطرفہ سڑک کی تعمیر دونوں ممالک کے درمیان باہمی مفاہمت کے منافی ہے۔

27 اپریل سنہ 2020 انڈین وزارت خارجہ نے جواب دیا کہ سڑک کا جال اتراکھنڈ ریاست کے پتھورا گڑھ ضلع میں انڈین سرحد کے اندر ہے۔

سات جون سنہ 2020 نیپال کا نیا سرکاری سیاسی نقشہ نیپال کی وزرا کی کونسل نے جاری کیا جس میں نیپال نے اپنی سرزمین میں کالا پانی، لیپولیکھ اور لمپیادھورا کا علاقہ دکھایا۔

اطلاعات کے مطابق سامنت گوئل نو رکنی ٹیم کے ساتھ خصوصی چارٹرڈ طیارے سے نیپال پہنچے اور انھوں نے نیپال کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے بعد گوئل نے کہا کہ ‘انڈیا نیپال کے ساتھ دو طرفہ دوستانہ تعلقات میں کسی طرح کی مداخلت کی اجازت نہیں دے گا اور ہر تنازعے کو بات چیت کے ذریعے ہی حل کیا جائے گا۔’

بشکریہ: بی بی سی

اپنا تبصرہ بھیجیں