حکومت نے ترامیم کے بعد نئے سوشل میڈیا قوانین جاری کردیے۔

حکومت پاکستان نے سوشل میڈیا سے متعلق رواں برس کے آغاز میں جاری کیے گئے سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 میں ترامیم کے بعد نئے رولز جاری کردیے۔

وفاقی حکومت نے نئے قوانین کو رموول اینڈ بلاکنگ ان لا فل آن لائن کنٹینٹ (طریقہ کار کی نگرانی اور حفاظت) 2020 کا نام دیا ہے
حکومت کی جانب سے جاری کردہ ضوابط کے مطابق سوشل میڈیا سائٹس پر ہر طرح کے فحش اور نازیبا مواد کی اشاعت تا تشہیر پر پابندی ہوگی جب کہ غلط معلومات کے شیئر کرنے پر بھی پابندی لاگو ہوگی۔
قوانین کے مطابق سوشل میڈیا کمپنیاں پاکستان کی سلامتی، وقار اور دفاع کے خلاف ہر طرح کا مواد ہٹانے کی پابندی ہوں گی۔
قوانین میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی طرح کے دہشت گردی کے مواد کو براہ راست نہیں دکھایا جائے گا۔ 
سٹیزن پروٹیکشن (اگینسٹ آن لائن ہارم) رولز 2020 میں بتایا گیا تھا کہ سوشل میڈیا کمپنیاں کسی تفتیشی ادارے کی جانب سے کوئی معلومات یا ڈیٹا مانگنے پر فراہم کرنے کی پابند ہوں گی اور کوئی معلومات مہیا نہ کرنے کی صورت میں ان پر 50 کروڑ روپے کا جرمانہ عائد ہوگا۔
قواعد و ضوابط کے تحت اگر کسی سوشل میڈیا پلیٹ فارم کو تحریری یا الیکٹرانک طریقے سے ’غیر قانونی مواد‘ کی نشاندہی کی جائے گی تو وہ اسے 24 گھنٹے جبکہ ہنگامی صورتحال میں 6 گھنٹوں میں ہٹانے کے پابند ہوں گے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں