پاکستان امن کیلئے کھڑا ہے جس میں چند رکاوٹیں ہیں ان میں سے ایک 5 اگست کے بعد اٹھائے گئے اقدامات ہیں

معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ نے کہا کہ ہماری بنیادی مقصد امن ہے اور یہ بات واضح ہونی چاہیئے کہ پاکستان امن کے لیے کھڑا ہے جس میں چند رکاوٹیں ہیں ان میں سے ایک مقبوضہ کشمیر میں 5 اگست 2019 کے بعد اٹھائے گئے اقدامات ہیں جسے ایک جیل میں تبدیل کردیا گیا ہے، فوجی محاصرہ جاری ہے انسانوں کے ساتھ جانوروں والا سلوک کیا جارہا ہے۔

معاون خصوصی برائے قومی سلامتی معید یوسف نے کہا کہ بھارت کی پالیسی یہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں یہ بیانیہ پھیلا دیا جائے کہ کشمیر کا سودا ہوچکا ہے، یہ باب بند ہوچکا، آپ لوگ فضول میں لگے ہوئے ہیں اور پاکستان اس حوالے سے سنجیدہ نہیں ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران گزشتہ دنوں بھارتی میڈیا کو دیے گئے اپنے انٹرویو کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ 90 فیصد فیڈ بیک کے ساتھ یہ بھی لکھا ہوا دیکھا کہ پاکستان نے پہلی مرتبہ بھارت کو دو ٹوک جواب دیا ہے اس کا مطلب ہے کہ ماضی میں ہم اپنا مقدمہ ڈر ڈر کر پیش کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوال ہے کہ ڈرنے کی کیا بات ہے کیا کوئی چوری کی یا ڈاکا ڈالا حالانکہ وہ تو دوسرا ڈال رہا ہے، ہماری سرزمین اور خاص کر کشمیر میں جو انسانوں کے ساتھ جانوروں والا سلوک کیا جارہا ہے ڈرنا تو اسے چاہیئے۔

ان کا کہنا تھا کہ جتنی وضاحت سے ہم کہہ سکتے تھے ہم کہہ چکے ہیں کہ کشمیر سب سے بڑا مسئلہ ہے اور بھارت جو کچھ کررہا ہے تو اس میں کیا سودا ہوسکتا ہے، صرف ایک یہ کہ بھارت جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کررہا ہے وہ تمام اقدامات ختم کیے جائیں اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے متعلق فیصلہ کرلیں۔

معید یوسف نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں کیا حالات ہیں، فاروق عبداللہ جو بھارت کے حامی سیاستدان ہیں انہوں نے کہا کہ چینی ہم پر مسلط کردو لیکن بھارت سے ہمیں نجات دے دو۔

اپنے انٹرویو کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے بھارت کے کسی پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات اچھے نہیں چاہے وہ نیپال ہو، چین، بنگلہ دیش کہ پاکستان تو یا تو پورا خطہ ہی پاگل ہوگیا ہے یا مسئلہ آپ کا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ ہم نے ان سے اس لیے یہ کہا ہے کہ جو کچھ مقبوضہ کشمیر میں کیا گیا ہے اسے واپس درست کرنا ہی پڑے گا اس کی وجہ ہم نہیں بلکہ جو کچھ وہاں ہورہا ہے اس وجہ سے کرنا ہوگا، جب انسانوں سے جانوروں والا سلوک کیا جائے گا تو رد عمل تو آئے گا جو کہ آنے والا ہے اس لیے بہتر ہے کہ ہٹ دھرمی سے ہٹ کر بات چیت پر آجائیں۔

بات کو جاری رکھتے ہوئے معاون خصوصی نے کہا کہ بھارت ہمیشہ یہ کہتا تھا کہ پاکستان کشمیر پر بات کرنا چاہتا ہے لیکن ہم دہشت گردی پر بات کریں گے لیکن اس انٹرویو میں پاکستان کے مؤقف میں بڑی تبدیلی یہ آئی کہ آپ نہیں بلکہ میں دہشت گردی پر بات کرنا چاہتا ہوں۔

ان کا کہنا تھا کہ آرمی پبلک اسکول، چینی قونصلیٹ اور پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کے را سے تعلقات کے بارے میں ثبوت کے ساتھ بات کی تو انہیں اس کی توقع نہیں تھی اور نہ ہی اس سے قبل اس طرح بات ہوئی ہے کیوں کہ ہمارے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ انٹرویو کے بعد بھارت کی جانب سے کہا گیا کہ ہم نے پاکستان کو مذاکرات کی کوئی بات نہیں کی لیکن جو دہشت گردی کے الزامات تھے ان پر کوئی جواب نہیں دیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم واضح کرچکے ہیں کہ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن اس کے لیے مقبوضہ کشمیر میں آپ کو کیا کرنا پڑے گا اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی روکنی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ لے کہ ایک ملک ہے جس کی کسی ہمسایے کے ساتھ بات نہیں بنتی اور اس ملک کے اندر جو کچھ ہورہا ہے وہ بھی دیکھ لیں تو سمجھ آجائے گی کہ مسئلہ کیا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ پاکستان کا پیغام امن ہے، اس خطے کو آگے بڑھانا ہے خاص کر دنیا میں پاکستان کا بیانیہ تبدیل کرنا ضروری ہے جیسا کہ بھارت کا نعرہ ہے شائننگ انڈیا جسے دنیا نے دیکھ لیا کہ کتنا چمک رہا ہے، پاکستان کا بیانیہ اقتصادی سیکیورٹی ہے وہ ابھی تک دنیا نے تسلیم نہیں کیا جس پر ہمیں کام کرنا ہے۔

انہوں نے میڈیا سے کہا کہ جب آپ بات کریں تو یہ سوچ کر کریں کہ آپ ریاست کا حصہ ہیں، دنیا میں پاکستان کے حوالے سے 90 فیصد خبریں مقامی میڈیا سے اٹھا کر لگائی جاتی ہیں اس لیے میڈیا رپورٹنگ میں ریاست کا اعتماد نظر آنا چاہیئے۔

انہوں نے کہا کہ میرا ہدف ہے کہ آئندہ ایک سال میں دنیا کو پاکستان کا نیا بیانہ نظر آئے کہ یہ وہ ملک ہے جو اکنامک سیکیورٹی، ریجنل کنیکٹویٹی اور امن کی بات کررہا ہے اور اس جانب جانا چاہتا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ ہم دنیا کے لیے اپنی اکنامک بیسز دینے کو تیار ہیں، یہاں آئیں پراجیکٹس لگائیں ہمارے ساتھ کام کریں، ہم خود کہتے ہیں کہ ہم چھوٹی منڈی ہیں تو دنیا کا پانچواں چھٹا بڑا ملک چھوٹی منڈی کیسے ہوسکتا ہے ہمیں خود کو پر اعتماد بنانا ہوگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں