افغان سیکیورٹی فورسز کا طالبان کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز

لشگر گاہ: افغانستان کے جنوب میں عسکریت پسندوں کی جانب سے مسلسل 3 روز سے جاری لڑائی کے بعد افغان سیکیورٹی فورسز نے طالبان جنگجوؤں کے خلاف جوابی کارروائی کا آغاز کردیا ہے جبکہ اس پورے عمل سے افغان مذاکرات بھی ماند پڑتے نظر آرہے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق صوبہ ہلمند میں طالبان کا حملہ 19 سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے شروع ہونے والے مذاکرات میں حکومت کا امتحان ہے جبکہ یہ امریکی انتخابات سے قبل صدر ٹرمپ کے کرسمس سے پہلے تمام امریکی افواج کو واپس بلانے کے وعدے کے لیے بھی مشکلات کھڑی کرسکتی ہے۔

واضح رہے کہ جنگجوؤں کی یہ کارروائی طالبان اور افغان حکومت کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کے بعد سے پہلی بڑی جبکہ فروری میں واشنگٹن سے ہوئے معاہدے جس میں امریکی فوج کے انخلا کا عزم ظاہر کیا گیا تھا اس کے بعد سے بڑی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔تحریر جاری ہے‎

مزید یہ کہ امریکا کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی گئی کہ طالبان جنگجوؤں کے خلاف فضائی حملہ امریکا نے کیا تھا تاکہ حملہ آوروں کو پیچھے کی طرف دھکیل کر ہلمند سے نکالا جاسکے، تاہم یہ مدنظر رہے کہ واشنگٹن کی جانب سے فروری میں امریکی افواج کے انخلا کے حوالے سے رضا مندی ظاہر کرنے کے بعد اس طرح کے حملے نسبتاً کم رہے ہیں۔

واضح رہے کہ رواں ہفتے کے آغاز میں عسکریت پسندوں نے صوبہ ہلمند میں موجود فوجی اڈے پر قبضہ کرنے کے بعد صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ کو بند کردیا تھا۔

دوسری جانب ہلمند کے گورنر آفس کا کہنا تھا کہ افغان اسپیشل فورسز نے افغان فضائیہ کے حملوں کی مدد سے 5 چیک پوائنٹس کو طالبان سے واپس حاصل کیا اور 23 جنگجوؤں کے گروپس کو مارا۔

علاوہ ازیں پیر اور منگل کی رات لشکر گاہ پر مسلسل افغان لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹرز نے گھیراؤ کیے رکھا اور طالبان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تاہم امریکی فوج کی جانب سے اس حملے میں ان کے جنگی طیاروں اور افواج کے حصہ لینے سے متعلق فوری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔

مہاجرین اور وطن واپسی کے محکمے کے سربراہ سید محمد امین کا کہنا تھا کہ طالبان کی لڑائی کی وجہ سے تقریباً 5 ہزار ایک سو خاندان بے گھر ہوئے جن کے لیے فوری طور پر رہائش اور کھانے کی ضرورت تھی۔

یاد رہے کہ امریکی صدارتی انتخابات سے تین ہفتے قبل ٹرمپ نے اپنی فوج کو واپس بلانے کے حوالے سے وعدہ کیا تھا، طالبان کی جانب سے امریکی فوج کے ’کرسمس سے پہلے واپسی‘ کی ٹوئٹ کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔

تاہم معاہدے کی شرط ہے کہ امریکی افواج کے انخلا سے قبل جنگجو شہری علاقوں پر اپنے حملے روک دیں، اسی بارے میں نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) انٹرویو میں چیئرمین آف جوائنٹ چیف آف اسٹاف جنرل مارک ملے کا کہنا تھا کہ انخلا شرائط پر مبنی تھا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’ہم باریک بینی سے تمام شرائط کا جائزہ لے رہے ہیں اور ہم، فوج کو ان شرائط کے حوالے سے بہترین مشورے دے رہیں ہیں تاکہ صدر ٹرمپ جو ذمہ دار ہیں ان کو مطلع کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قطر میں ہونے والے مذاکرات آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہے ہیں مگر اب بھی وہ ابتدائی مراحل میں ہی ہے جبکہ دونوں فریقین کی جانب سے کہا گیا تھا کہ ان کے رابطہ گروہوں کے درمیان ملاقات ہوئی تھی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں