فرانس میں نیا اسلاموفوفیا : جامع تجزیہ

مغربی دنیا میں وقتاً فوقتاً ہونے والی مسلمانوں کے بارے میں قانون سازی اکثر و بیشتر مسلمان اقلیتی آبادیوں کے لیے تشویش کا ہی باعث بنتی رہی ہے۔ مگر حال ہی میں فرانس کی طرف سے مسلمانوں کو مکمل مذہبی آزادی دینے کا اعلان تازہ ہوا کا ایسا جھونکا ہے کہ اگر واقعی فرانس نے اس پر عمل کیا تو آگے چل کر یہ ایک صحت مند روایت کا آغاز ہو سکتا ہے۔ فرانسیسی صدر ایما نیویل میکرون نے مغربی پیرس میں فرسائی کے مقام پر پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے مسلمانوں کے لیے ملک میں مذہبی آزادی کی قانون سازی کریں گے، کیونکہ اسلام اور جمہوریہ فرانس کے درمیان ناخوشگواری اور کسی پیچیدگی کا کوئی عنصر موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرانس کی حکومت مسلمانوں کو اپنے ملک میں اپنے مذہب کے مطابق زندگیاں بسر کرنے کے لیے مزید سہولیات فراہم کریں گے تا کہ وہ اپنے مذہبی امور بغیر کسی رکاوٹ کے ادا کر سکیں۔ صدر عمانویل میکرون نے فرانسیسی معاشرے میں اسلام کے بارے میں پائی جانے والی سخت گیر سوچ پر مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ سوچ ہماری ریاستی قوانین کو مذہبی آزادی کے متضاد قانون سازی کی طرف نہیں لے جا سکتی۔ کیونکہ لوگوں کو ہر طرح کی سماجی اور مذہبی آزادی فراہم کرنا فرانس کی شناخت ہے اور ملک کو کسی خاص مذہبی طبقے کی علامت بنانا انسانی اور مذہبی آزادی کے منافی ہو گا۔ اس وقت فرانس میں مسلمانوں کی تعداد 60 لاکھ سے زائد اور مساجد کی تعداد 2500 کے قریب ہے۔
اس سے پہلے یورپ سے مسلمانوں کے بارے میں امتیازی قوانین کی اطلاعات خصوصاً جو مسلمانوں کے شعائر سے متعلق ہیں، دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تکلیف کا باعث رہی ہیں۔ پردہ، مساجد، اذان ان قوانین کا خصوصی ہدف رہے ہیں۔ حتیٰ کہ جرمنی جیسے ملک میں مسلمان پناہ گزینوں کی تبدیلی مذہب کو مہم کے طور پر چلایا گیا۔ جیسا کہ جنوب مغربی جرمنی میں ایک کیتھولک عیسائی پادری فیلکس گولڈنگر نے اپنے کلیسا میں پناہ گزینوں کے کئی گروپوں کی طرف سے بپتسمہ لینے کی درخواست کا ذکر کیا تھا اور یہ بھی کہا تھا کہ یہ مسلمان اپنے آبائی مذہب کا جائزہ لینے کے بعد عیسائیت قبول کرنے کا فیصلہ کر رہے ہیں۔
جون 2017ء میں یورپی ملک آسٹریا میں خواتین کے نقاب کرنے اور ملک میں قرآن حکیم کے نسخوں کی تقسیم پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ آسٹریا کے صدر الیگزینڈر وین ڈیربیلن نے نقاب پر پابندی اور انتہاپسندی کے لٹریچر پر پابندی لگانے کے نام پر قرآن حکیم کے نسخوں کی تقسیم کے قانون پر دستخط کیے تھے جو یکم اکتوبر 2017ء کو نافذ العمل ہوا۔ اس قانون کے مطابق چہرے کا نقاب کرنے والی خواتین کے خلاف 150 یورو کا جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
صدر فرانس کے موجودہ بیان کو بھی ان کے فروری کے ایک انٹرویو کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس ساری تاریخ کا تعین کرنا چاہتے ہیں جو فرانس میں اسلام کے منظم ہونے سے متعلق ہے۔ دراصل یہ وہ ایجنڈا ہے جس میں میکرون سے پہلی حکومتیں کامیاب نہیں ہو سکیں۔ 1980ء کے بعد سے آنے والی حکومتیں یہ کوشش کرتی رہی ہیں کہ وہ اسلام کی ایسی صورت کی تشکیل کریں جو فرانس کے لیے قابل قبول ہو۔ اسلام کی اس مطلوبہ صورت سے فرانسیسی حکومت دو مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے۔ یہ کہ فرانس کی مسلم اقلیت کو مقامی آبادی سے ہم آہنگ کیا جا سکتے اور فرانسیسی معاشرے کو انتہاپسندانہ تعبیر سے محفوظ رکھا جا سکے۔ اس کا ایک منصوبہ یہ بھی ہے کہ فرانس میں اسلام کی وہ صورت اور تصور متعارف کرایا جائے جو فرانس کی اپنی اقدار یعنی سیکولرزم سے ہم آہنگ ہو۔ مگر ان سب کوششوں کو فرانس کے مسلمانوں نے اسلام اور فرانس کے فروغ کے بجائے اسلام کے فرانس کے فروغ کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
2015ء میں فرانس کے صدر فرانسیس ہالینڈ نے کچھ فرانسیسی اماموں کو رباط کے ایک ادارے میں تربیت کے لیے بھجوایا تھا۔ مگر یہ سارے اقدامات عوام میں اعتماد اور جواز کے حوالے سے سوالیہ نشان کا شکار ہیں۔
فرانس کے حکومت کے اسلام کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات کو شک و شبہ کی نظر سے دیکھنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ حکومت کا واحد مقصد صرف انتہا پسندانہ رجحانات کا قلع قمع کرنا ہے نہ کہ فرانس کے مسلم عوام کی خاطر بہبودی اقدامات۔ فرانس کے اہل اختیار و اہل دانش یہی زاویہ نگاہ رکھتے ہیں کہ جیسا کہ فلورنس میں یورپین یونیورسٹی انسٹیٹیوٹ کے پروفیسر اوراسلامی امور کے دانشور” اولیویر رائے” نے کہا ہے کہ فرانس کا اسلام معتدل
اور دہشت گردی کے خلاف ہے۔ درست مگر عام فرانسسی مسلمان کایہ سوال ہے کہ پھر ایک معتدل مسلمان کے لیے اسلام کا مطلب کیا ہے؟ اس وقت فرانس میں 6 ملین یعنی کل فرانسیسی آبادی کا 8 فیصد مسلمان ہیں۔ اورحکومت کے لیےمسئلہ ان مسلمانوں کی قومی شناخت یعنی 1905ء کے طے کردہ قانونی اصول ،چرچ اور ریاست الگ الگ ہیں اور ریاست مذہب کے معاملے میں مکمل طور پر غیر جانبدار ہے، کے مطابق شناخت طے کرنا ہے۔ 1970ء کے دوران فرانسیسی کالونیوں خصوصاً شمالی افریقا سے فرانس میں ملازمتوں کی تلاش میں آنے والے مسلمانوں کے مستقل طور پر یہاں قیام پذیر ہونے کے بعد حکومت بطور خاص تشویش میں ہے۔
حکومت کے اقدامات فرانسیسی مسلمانوں کے لیے اطمینان کا باعث نہیں رہے۔ کیونکہ ایک طرف تو حکومت اس اصول، پالیسی اور اعلان کے باوجود کہ ریاست کسی بھی طرح کے مذہبی معاملات یا امور میں مداخلت سے باز رہے گی، حکومت نے فرانسیس مسلمانوں کے حوالے سے ’’مذہبی اصلاح‘‘ کا منصوبہ شروع کیا تو دوسری طرف یہ منصوبہ قابل اعتراض اقدامات کا حامل بھی ہے۔
فرانسیسی حکومت میں دوسرا نقطہ نظر رکھنے والے اس سارے منصوبے کو فرانس کی سلامتی کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ 1997 سے 2014 تک فرانس کی وزارت داخلہ میں اسلام کے امور کے ماہر ” برنارڈ گوارڈ ” کے مطابق اہل فرانس کے لیے فرانس میں اسلام اور مسلمانوں کے معاملات کی نگرانی اور انہیں کسی ضابطے کا پابند کرنا فرانس کی سلامتی اور تحفظ کا معاملہ ہے۔ اسی لیے سابقہ حکومتوں نے مسلم اماموں کی تربیت کےمنصوبے شروع کیے۔ جن کا مقصد فرانسیسی مسلمانوں کے لیے “میڈ ان فرانس ” امام تیار کرنا ہے۔
سابق صدر ہالینڈ کے وزیر اعظم” مینوئل والس” نے اپنے دور میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں کے بعد سکیورٹی کی خاطر کئی طرح کی پابندیاں بھی عائد کر دی تھیں جن میں حجاب پر پابندی بھی شامل تھی۔ وزیر اعظم کے ایجنڈے سے اتفاق رکھنے والے ایک سکالر” گیلس کیپل” نے، جو ایک نمایاں فکری فورم کے رکن بھی ہیں، اس حوالے سے تحقیق کی ہے۔ ایک سروے کے مطابق 43 فیصد عوام یہ سمجھتے ہیں کہ فرانس میں اسلام کی اداراتی تنظیم جو سیاسی طور پر قابل قبول ہو اور خود مسلمان بھی اسے اپنے خلاف نہ سمجھیں خاصی مشکل ہے۔ الغرض شک وشبے کی دھند فرانس میں اسلام کے بارے میں حکومتی اقدامات اور پالیسیوں پر پھیلی ہوئی ہے۔ تقریباً آج بھی وہی صورت حال نظر آتی ہے کہ جب علامہ اقبال کو پیرس میں ایک مسجد کی تعمیر کے بارے میں علم ہوا تو انہوں نے ایک نظم لکھی تھی جو اس تمام ذہنیت کی عکاس ہے جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے:
مری نگاہ کمالِ ہُنر کو کیا دیکھے
کہ حق سے یہ حرَمِ مغربی ہے بیگانہ
حرم نہیں ہے، فرنگی کرشمہ بازوں نے
تنِ حرم میں چُھپا دی ہے رُوحِ بُت خانہ
یہ بُت کدہ اُنہی غارت گروں کی ہے تعمیر
دمشق ہاتھ سے جن کے ہُوا ہے ویرانہ

اپنا تبصرہ بھیجیں