پاکستان نے FATF کی گرے لسٹ سے نکلنے کیلئے امریکی لابنگ گروپ کو ہائر کرلیا (بھارتی میڈیا کی رپورٹ)

پاکستان نے ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں امریکی حمایت کے حصول کے لئے ،امریکہ کے لابنگ کرنے والے ٹاپ کے ادارے کی خدمات کرائے پر حاصل کرلیں۔

بھارتی میڈیا گروپ ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ

اسلام آباد کو اپنا نام گرے لسٹ سے نکلوانے کے لئے ایف اے ٹی ایف کے 39 ممبرممالک میں اسے کم از کم 12 ممالک کی حمایت کی ضرورت ہے ۔

اس حمایت کا زیادہ تر انحصار امریکہ کی رائے پر ہوگا جس کا اظہار پیرس میں ہونے والے اجلاس میں ہوگا۔ 12 تا 23 اکتوبر تک ایف اے ٹی ایف اور اس کے ذیلی گروپوں کی آنے والی میٹنگوں کے مدنظر پاکستان نے کیپیٹل ہل (واشنگٹن )میں لابنگ کرنے والے ٹاپ ادارے کو ہائر کرلیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے اسلام آباد کی حمایت والا ماحول بنا سکے اور گرے لسٹ سے نکلنے کے لئے ایف اے ٹی ایف کے ممبر ممالک کی حمایت حاصل کرسکے۔

سدابہار دوست اور لوہے کی طرح مضبوط بھائی چین ،عثمانی سلطنت کا احیاء کرنے والاترکی اور بنیاد پرستی کی طرف بڑھتا ہوں ملائشیاپاکستان کی پشت پرہیں ۔اس لئے پاکستان کا ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں جانے کا کوئی امکان نہیں ہے کیوں کہ اگر ایف اے ٹی ایف کے 39 میں سے 3 ممالک بلیک لسٹ میں ڈالنے کے مخالف ہوں تو کسی کو بلیک لسٹ میں نہیں ڈالاجاسکتا ہے۔

تاہم پاکستان کو گرے لسٹ سے نکلنے کےلئے 39 ممبران میں سے 12 ممبران کی حمایت کی ضرورت ہوگی۔

اس کا بڑی حد تک انحصار امریکہ کی رائے پر ہے جس کا اظہار پیرس میں ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی میٹنگ میں ہوگا۔

امریکہ اور پیرس میں تعینات سفارت کاروں کے مطابق پاکستان کی وزارت خارجہ نے ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں موجود لابنگ کرنے والے ٹاپ کے ادراے “لائنڈن اسٹریٹیجی ” کو ہائر کرلیا ہے تاکہ ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے اپنے موقف کو مضبوط ثابت کرسکے ۔

لابنگ کرنے والے اس ادارے کی ویب سائٹ پر ادارے کی وضاحت ان الفاظ میں کی گئی ہے “یہ حکومتی تعلقات اور کاروباری بہتر ی کے حوالے سے کا م کرنے والاایسا ادارہ ہے جو مقامی اور عالمی گاہکوں کو جن میں خود مختار ممالک بھی شامل ہیں اسٹریٹیجک انلسز(تزویراتی تجزیہ ) اور مشاورت مہیاکرتا ہے “۔یہ ادارہ حکومت کے ساتھ تعلقات ، اسٹریٹیجک کمیونیکیشن ، تجارت کے حوالے سے مشاورت اور سیاسی رہنمائی کرنے میں اعلیٰ مہارت رکھنے والاادارہ ہے جس کے گاہک ساری دنیا میں پھیلے ہیں ۔

بظاہر پاکستان ہوسٹن کے اس ادارے کے ذریعے ٹرمپ کی انتظامیہ تک مندرجہ ذیل باتوں کو پہنچانا چاہتا ہے۔


طالبان ، حقانی نیٹ ورک ، القاعدہ اور داعش جو عالمی دہشت گرد گروہ ہیں ان کی قیادت افغانستان میں موجود ہے جنھیں کافی مقدار میں فنڈمیسر ہیں ۔جس کا مطلب ہے کہ اسلام آباد اس بات کو مسترد کرتا ہے کہ طالبان شوریٰ اور حقانی نیٹ ورک درہ بولان کے پار کوئٹہ اور درہ خیبر کے پار پشاور میں بیٹھ کر اپنے آپریشنز چلاتے ہیں اور یہ کہ پاکستان کے خفیہ اداروں کا القاعدہ اور افغانستان میں نام نہاد “اسلامک اسٹیٹ ” کہلانے والی داعش کے پیچھے کوئی ہاتھ ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ حقانی نیٹ ورک کا رہنماء سراج الدین حقانی ، مذہبی رہنماء مولوی ہیبت اللہ اخونذادہ کا نائب ہونے کے ناطے طالبان کا دست راست ہے۔

پاکستان کا دعویٰ ہے کہ مریدکے سے تعلق رکھنے والی لشکرطیبہ (ایل ای ٹی )کو غیر متحرک بنادیاگیا ہے اور جماعۃ الدعوۃ اور فلاح انسانیت کے متعین کردہ زیادہ تررہنماء کے خلاف دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمات قائم کیے جاچکے ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ ایل ای ٹی چیف حافظ سعید جو کہ 11/26 کے مرکزی ملزم ہیں ، وہ اپنے ممنوعہ گروہ کی لگام اپنے بیٹے طلحہ کے ہاتھ میں دے چکے ہیں جو تشددکو فروغ دے رہا ہے اور جموں وکشمیرمیں لائن آف کنٹرول (ایل او سی )کے آرپار سلیبرسیلز کے ساتھ رابطے میں ہے۔

عمران حکومت کا دعویٰ ہے کہ بہاولپورسے تعلق رکھنے والا دہشت گرد گروہ جیش محمد (جے ای ایم )جو اپنے آپریشنز میں ا فغان جنگ کے منفرد اندازکو اختیار کرتی ہے ۔ ان کے مرکزی رہنماءپاکستان میں نہیں ہیں اورگروپ کو اپنے ہمدردوں کے ذریعے چلایا جارہاہے ۔حقیقت یہ ہے کہ جیش محمد کے امیرشدید بیمار ہیں اور بہاولپور میں صاحب فراش ہیں ۔اس کا بھائی مفتی رؤف اصغر گروپ کو چلا رہا ہے اور جس کے ٹریننگ کیمپ پاکستان کے ساتھ ساتھ ڈیورنڈ لائن کے پار افغانستان میں موجود ہیں جہاں ٹریننگ دی جارہی ہے ۔ جیش محمد کا کشمیر میں کام کرنے والا مرکزی کردار قاسم جان ہے جو کہ 2016 میں پٹھانکوٹ حملے میں نامزد ہے جو کہ اصغر سے ہدایات لیتا ہے ۔جیش محمد ایک ایسی تنظیم ہے جس کا مرکزی کام دہشت گردی ہے ۔

پاکستان کادعویٰ ہے کہ وہ 4 نامزد افراداور دوسرے 2 مرکزی رہنماؤں کو کامیابی سے سزاسناچکا ہے اور یہ کہ 11نامزد افراد کے خلاف دہشت گردوں کو سرمایہ مہیا کرنے کے (63)مقدمات قائم کرچکا ہے اوراس کے علاوہ 8 اور رہنماؤں پر بھی مقدمات درج کیے گیے ہیں ۔جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایف اے ٹی ایف کی 2019کی متفقہ رپورٹ میں 66تنظیموں اور تقریبا7600افراد کو اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کی قراداد 1373کے تحت نامزد کیاگیا تھا ۔جسے 11/9کے حملے کے بعد دہشت گردانہ اقدامات کے لئے سرمایہ مہیا کرنے والوں کی روک تھا م کے لئے منظورکیاگیا تھا۔

ٹاپ کے لابنگ ادارے کو ہائرکرنے اور امریکہ کو طالبان کی طرف سے افغانستان میں تشددمیں کمی لانے کی پیش کش کرنے کے باوجود ،پاکستان اس دفعہ بھی گرے لسٹ سے نکلنے کے قابل نہیں ہوپائے گا کیوں ایف اے ٹی ایف کی 2019 کی متفقہ رپورٹ میں درج مطالبات پورے ہونے میں بہت کچھ ابھی باقی ہے اور ایف اے ٹی ایف کے 27 نکات کی تعمیل کرنا بھی ابھی باقی ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں