مالدیپ میں بھارت اور چین کی پنجہ آزمائی

انڈین میڈیا گروپ “انڈین ڈیفنس ریوو ” نے مالدیپ میں بھارت اور چین کے اثرو رسوخ پر ایک جامع رپورٹ تیار کی ہے جس کا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے ۔

مالدیپ میں بھارت چین کے خلاف سرگرم

جب بھارتی فورس کا IL 76 طیارہ نومبر 1988 کو پیرا بریگیڈ سےایک پیرا بٹالین جس کو آرٹلری کی مدد بھی حاصل تھی، لے کر مالے(مالدیپ کا دارالحکومت) کے ہوائی اڈے پر آیا تو کیا انہیں پتہ تھا کہ مالدیپ حکومت کی مخالفت کرنے والے بیرونی عناصر سے زیادہ اندرونی عناصر ہیں اور ملک کی سیاسی صورتحال ابتر ہو چکی تھی۔

ایک بزنس مین کے کہنے پر ” پیپلز لبریشن آرگنائزیشن آ ف تامل ایلم “کے 80 بااثر افراد ملک کے صدر عبدالقیوم کیخلاف ہو گئے۔ لیکن ان کی سازش وقت سے پہلے ہی بے نقاب ہو گئی۔ تاہم ، 30 سال کے بعد مالدیپ کے لوگوں نے زبردستی صدر عبدالقیوم کو ان کے آفس اور حکومت سے نکا ل دیا گیا ۔ اس تحریک کی نگرانی محمد ناشید کر رہے تھے۔ ناشید کو بعد میں حکومت سے نکال باہر کر دیا گیا، اس کو نکالنے والے کا نام محمد یامین تھا اور یہ ناشید کا جانشین تھا ، جو اب جیل میں کرپشن کے الزام کی وجہ سے پانچ سال کی سزا کاٹ رہا ہے۔

یہ 30 سالوں کی دا ستان مالدیپ کی سیاسی ابتر صورتحال کو کھل کر بیان کر رہی ہے۔بد قسمتی سے مالدیپ بھارت کی ضرورت ہے تا کہ بھارت بحر ہند میں اپنے قانونی اور اہم مفادات کو حاصل کر سکے ۔اور بھارت مالدیپ کو مستقل اتحادی بنانا چاہتا ہے تا کہ اس سے مفادات حاصل ہو سکیں ۔اور اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ چین ہے جس نے مالدیپ میں بہت سی سرمایہ کاری کی ہوئی ہے اور مالدیپ کی معیشت کا انحصار اب چین پر ہے۔

مالدیپ کی اتنی اہمیت کیوں؟

مالدیپ ایشیا کا سب سے چھوٹا ملک ہے۔یہ 1190 جزیروں پر مشتمل ملک ہے،جن میں سے صرف 196 ہی آباد ہیں۔یہ بحر ہند کے درمیان میں اس طرح واقع ہے کہ شمال سے جنوب تک 960 کلو میٹر کے علاقے پر مشتمل ہے۔عرض بلد پر 73 ڈگری اور طول البلد پر 3 ڈگری۔ جو بھی بحری جہاز بحر ہند کے راستوں سے گزرتے ہیں ان جزیروں کی قطار سے ہو کر گزرتے ہیں۔
مالدیپ جس جگہ واقع ہے یہ بحر ہند سے گزرنے والی بحری ٹریفک کی پوری طرح نگرانی کر سکتا ہے۔ بھارت کی ٪50 بیرونی تجارت اس کے علاوہ بھارت اور چین کی 80٪ انرجی کی درآمد مالدیپ کے آس پاس سے ہوتی ہے۔

امن کے دور میں تو کوئی کسی کا راستہ نہیں روکتا ،لیکن تنازعہ کی صورت میں مالدیپ جس ملک کا دوست ہو گا اسے بہت زیادہ فائدہ ہو گا۔ بھارت کی سرزمین مالدیپ کے جزیرے سے صرف 1200 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اور لکشدویپ کے علاقے سے 700 کلو میٹر کے فاصلے پر بھارت ہے۔ چین نے مالدیپ کو اپنے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے ،اس کو امید ہے کہ اس سے وہ بھارت کے بحر ہند کے مفادات کو روک سکتا ہے۔

چین کی مجبوری ہے اور وہ چھے یا سات جنگی جہازوں کے ساتھ بحر ہند میں زیادہ دیر نہیں ٹھہر سکتا ۔ لیکن بھارت کی ایسی کوئی مجبوری نہیں ہے،لیکن بھارت کے پاس بحر ہند میں کوئی بحری اڈہ نہیں ہے۔اس وقت بھارت کے پاس سیچلز ،مڈغاسگر اور مارشیش کے جزیروں پر نگرانی کا اچھا نظام موجود ہے۔
اس حقیقت کے پیش نظر ، اس وقت مالدیپ میں اثرو رسوخ کے لیے دونوں ملک تگ ودو کر رہے ہیں۔ حالیہ ، مشرقی لداخ میں ہونی والی بھارت چین لڑائی مزید پھیل سکتی ہے تو ایسی صورت میں بحر ہند دونوں ممالک کی بحریہ کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہو گا ۔ مالدیپ میں اگر چین نا ہو تو یہ بھارتی بحریہ کے لیے آپریشنلی طور بڑا مددگارثا بت ہو گا۔

کیا بھارت خوش ہو سکتا ہے؟

کیا بھارت کو مالدیپ کی موجودہ صورتحال پر اطمینان ہونا چاہیے؟ تو جواب نہیں ہی ہو گا۔ یہ بھارت کی خوش قسمتی ہے کہ اس وقت مالدیپ کی مو جودہ حکومت جس کا سربراہ ابراہیم صالح ہے اس کا جھکاؤ چین کے بجائے بھارت کی طرف ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ اس سے پہلے والا حکمران چین نواز تھا۔ مالدیپ کی موجودہ سیاست بھارت کے حق میں ہے۔لیکن یہ کسی بھی وقت چین کے حق میں ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے بھارت کو ان تعلقات کو مستقل بنانا ہو گا۔

مالدیپ کے بھارت کے ساتھ تعلقات صدیوں سے خوشگوار چلے آرہے ہیں اس کی وجہ معلوم کرنا مشکل نہیں ہے، اصل مالدیپی باشندے بھارت اور سری لنکا سے ہجرت کر کے مالدیپ میں آباد ہوئے تھے۔ 12 ویں صدی عیسوی سے پہلے ان کا مذہب بد مت تھا ۔اس کے بدمت کے ماننے والے عرب تاجروں کی آمد کی وجہ سے مسلمان ہو گئے۔اب مالدیپ میں ننانوے فیصد سنی مسلمان آباد ہیں۔ یہاں کا طرز حکمرانی بادشاہت ہے کیوں کہ اس نظام نے ان پر 800 سال حکومت کی ہے۔اب ان کا رجحان جمہوریت کی طرف ہو رہا ہے ۔2008 میں پہلی بار کثیر الجماعتی جمہوریت کا آ غاز ہوا۔

بہت سے قبائل اور جزیروں کی وجہ سے ، جمہوریت ابھی مکمل طور پر کامیاب نہیں ہو سکی۔نوجوان نسل اس طرح کی جمہوریت کی وجہ سے پریشان ہیں،جو ان کی توقعات اور معیشت کی ضروریات کو پورا نہیں کر رہی۔

2004 کے سونامی کے بعد، جس نے آباد شدہ جزیروں کو بہت نقصان پہنچایا، مالدیپ میں سعودی مداخلت کا اضافہ ہوا۔اس سے مالدیپ میں سعودی پیسہ اور مبلغین کی آمد ہوئی جو وہابی کلچر لے کر آئے، اور نوجوانوں کو جہاد کی طرف مائل کیا گیا۔ 200 سے زائد مالدیپی باشندے داعش کے ساتھ اس وقت ملے جب شام کی جنگ عروج پر تھی ۔

حکمران محمد یامین نے اس لہر کا فائدہ اٹھایا اور قوم کو اسلام اور جہاد کی طرف راغب کیا اور اس طرح الیکشن بھی جیت لیا۔ مغرب اور ہندوستان کے اثر و رسوخ کو بے اثر کرنے کے لئے ، یامین نے چین کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔۔ وقت ایسا کہ ، شی جن پنگ بھی اس وقت اپنے اقدامات کو بڑھانے کے لئے کوششیں کر رہے تھے۔ ۔ شی جن پنگ نے 2004 میں جزیرے کا دورہ کیا اور مالدیپ کے ساتھ (FTA)مفت تجارتی معاہدہ اور کچھ بڑے منصوبوں پر دستخط کیے۔ ان منصوبوں میں سب سے اہم منصوبے ،ہوائی اڈے سے میل جانے والا پل تھا ،موجودہ ہوائی اڈے کی توسیع(یہ پروجیکٹ بھارتی کمپنی کو دیا گیا ہے)، ایک ہاؤسنگ سوسائٹی اور ایک 25 منزلہ اسپتال کا قیام تھا ۔نتیجہ یہ کہ اس وقت مالدیپ میں چین کی سرمایہ کاری بڑھتی جا رہی ہےاور اس وقت اس سرمایہ کاری کا حجم ڈیڑھ بلین امریکی ڈالر ہے ۔حکومتی لوگوں کا یقین ہے کہ یہ 3 بلین امریکی ڈالر سے زائد تک جا سکتی ہے۔

مالدیپ کی جی ڈی پی 5 ارب ڈالر کے ارد گرد ہے ۔اور قرضہ اس کا اس رقم سے ایک تہائی یا دو تہائی زیادہ ہے۔قرضہ بڑھنے کا امکان ہے کیوں کہ جی ڈی پی سکڑ رہا ہے اورمالی ترقی منفی رجحان کی طرف بڑھ رہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مالدیپ کی معیشت کا انحصار سیاحت پر ہے اور اور ان کی سیاحت جولائی 2020 میں مقرر کیے گئے ہدف کے نصف تک بھی نہیں پہنچی اور کرونا نے ان کی معیشت کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔

چینی بینک مالدیپ پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ وہ دس ملین امریکی ڈالرز کی قرض کی قسط ادا کرے ،سود سمیت،چینی دعووں کے باوجود معیشت کی سست روی کی وجہ سے مالدیپ ادائیگی میں تاخیر کر رہا ہے۔ تاہم ایکژم بینک یہ بات نہیں سن رہا ہے ،شاید چینی حکومت کے کہنے پر۔ قرضوں کی ادائیگی نا کر سکنے کی صورت میں چین قرضے کے بدلے میں مالدیپ کے علاقوں پر دعوہ کر سکتا ہے۔ چین نے مالدیپ کے سولہ جزیرے لیز پر لیے ہوئے ہیں جن پر وہ دعوہ کر سکتا ہے۔ چین کی قرضوں کے جال میں پھنسانے والی پالیسی مالدیپ کو پھنسا سکتی ہے۔

محمد یامین کے دور میں ، اس نے چینی بحریہ کو مالدیپ کی بندرگاہوں تک رسائی کی اجازت دے دی تھی۔ اگست 2017 کے مہینے میں ان تجارتی بندرگاہوں پر چینیوں کے تین جنگی جہاز ہونے کی اطلاع ملی تھی۔ بھارت کی جانب سے اعتراضات کے بعد بھارتی عہدیداروں کو ویزا تک دینے سے انکار کردیا گیا تھا۔ چین نے “فیڈو فینوولو “جزیرے میں ا انفراسٹرکچر تشکیل دے دیا ہے جسے چینی 2066 تک لیز پر لے چکے ہیں۔

یہ جزیرہ مالدیپ کے مشرقی طرف واقع ہے۔ قرض نہ ادا کرنے کی صورت میں چینی جزیرے پر اپنا کنٹرول حاصل کرسکتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت کے بحر ہند میں برتری والے خواب چکنا چور ہو جائیں گے۔ کیا یہ ہوسکتا ہے؟ ہاں ، یہ ہوسکتا ہے۔ اگر یہ سری لنکا میں ہوسکتا ہے تو ، یہ مالدیپ میں بھی ہوسکتا ہے۔ مالدیپ قرضوں کی ادائیگی کو طے کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ نئی حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ہندوستان نے 1.4 بلین امریکی ڈالر کی مالی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

تاہم، مالدیپ کی معیشت کی کمزوری کے پیش نظر ، مالدیپ کے لئے چینی قرضوں کے جال سے بچنے کے لئے ہندوستانی مدد ناکافی ہوگی۔ ایک اور پیشرفت جو حال میں ہی ہوئی ہے وہ یہ ہے کہ اس سال 10 ستمبر کو امریکہ میں ، مالدیپ کے دفاع اور سلامتی کے معاہدے پر امریکہ دستخط کرے گا۔ یہ ایک اہم اقدام ہے جس سے چین کے اوپر بحر ہند میں نگرانی کرنے میں مدد ملے گی۔ اس نگرانی کو مالدیپ سے بھی مدد ملے گی کیونکہ نئی حکومت خود کو چینی گرفت سے دور رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے مستقبل میں امریکہ سے مالدیپ کے لئے ممکنہ مالی امداد کی راہ بھی ہموار ہوگی۔

بھارت کو کیا کرناچاہیے؟

ایک وجہ یہ بھی ہے جو حکمران حکومت کے خلاف ہو رہی ہے، کہ وہ بڑھتی ہوئی سیاحتی معیشت کے فوائد عام لوگوں تک نہیں پہنچا پا رہے۔ محمد یامین کرپٹ اور آمریت پسند تھے لہذا وہ برقرار نہیں رہ سکے ۔ وہ چین کی مدد حاصل کر کے انتخابات کو جیتنے کے قریب ہی تھے ، لیکن عوام کے شدید غصے کی وجہ سے وہ انتخابی فیصلے کو قبول کرنے اور حکومت چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

محمد یامین کی شکست سے ہندوستان کو بغیر کوئی کوشش کیے اچھا موقع مل گیا ہے ۔ فرض کیا کہ اگر یامین کرپٹ نہ ہوتا بلکہ ایک اعتدال پسند حکمران ہوتا اور معتدل مذہبی جھکاؤ رکھتا تو وہ چینی مدد سے جزیرے کی قوم کو ایک جدید ، ترقی پسند ، اور سیاحت سے چلنے والی معیشت میں بدل سکتا تھا ، جس کا مقابلہ کرنا مشکل ہوتا۔ اگر سیاحت کے فروغ سے حاصل ہونے والے فوائد لوگوں کی ترقی پر خرچ کیے جاتے تو آج یہ حالت نا ہوتی اور چینی قرضے آسانی سے لوٹائے جا سکتے تھے۔ چین اگر مزید دس سال تک دوست اور خیر خواہ کی حیثیت سے کام جاری رکھے گا ، تو مالدیپ بہت سی ایشین اور افریقی قوموں کی طرح چین کا ہو جائے گا۔

اگر بھارت کو خوش قسمتی سے ایک موقع مل ہی گیا ہے تو اسے مالدیپ پر قبضہ کر لینا چاہیے یہ نا ہو کہ کوئی اور محمد یامین آ جائے بھارت کو اسے بھی روکنا ہو گا۔ بھارت کو چین کی طرح سوچنا ہوگا ، سست اور کاہل خارجہ پالیسی کی طرح نہیں جیسا کہ ہندوستان کر رہا ہے، اور نچلی سطح پر کام شروع کردینا چاہیے۔

مالدیپ پہلے ہی بنیاد پرستی کی طرف جا رہا ہے ، جیسا کہ بھارت کے آس پاس والے دوسرے ساحلی علاقے ہیں ۔ پاکستانی خفیہ ایجنسی ” آئی ایس آئی ” نوجوان نسل کے اندر گہری جڑیں پکڑ رہی ہے، اگر ایک دفعہ یہ سیاست میں داخل ہو گئے تو پھر مالدیپ کو اسلام اور چین کے مضبوط پنجوں سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔
یہ وقت ہے کہ بھارت کچھ کرے کیوں کہ اس کے پاس چین سے زیادہ مواقع ہے ۔ مالدیپ بھارت کی سرزمین کے قریب ہے ، اور رسائی بڑھانا آسان ہے۔ مالدیپ کے سیاسی اور نوجوان طبقے کو اپنے طرف مائل کرنا ضرو ری ہو گیا ہے ۔ سیاست دانوں کے لیے معیشت سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے۔

2017 میں چین نے بھارت کے 83000 سیاحوں کے مقابلے میں 3 لاکھ سیاح مالدیپ بھیجے تھے ۔ سیاستدان صرف ا اور صرف مقامی آبادی سے اقتدار اور حمایت کے بھوکے ہیں۔ مالدیپ کی قیادت ابھی بھی ہندوستان کی طرف مائل ہے اور معتدل بھی ہے ۔ نوجوان اپنی خواہشات کی تکمیل چاہتے ہیں۔ بھارت کا تعلیمی اور ماحولیاتی نظام ان کی خواہش کو پورا کر سکتا ہے ۔ آئی ٹی اور میڈیکل کالجوں میں داخلہ ایک اچھا نتیجہ دے سکتا ہے ۔

بھارت معاشی مدد میں چین کا مقابلہ نہیں کر سکتا ،لیکن اس کے باوجود وہ مالدیپ میں روز مرہ زندگی اور معیشت کو بہتر بنانے کے لئے بہت سارے منصوبے بنا سکتا ہے۔ مالدیپ کو بہت سی ضروریات ہیں اور وہ بہت سے خطرات سے بھی دوچار ہے، پینے کے پانی کی شدید قلت ہے ، سونامیوں سے بھی شدید خطرے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ، یہ دنیا میں سطح سمندر کے سب سے زیادہ قریب ملک ہے۔ مستقبل میں بھارت کو ایسا خوش قسمت موقع نہیں مل سکے گا۔

چین کا مالدیپ میں بحری اڈہ اس کی بحر ہند کی پالیسی کی کامیابی کی ضمانت ہو گا۔ بھارت کو تیزی سے آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔ مالدیپ پر فتح حاصل کرنے کے لئے ہندوستان کو سب سے پہلے ا مالدیپ کے سیاسی طبقے پر فتح حاصل کرنا ہوگی۔ ان کے پاس جزیرے کے مستقبل کی کنجی ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں