واشنگٹن کے جنگلات میں لگی آگ کے اثرات یورپ تک پہنچنے لگے


امریکہ کے جنگلات میں لگی آگ کے اثرات اب یورپ تک پہنچنے لگے ہیں۔ یورپی یونین کے آب و ہوا پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق وہ اس غیر معمولی آگ کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

امریکہ کی ریاستیں کیلی فورنیا، اوریگون اور واشنگٹن کے جنگلات آتش زدگی سے شدید متاثر ہوئے ہیں۔ اس آگ سے وسیع رقبے پر جنگلات اور املاک تباہ ہو چکی ہیں جب کہ مقامی آبادیوں کو بھی انخلا کرنا پڑا ہے۔ آگ سے 35 سے زائد افراد بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔

خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق کاپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس (سی اے ایم ایس) کے فراہم کردہ سیٹلائٹ کے ڈیٹا سے واضح ہوتا ہے کہ آگ سے امریکہ کی ریاستوں کیلی فورنیا، اوریگون اور واشنگٹن میں شدید نقصانات ہوئے ہیں۔ جب کہ موجودہ آگ جنگلات میں لگنے والی آگ کی حالیہ اوسط کے مقابلے میں کئی گنا شدید ہے۔

ہوا کے شدید دباؤ کی وجہ سے آگ کے باعث پیدا ہونے والا دھواں کئی دن تک شمالی امریکہ کے کئی علاقوں میں موجود تھا۔ اس کے باعث کئی اہم شہروں جیسے پورٹ لینڈ، اوریگن اور سان فرانسسکو کے ساتھ ساتھ کینیڈا کے شہر وینکور میں ہوا کا معیار ممکنہ طور پر بے حد خطرناک ہوتا جا رہا تھا۔

پیر کو موسم میں تبدیلی آئی اور دھواں تیزی سے مشرق کی جانب بڑھ گیا۔

کاپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس کا کہنا ہے کہ اس نے آگ سے اٹھنے والے وسیع دھویں کو مشرق کی جانب آٹھ ہزار کلو میٹر دور تک پھیلے ہوئے مشاہدہ کیا ہے جب کہ یہ دھواں اب شمالی یورپ پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

اندازوں کے مطابق اگست کے وسط سے آگ کے باعث تین کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہو چکا ہے۔ جب کہ زمین کی حدت میں اضافے کے باعث اس طرح آگ لگنے کے مزید واقعات سامنے آنے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

کاپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس کے سینئر سائنس دان اور جنگلات میں لگنے والی آگ کے ماہر مارک پرینگٹن کا کہنا ہے “ہمارے پاس موجود اعداد و شمار کے مطابق اس آگ کی شدت اور وسعت گزشتہ 18 برسوں میں لگنے والی آگ سے کئی گنا زیادہ ہے۔”

کاپرنیکس ایٹموسفیر مانیٹرنگ سروس کے پاس 2003 سے جنگلات میں آگ لگنے کے واقعات کے اعداد و شمار موجود ہیں۔

امریکہ کی مغربی ساحلی ریاستوں میں لگنے والی آگ سے اب تک 50 لاکھ ایکڑ رقبہ جل چکا ہے۔ یہ رقبہ امریکہ کی ریاست نیو جرسی کے برابر ہے۔

اس آگ کے باعث ایک بار پھر آب و ہوا کی تبدیلی کا موضوع زیرِ بحث ہے۔ جب کہ دو ماہ بعد امریکہ میں ہونے والے صدارتی انتخابات کی مہم میں بھی اس موضوع کو زیرِ بحث لایا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں