لداخ میں چین بھارت آمنے سامنے : چینی میڈیا

بیجنگ : بھارت -چین بارڈر لڑائی شروع ہوئی ہے اور بھارت چائینہ کے کیخلاف کھل کر اقدامات کر رہا ہے۔ بھارت چین سے معاشی و فوجی طور پر کمزور ہے،لیکن پھر بھی چین کو کیوں مشتعل کر رہا ہے؟

 چینی میڈیا گلوبل ٹائمز کے مطابق بھارت جانتا ہے کہ چائینہ لڑائی نہیں کرنا چاہتا۔ اس لیے  بھارت بارڈرز پر چھوٹے پیمانے پراشتعال انگیزی پھیلا رہا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ چین کی بڑی آرمی طاقت چھوٹے پیمانے پر نہیں لڑ سکے گی۔

  مودی حکومت اور انڈین آرمی  کو چین کیخلاف اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ انہیں سختی کا مظاہرہ کرنا چاہیے یہ سوچے بغیر کہ ہم مضبوط ہیں یا نہیں۔ بھارت اس لیے شیخیاں بگھار رہا ہے کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ چین لڑائی نہیں کرے گا۔

 گلوبل ٹائمزکے مطابق بھارت جنگ کے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔لیکن اگر یہ حالات بن گئے  تو بھارت کے پاس اتنے ذرائع نہیں ہیں کہ وہ اپنے نقصانات پورے کر سکے کیوں کہ آرمی حملے کے لیے بڑے ذرائع کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو  بھارت کے لیے بوجھ برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔ جس طرح  بھارت کے موجودہ حالات ہیں اگر جنگ کا بوجھ زیادہ دیر رہا تو بھارت نہیں برداشت کر سکے گا۔ نئی دہلی بیجنگ کے ساتھ جتنی جلدی ہو سکے کوئی نہ کوئی معاہد کرنا چاہتا ہے ۔

چین اوربھارت کے حالات تیزی کے ساتھ بگڑ رہے ہیں۔ چائینہ-امریکہ کے تعلقات میں،امریکہ مضبوط فریق ہے۔ لیکن چائینہ- بھارت میں  بھارت کمزور ہے اور اشتعال انگیزی بھی  کر رہا ہے۔ نئی دہلی اپنی کمزور ہوتی معشیت اور کورونا وائرس سے توجہ ہٹانے کے علاوہ   چین کے ساتھ تعلقات کو اس لیے بھی خراب کررہا ہے کہ اس کو حالات کا درست اندازہ ہی نہیں ۔

گھریلو حالات اور وبا پر توجہ دینے کے بجائےچائینہ بھارت کے  کے ساتھ حالات خراب  کر رہا ہے۔اس کی  بڑی وجہ نئی دہلی کا حالات کو اچھی طرح سے نا سمجھنا ہے۔چائینہ-امریکہ تعلقات خراب ہیں،اور یہ بالکل 1962 والے حالات بن چکے ہیں۔ انڈیا غلط سوچ رہا ہے کہ اس کے پاس کوئی موقع ہے۔ چائینہ بھارت کی اشتعال انگیزی کا جواب دینے کے بجائے واشنگٹن کے ساتھ ڈیل پر غور کر رہا ہے۔ بھارت کا وہم ہے کہ چائینہ اس کو بڑی مراعات دے گا۔

بھارت سوچتا ہے کہ عالمی ماحول اس کے لیے سازگار ہے۔1962 کی بھارت-چائینہ جنگ میں،چائینہ کے روس کے ساتھ حالات خراب تھے۔ بھارت نے سوچا کہ وہ روس کی مدد سے جنگ جیت لے گا۔ اب بھی بھارت کا کہنا ہے کہ اس کے روس کے ساتھ تعلقات بہت بہترین ہیں۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جون میں کہا کہ بھارت-روس تعلقات بہت بہترین ہیں۔

اب عالمی ماحول کافی بدل چکا ہے لیکن بھارت اب بھی پرانی سوچ میں سے باہر نہیں نکل سکا۔ اصل میں،بھارت،چائینہ اور روس شنگھائی تعاون تنظیم اور بارسک میں تینوں ممالک اکھٹے ہیں۔ اشتعال انگیزی کی صورت میں روس کے لیے چائینہ کیخلاف ہو کر بھارت کی مدد کرنا ناممکن ہے۔البتہ،روس بھارت کو اسلحہ فروخت کرے گا اور یہ معمول کے مطابق ہو گا۔ روس چاہتا ہے کہ بھارت اور چائینہ اپنے معاملات کو پرامن طریقے سے حل کریں۔

امریکہ بھارت کا سب سے بڑا حامی ہے۔اصل میں، امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت جنوبی بحیرہ چین پر قبضہ کر لے۔جس کی وجہ سے نئی دہلی کو یقین ہے کہ اسے بہت کچھ ملنے والا  ہے۔ لیکن کیا واشنگٹن واقعی ہی امانتدار ہے؟ ٹرمپ انتظامیہ نے اعلان کیا کہ وہ بھارت کا ساتھ دیں گے۔ لیکن آپ اگر دیکھیں امریکہ بھارت کو سب سے مہنگا اسلحہ فروخت کر رہا ہے۔

چینی میڈیا کے مطابق ایچ -ون ویزوں کے معاملے پر ہر سال مسئلہ بنتا ہے۔ اگر موجودہ امریکی حکومت دوست بنانا چاہتی ہے تو صرف فائدہ حاصل کرنے کے لیے۔ایسا لگتا ہے کہ بھارت اس سے ابھی تک واقف نہیں ہے۔ اگر جنگ ہوتی ہے تو امریکہ بھارت کو اسلحہ فروخت کرے گا اور خفیہ معلومات دے گا لیکن کبھی بھی بھارت کی مدد کے لیے اپنے سپاہی نہیں بھیجے گا۔ اس طرح کی امریکی مدد ہو نے کے باوجود بھارت کبھی بھی چائینہ کیخلاف کوئی بھی فوجی فائد حاصل نہیں کر سکے گا۔

سوموار کو بھارت کے فوجیوں کی طرف سے کیے گئے فائر کے بعد بارڈر کے حالات مسلسل خراب ہیں،اور پریشانی بڑھتی جا رہی ہے۔ اگر جنگ ہو گی تو نتیجہ صرف یہ نکلے گا کہ دونوں ممالک   اپنی زمین کھوئیں  گے، جانی نقصان بھی ہوں گے۔ ایسی جنگ لڑنے کا کوئی فائدہ؟ اگر بھارت ناقابل برداشت حد تک اشتعال انگیزی کرے گا تو چائینہ سب کچھ چھوڑ کر بھارت کے ساتھ ڈیل بھی کرسکتا ہے۔اگر اس سے بڑھ جائے گا تو بھارت پِٹ بھی سکتا ہے۔بھارت کو چاہیے کہ ہوش کے ناخن لے اور امریکہ کو چائینہ کیخلاف مشتعل کرنا بند کرے۔ چین امریکہ کے ساتھ جنگ کرنانہیں چاہتا لیکن اگر بھارت چین کو اکسائے گا تو چین پیچھے نہیں ہٹے گا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں