چین اور بھارت کے وزرائے خارجہ کی ملاقات نتیجہ خیز ہوگی ؟

نئی دہلی : انڈین وزیرِ خارجہ ایس-جےشنکر 8 ملکی اتحاد شنگھائی  تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ اجلاس میں شر کت کے لیے منگل کی رات کو ماسکو پہنچ گئے۔ 

 بھارتی میڈیا کے مطابق  میڈیا کی  تمام نظریں اس ملاقات پر جمی ہوئی جو اس اجلاس کی سائیڈ لائن پر 9 یا 10 ستمبر کو ایس-جےشنکر اور ان کے چینی ہم منصب وانگ  جی  کے درمیان متوقع ہے۔ اس ملاقات کی وجہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر 45 سال کے بعد ہونے والی کشیدگی ہے۔اس 4 ماہ کی کشیدگی کے دوران دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی پہلی ملاوقات ہے۔

وزرائے خارجہ اجلاس میں آئندہ آنے والے شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کی تیاریوں کا جائزہ لیا جائے گا اور عالمی وعلاقائی مسائل پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ انڈین وزارتِ خارجہ کی طرف سے بیان دیا گیا ہی کہ وزیرِ خارجہ وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کرنے کے ساتھ ساتھ باہمی ملاقتیں بھی کریں گے۔ جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملاقات کا وقت صحیح نہیں ہے، مسٹر جےشنکر نے پچھلے ہفتے کہا تھا کہ وہ مسٹر وانگ سے ملیں گے”جن کو وہ کافی دیر سے جانتے ہیں”۔ سوموار کے دن ان کا کہنا تھا کہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی صورتحال کافی خراب ہے دونوں ملکوں کو سیاسی سطح پر گہری بات چیت کی ضرورت ہے۔  

یہ ملاقات وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ اور ان کے چینی ہم منصب کے درمیان ماسکو میں ہونے والی ملاقات کے ایک ہفتے بعد ہو رہی ہے۔اس ملاقات میں لائن آف ایکچئل کنٹرول پر ہونے والی کشیدگی پر بات چیت کی گئی، لیکن کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کی موجودہ صورتحال مسٹر جے شنکر کے لیے بڑا سفارتی چیلنج ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال 1962 میں ہو نے والی انڈیا-چائنہ جنگ کی طرف بڑھتی ہوئی دیکھائی دے رہی ھے۔

بھارتی میڈیا گروپ ” دی ہندو ” سے بات کرتے ہوئے سابق سیکرٹری وزراتِ خارجہ نِروپاما مینن راؤ  کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی امید نہیں ہے کہ اس ملاقات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ نکلے گا۔ جبکہ گزشتہ سوموار کو فائرنگ کی گئی،انڈیا نے الزام لگایا کہ فائرنگ کا آغاز چائینی پیپلز لبریشن آرمی کی طرف سے کیا گیا،1975 کے بعد  اروناچل پردیش کی  لائن آف ایکچوئل کنٹرول پر یہ پہلا فائر ہے،اور 1962 کے بعد لداخ میں پہلا فائر  ہے۔ اس کے علاوہ،1975 کے بعد لداخ میں انڈین آرمی کے فوجیوں  کی پہلی دفعہ اموات  ہوئی ہیں جواس سال جون میں چینی فوجیوں کے ساتھ جھڑپ میں  ہوئی،تبت کا ایک فوجی جس کا پاؤں پینگونگ جھیل کے قریب پیٹرولنگ کرتے ہوئے  زیرِ زمین دبی ہوئی پرانی بارودی سرنگ پر آگیا تھا،پہلی موت ہے۔ابھی کچھ نہیں کہ سکتے کہ جےشنکر-وانگ ملاقات کا نتیجہ دشمنیوں کے خاتمے کی صورت میں نکلے گا یا نہیں ابھی کچھ نہیں کی سکتے  ۔

اس معاملے پر وزیراعظم نریندرمودی اور چائینی صدر ژی پنگ کو مداخلت کی ضرورت ہے یا نہیں، جنہوں نے 2017 مین ڈوکلام بحران کے حل کے لیے جنگ کے دوران دو دفعہ ملاقات کی۔ دونوں سربراہان نے اس موضوع پر ابھی تک کوئی بات چیت نہیں کی۔ وہ دونوں نومبر میں سعودیہ میں ہونے والے     G-20 اجلاس میں مِل سکتے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں