لداخ میں چین اور بھارت پھر آمنے سامنے۔جامع رپورٹ (تحریر – آصف سندھو )

بھارت اور چین کے درمیان  ایک بار پھر حالات نازک مرحلے میں داخل ہوچکے ہیں جس میں بھارت   اپنی سابقہ ہزیمت کا بدلہ چکانے  اور فوج کے مورال کو بلند کرنے  اور ریاستی الیکشن میں اس کو استعمال کرنے کے لیے کوشاں ہے ۔

بھارت کا موقف

بھارت کا دعوی ہے کہ مشرقی لداخ میں پیونگانگ جھیل کے جنوبی علاقے میں چینی فوج نے صورت حال کو تبدیل کرنے کی کوشش کی جسے بھارتی فوج نے ناکام بنا دیا ہے۔  بھارتی وزارت دفاع کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق  یہ واقعہ 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب کا ہے اور انھوں نے کہا کہ   بھارتی فوج کو اس کا پتہ  پہلے ہی چل گیا، اس نے اپنی پوزیشن مستحکم کرنے کے لیے اقدامات  ۔  بھارتی فوج بات چیت کے ذریعے امن و امان کے قیام کے لیے پرعزم ہے تاہم اس کے ساتھ ہی وہ اپنی سالمیت کے تحفظ کے لیے بھی پر عزم ہے۔

خبررساں اداروں رائٹرز اور اے ایف پی نے رپورٹ کیا کہ بھارتی فوج نے ایک بیان میں کہا کہ ’29/30 اگست 2020 کی شب میں پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے مشرقی لداخ میں جاری کشیدگی کے دوران فوجی اور سفارتی رابطوں کے دوران ہونے والے گزشتہ اتفاق رائے کی خلاف ورزی کی اور اشتعال انگیز فوجی نقل و حرکت کی تاکہ حیثیت کو تبدیل کیا جائے  تاہم بھارتی فوجیوں نے  زمین پر یکطرفہ حقائق تبدیل کرنے کی چینی کوشش کو ناکام بنا دیا۔لیکن  اس عسکری کارروائی سے متعلق تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں کہ آخر جھڑپوں کی نوعیت کیا تھی اور کیا فائرنگ کا کوئی واقعہ پیش آیا یا پہلے کی طرح اس بار بھی ہاتھا پائی ہوئی۔ یہ  ہاتھا پائی  کا سلسلہ 29 اور 30 اگست کی درمیانی شب شروع ہوا اور صبح تک جاری رہا۔

 چین کا موقف

چین کی فوج نے بیان میں کہا کہ بھارتی فوج نے پیر کو 4200 میٹر بلندی پر واقع جھیل کے قریب پینگونگ تسو کے مقام پر سرحد عبور کی اور   شرانگیزی کرتے ہوئے سرحد پر صورتحال میں تناؤ پیدا کردیا۔ پیپلز لبریشن آرمی کے  ریجنل کمانڈ کی جانب سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ چینی فوج بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی  تمام کارروائی کے انسداد کے لیے ضروری اقدامات کر رہی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان ژاؤ لیجیان نے کہا کہ کہ انہوں نے ہمیشہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول کا احترام کیا اور کبھی بھی لکیر کو عبور نہیں کیا اور  دو اطراف کے سرحدی فوجی دستوں نے زمینی مسائل پر مواصلاتی رابطہ برقرار رکھا ہوا ہے۔

کمانڈر لیول کی بات چیت

رپورٹس کے مطابق بھارت اور چین کے  درمیان نیا تنازعہ ہونے کے بعد  پیر کے روز 31 اگست کو لداخ کے علاقے چوشل میں  برگیڈئیر لیول کی 2 میٹنگ ہوئی ہیں تاکہ دونوں فورسز کے درمیان نئی پیدا ہونے والی کشیدگی کو کم کیا جاسکے تاہم اس میٹنگ کے نتیجے میں ہونے والی پیش رفت سامنے نہیں آئی ۔  واضح رہے کہ   مئی 2020سے اس سرحدی تنازعے کو حل کرنے کے لیے بھارت اور کے چین درمیان فوجی اور سفارتی سطح پر درجنوں بار بات چیت ہوچکی ہے ۔

بھارتی وزیر خارجہ اور دفاعی ماہرین

بھارت کے وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے مشرقی لداخ میں بھارت اور چین کے درمیان جاری کشیدگی اور جھڑپوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال یقیناً 1962 کی جنگ کے بعد سے اب تک کی سب سے سنگین صورت حال ہے۔ان کے بقول 45 برسوں میں پہلی بار اُس سرحد پر فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر دونوں جانب اس وقت جتنے فوجی تعینات ہیں، پہلے کبھی نہیں تھے۔

بھارتی فوج کے سابق سینیئر افسر جنرل اتپل بھٹا چاریہ کا کہنا ہے کہ پیونگانگ جھیل میں جس نوعیت کا تنازعہ ہے اس میں اس نوعیت کی جھڑپیں کوئی معمولی بات نہیں ہے۔   لداخ میں جس بڑے پیمانے پر فریقین میں اختلافات ہیں اور جس طرح مسلسل کشیدگی کا ماحول ہے اس میں اس طرح کی چیزیں اس وقت تک ہوتی رہیں گی جب تک معاملہ حل نہیں ہوجاتا۔ چونکہ سرحد پر فوجیں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہیں تواس طرح کی جھڑپیں مستقبل بھی ہونا بعید ازا قیاس نہیں ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ پینگونگ سو جھیل کے جس خطے میں چینی فوجیوں سے یہ چھڑپ ہوئی ہے وہ دفاعی نقطہ نظر سے بہت اہم ہے کیونکہ وہاں سے کچھ ہی دوری پر انتہائی اہم دولت بیگ اولڈی – شیوک روڈ گزرتی ہے۔ چین کی سرحد کے نزدیک واقع دولت بیگ اولڈی میں انڈیا کا فضائی اڈہ واقع ہے۔

دوسرا ڈیپسنگ کا علاقہ ہے جہاں دفاعی ماہرین کے مطابق چین پہلے کے مقابلے تقریباً 22 کلومیٹر اندر آگیا ہے۔ بھارتی فوجی ذرائع  کے مطابق ڈیپسنگ میں باٹل نیک کے پاس ایک مقام کا نام وہاں پر   ‘120 کلو میٹر’ ہے جہاں پہلے بھارتی فضائیہ کی ایک بیس ہوا کرتی تھی تاہم اس وقت یہ بیس چین کے پاس ہے۔  یہی وجہ ہے کہ  یہ معاملہ ذرا پیچیدہ ہے اور اسے حل کرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔

 چین بھارت  اقدامات

مشرقی لداخ میں بھارت اور چین کی افواج کے درمیان تازہ جھڑپ کی خبر سامنے آنے کے بعد 434 کلو میٹر طویل سری نگر  لیہہ شاہراہ کو سویلین ٹریفک کے لئے بند کر دیا گیا ہے  ،  لداخ   کو وادی کشمیر کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – لیہہ شاہراہ پر سویلین گاڑیوں کی آمد و رفت پیر کی صبح روکی گئی۔

بھارتی میڈیا کے مطابق چین نے بھوٹال اور ارونچل پردیش   کی سرحد پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث 96 گاؤں کو خالی کروا  لیا ہے اور  کئی ایک سرحدی علاقوں میں میزائلوں کو بھی تعینات کردیا ہے ۔

این ڈی ٹی انڈیا کی رپورٹ کے مطابق حالیہ تنازعے کے بعد  چین نے  بھارت سرحد کے نزدیک ہوسٹن ائیر بیس  پر  ” جے -20 ففتھ جنریشن کے جنگی طیاروں کو تعینات کردیا ہے  اس کے علاوہ چین نے لداخ کے سرحدی علاقوں میں موجود ائیر بیسز پر دیگر جنگی طیاروں کو بھی اپریشنل کردیا ہے ۔

تجزیہ

چین اور بھارت کے درمیان  حالیہ کشیدگی  کو بڑھاوا دینے کے پیچھے انڈیا  کی شرارت واضح دکھائی دیتی ہے  گزشتہ چند روز قبل بھارتی آرمی چیف جنرل منوج مکند نروائن نے اپنے 7 سیئنر جنرل سے ساتھ غیر معمولی میٹنگ بلائی جو شیڈول میں طے نہیں تھی جن تعلق مشرقی اور مغربی سرحدوں کے ساتھ تھا اس کے بعد  وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ ،  نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت  دول ، چیف آف ڈیفنس سٹاف  جنرل بپن راوت ، اور تین مسلح افواج کے چیفز  نے  دہلی کے ساؤتھ بلاک میں میٹنگ کی جس کا موضوع  ممکنہ طور پر چین ہی تھا ، اس علاوہ  بھارت نے روس میں ہونے والی   جنگی مشقوں میں جانے سے انکار کردیا کیوں ان مشقوں میں چین اور پاکستان نے بھی شامل ہونا تھا   اور  چین کے ساتھ کشیدگی کو بنائے رکھنے میں ٹرمپ انتظامیہ بھی بھارت کی پشت  پناہی  کررہی ہے کیونکہ ٹرمپ  پارٹی  اپنی الیکشن مہم میں چین  کو ہدف تنقید رکھنا چاہتی ہے  اگر بھارت  چین  کشیدگی برقرار رہے گی تو  امریکہ کو روٹی سیکنے کا موقع ملتا رہے گا  ۔ اس  کشیدگی   کا عوام کی توجہ اندرونی اور معاشی مسائل سے ہٹائے رکھنے میں  تو اہم کردار ہے ہی لیکن بھارت اس طرح کے چھوٹے چھوٹے اقدامات سے سابقہ ہزیمت  کو مٹانے اور فوج کا مورال بلندکرنے کے لیے کوشاں ہے تاہم  اس سارے معاملے میں پاکستان کو چکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں