جموں کشمیر: 5اگست 2019 کو ٹھونسی گئی تبدیلیاں منظور نہیں،ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ: ڈاکٹر فاروق

جموں کشمیر: سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے جموں کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ سپریم کورٹ دفعہ370کی منسوخی کے معاملے میں انصاف فراہم کرے گا۔

دفعہ370کی منسوخی  کے بعد پہلی بار مرکزی سرکار کے فیصلے پر کھل کر لب کشائی کرتے ہوئے ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ انکی جماعت جمہوری طریقہ کار سے آئینی تبدیلوں کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلیاں اس اعتماد کی بیخ کنی ہے جو کشمیری عوام نے بھارت کے ساتھ الحاق کے وقت کیا تھا۔انہوں نے کہا’’ سیاسی جماعت ہونے کے اعتبار سے ہم لوگوں کو اس بات سے مطلع کرتے رہیں گے کہ ہم انصاف کے حصول کیلئے کیا کر رہے ہیں،اور یہ بات واضح ہے کہ ہم تبدیلیوں کو قبول نہیں کرتے،جو ہم پر ٹھونس دی گئی ہیں،اور ہم انکی مسلسل مخالفت کرتے رہیں گے‘‘۔

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’ ہم اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرتے رہیں گے اور جمہوری طریقہ کار سے اپنے حقوق کی بازیابی کیلئے مہم چلائیں گے،ہم نے کھبی بھی بندوق کا استعمال نہیں کیا،اور ناہی وہ طریقہ کار استعمال کیا جو آئین کے منافی ہو،بلکہ ہم ایک جمہوری مین اسٹریم جماعت ہے،اور اپنے مسائل کے حل کیلئے جمہوری طریقہ کار استعمال کریںگے‘‘۔

انہوں نے ان تبدیلیوں کو دھوکہ دہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام نے بھارت کے ساتھ الحاق کے وقت جو اعتماد کیا تھا یہ اس کی بیخ کنی ہے۔انہوں نے کہا’’ نئی دہلی پر ہم نے جو بھروسہ کیا تھا،وہ صفر ثابت ہوا‘‘۔

ڈاکٹر عبداللہ نے کہا کہ ا عتماد اٹھ گیا ہے اور نئی دہلی کو اب اعتماد سر نو قائم کرنا ہوگا،اور یہ اعتماد اسی وقت قائم ہوگا جب جموں کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی ہوگی،اور دیگر تبدیلیوں کو واپس لیا جائے گا۔

انہوں نے کہا’’جو بھی ہوا وہ بدقسمتی تھی،ان کا کہنا تھا کہ جب دفعہ370ختم کیا گیا تودعویٰ کیا گیا کہ،جموں کشمیر میں ترقی ہوگی،جنگجویت ختم ہوگی،تاہم میں ان لوگوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا جنگجویت ختم ہوئی؟ بلکہ اس میں کمی ہونے کے برعکس اضافہ ہوا،کوئی بھی ترقی صفر ہے،بلکہ ہمارے پاس جو بھی تھا وہ ہم نے کھو دیا‘‘۔

نیشنل کانفرنس کی طرف سے سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کی وضاحت کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا’’ہم عدالت عظمیٰ سے انصاف کا حصول چاہتے ہیں،کیونکہ ہمارا اعتماد عدلیہ پر ہے،اور ہمیں امید ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے گا‘‘۔

ڈاکٹر فاروق نے کہا کہ وہ سپریم کورٹ پر نظریں بنائے ہوئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ5اگست کے سانحہ سے قبل جموں کشمیر کے لوگوں کو دہائیوں تک جنگجویت سے متاثر ہونا پڑا،اور اب کورونا وائرس کی وباء نے گھیرا ہے۔

سابق وزیر اعلیٰ نے کہا’’ہمیں شدت کے ساتھ امن چاہے،تاہم اس کیساتھ عزت و وقار کی بحالی بھی ہونی چاہیئے،جو ہم سے لیا گیا،اور جموں کشمیر کے لوگوں سے ان تبدیلوں کے بارے میں مشاورت تک نہیں کی گئی۔

آئندہ انتخابات میں نیشنل کانفرنس کی شرکت پر انہوں نے کہا کہ اس کا فیصلہ وہ نہیں کریں گے بلکہ نیشنل کانفرنس کی ورکنگ کمیٹی کرے گی۔

ڈاکٹر عبداللہ نے کہا’’ جب ایسی صورتحال آئے گی،ہم سب مشاورت کریں گے اور دیکھتے ہیں کہ کیا ہوتا ہے۔

اقامتی قانون پر نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا ’’ اب ہمارے خدشات سچ ہو رہے ہیں،ہم ان کے خلاف لڑیں گے‘‘۔انہوں نے حد بندی کمیشن کے قیام پر بھی بھاجپا کی منشا کو صحیح قرار نہیں دیا۔

انہوں نے کہا کہ حد بندی سال2026 میں بھارت کے ساتھ ہونی ہے،اب اس کی کیا ضرورت تھی،اسی لئے ہمیں خدشات ہو رہے ہیں کہ نیت ٹھیک نہیں ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ انہیں حد بندی کمیشن منظور نہیں اور نہ وہ فیصلے منظور ہیں جو 5اگست 2019کو لئے گئے یا وہ فیصلے منظور نہیں کہ جموں کشمیر کی ڈیمی گرافی کو تبادیل کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ غلام نبی آزاد کیساتھ انہوں نے فون پر بات کی اور آزاد نے ان سے وزیر اعظم کیساتھ انکی جموں کشمیر کے بارے میں ہوئی بات چیت کے بارے میں بتایا۔

ڈاکٹر فاروق نے مزید بتایا کہ انکی پارٹی ابھی بھی گپکار اعلامیہ پر کاربند ہے اور لیڈران کی ایسری ختم ہونے کے بعد ہی مشترکہ لائحہ عمل مرتب کیا جائیگا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں