ہانگ کانگ میں چینی سکیورٹی قوانین کے نفاذ پر روجہ مرکوز

چین کی نیشنل پیپلز کانگریس کے پہلے دن ہانگ کانگ میں سکیورٹی قوانین کے نفاذ پر روجہ مرکوز کی گئی۔ چینی نیشنل پیپلز کانگریس کا اجلاس آج جمعے سے شروع ہو گیا ہے۔

جمعہ بائیس مئی سے نیشنل پیپلز کانگریس کا شروع ہونے والا اجلاس کورونا وائرس کی وبا  کے سبب دو ماہ کی تاخیر سے شروع ہوا ہے۔ اس میں دو ہزار آٹھ سو ستانوے مندوبین شریک ہیں۔ یہ اجلاس ایک ہفتے تک جاری رہے گا۔ اس کی افتتاحی تقریب سے وزیر اعظم لی کیچیانگ نے خطاب کیا۔ اس تقریر میں انہوں نے چین کو درپیش مختلف چیلنجز کو موضوع بنایا۔

نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس کے پہلے دن پیش کردہ ایک ایسی تجویز پر بحث شروع ہوئی جس کا مقصد خصوصی انتظامی اختیارات کے حامل علاقے ہانگ کانگ میں سکیورٹی قانون کے نفاذ سے ہے۔ اس تجویز کی منظوری سے ہانگ کانگ میں جو قانون ممکنہ طور پر نافذ ہو گا، اس کے تحت ریاستی غداری، تخریبی انقلابی سرگرمیوں اور بغاوت اور جلسے جلوسوں میں شرکت کے لیے اکسانے پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ اس مجوزہ قانون میں غیر ملکی مداخلت کے امکان کو ختم کرنے کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسندی کی آواز اٹھانے یا ایسی کسی بھی تحریک کو ممنوع قرار دے دیا جائے گا۔

نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں پیش کردہ تجویز کے ممکنہ منفی اثرات کے تناظر میں ہانگ کانگ کی اسٹاک مارکیٹ میں حصص کی قیمتوں میں جمعے کے دن چار فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ اس نئی قانون سازی پر تائیوان اور امریکا کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔

اس کے علاوہ ہانگ کانگ کی جمہوریت نواز تحریک کے لیڈروں اور کارکنوں کے مظاہرے دوبارہ سے شروع ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ سن 2003 میں بھی چین ایسی ہی قانون سازی کرنے والا تھا لیکن شدید احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے اس سلسلے کو ختم کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ برس ہانگ کانگ میں جمہورت نوازی کی سات ماہ جاری رہنے والی تحریک کے دوران چینی کمیونسٹ قیادت نے اپنے انتباہی بیانات میں کہا تھا کہ وہ ہانگ کانگ میں بیجینگ مخالف بیانیے کو برداشت نہیں کریں گے۔ دوسری جانب اس قانون سازی کے حوالے سے ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

اس چینی علاقے کی سیاسی جماعت سِوِک پارٹی سے تعلق رکھنے والے شہری اسمبلی کے رکن ڈینس کووک نے رپورٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس قانون سازی کی شروعات سے ‘ایک ملک دو نظام‘ کے بیانیے کی موت ہو گئی ہے۔ انہوں نے بیجنگ حکومت سے کہا کہ وہ ایسی غلطی مت کرے کیونکہ یہ مناسب نہیں ہو گا۔

چینی وزیر اعظم لی کیچیانگ نے نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا کہ ابھی کورونا وائرس کے خلاف ملکی جنگ ختم نہیں ہوئی ہے۔ انہیں نے ملکی عوام اور اہلکاروں کو اس وائرس کے خاتمے کی کوششوں کو دوگنا کرنے کی تاکید کی۔ چین میں اس وائرس سے پھیلنے والی بیماری کووڈ انیس سے بیمار ہونے والے افراد کی تعداد تقریباً تراسی ہزار اور مہلک وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد چھیالیس ہزار سے زائد ہے۔

وزیر اعظم لی کیچیانگ نے اپنی تقریر میں وائرس کی وبا کے بعد پیدا ہونے والی بیروزگاری اور معاشی عدم توازن کو ختم کرنے کے علاوہ ریاستی ڈھانچے کو مضبوط کرنے اور عام لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ نیشنل پیپلز کانگریس کے اجلاس میں ملکی دفاع کو مزید مضبوط بنانے کے ساتھ سالانہ ڈیفنس بجٹ میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں