او آئی سی نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا قانون مسترد کر دیا

جدہ: اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون مسترد کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق او آئی سی کے انسانی حقوق کے مستقل آزاد کمیشن نے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے ڈومیسائل قانون کو مسترد کر دیا ہے۔

او آئی سی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا نیا ڈومیسائل قانون او آئی سی اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے، اقوام متحدہ اور عالمی برادری ڈومیسائل قانون واپس لینے کے لیے بھارت پر دباؤ ڈالے۔

اسلامی تعاون کی تنظیم نے مطالبہ کیا کہ عالمی برادری مقبوضہ کشمیر پر اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد یقینی بنوائے۔

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں نئے ڈومیسائل قانون کو مسترد کردیا

اس سے قبل گزشتہ روز ترجمان دفتر خارجہ عائشہ فاروقی کا کہنا تھا کہ پاکستان جموں کشمیر گرانٹ ڈومیسائل سرٹیفکیٹ پروسیجر 2020 مسترد کرتا ہے،نیا ڈومیسائل قانون غیرقانونی ،یوا ین سلامتی کی قراردادوں کے منافی ہے۔

خیال رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے بعد جموں وکشمیر میں سول سروسز ایکٹ لاگو کیا گیا ہے جس کے مطابق جو جموں وکشمیر میں 15 سال سے مقیم ہے وہ اپنے ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دے سکیں گے۔

ایکٹ میں واضح کیا گیا کہ ڈومیسائل میں مقبوضہ علاقے کو اپنا آبائی علاقہ قرار دینے والے شخص کے لیے ضروری ہے کہ اس نے جموں و کشمیر کے وسطی علاقے میں 15 سال تک رہائش اختیار کی ہو یا 7 سال کی مدت تک تعلیم حاصل کی ہو یا علاقے میں واقع تعلیمی ادارے میں کلاس 10 یا 12 میں حاضر ہوا ہو اور امتحان دیے ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں