پاکستان کی کرکٹ ٹیم کو دورہ انگلینڈ کیلئے حکومت کی اجازت درکار ہوگی

انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو دورہ انگلینڈ کی پیشکش کی ہے اور اس حوالے سے ایک پریزنٹیشن دی ہے۔

پی سی بی نے اس پیشکش اور اس حوالے سے بیان کردہ خدوخال پر اطمینان ظاہر کیا ہے۔ تاہم اس بارے میں حتمی فیصلہ تین چار ہفتوں میں کیا جائے گا۔

یاد رہے کہ شیڈول کے مطابق پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اگست میں انگلینڈ میں تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل کھیلنے ہیں۔ یہ تمام میچز بند سٹیڈیم میں شائقین کے بغیر کھیلے جائیں گے۔

اس سے قبل آئر لینڈ کے خلاف جولائی میں پاکستان کی دو ٹی ٹوئنٹی میچز کی سیریز منسوخ کر دی گئی تھی۔

پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر (سی ای او) وسیم خان نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ کے حکام نے انھیں تفصیل سے اس دورے کے تمام پہلوؤں سے آگاہ کردیا ہے جسں میں سب سے زیادہ اہمیت کھلاڑیوں کی صحت اور ان کی حفاظت کو دی گئی ہے۔

وسیم خان کا کہنا ہے کہ پریزنٹیشن کے مطابق پاکستانی ٹیم جولائی کے پہلے ہفتے میں انگلینڈ پہنچے گی جہاں اسے پہلے 14 دن قرنطینہ میں گزارنے ہوں گے۔ اس کے بعد وہ اپنی معمول کی پریکٹس کا آغاز کریں گے۔

ویسم خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم عام فلائٹ کے بجائے چارٹرڈ فلائٹ سے انگلینڈ جائے گی جس کے اخراجات انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ برداشت کرے گا۔

وسیم خان نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کے دورے میں کسی کاؤنٹی کے ساتھ کوئی وارم اپ میچ نہیں ہوگا لہذا انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے کہا ہے کہ وہ اس دورے میں 25 کھلاڑی بھیج سکتا ہے۔ ’اضافی کھلاڑیوں کے اخراجات بھی میزبان بورڈ برداشت کرے گا۔‘

وسیم خان کا کہنا ہے کہ اس دورے میں کھلاڑیوں اور آفیشلز کا باقاعدہ ٹیسٹ لیا جاتا رہے گا کیونکہ دونوں کرکٹ بورڈز کھلاڑیوں کی صحت کے معاملے میں کوئی بھی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے سی ای او کا کہنا ہے کہ دورے میں کھیلے جانے والے تین ٹیسٹ میچوں کے گراؤنڈز کا ابھی فیصلہ نہیں ہوا لیکن چونکہ اولڈ ٹریفرڈ اور ساؤتھمپٹن کے گراؤنڈز میں ہی ہوٹل موجود ہیں لہذا ٹیسٹ میچز انھی گراؤنڈز میں ممکن ہوسکیں گے۔

’لیکن اس بارے میں حتمی فیصلہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کی سیریز کے بعد ہوگا۔ انگلینڈ کرکٹ بورڈ نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ پاکستانی ٹیم کو پریکٹس کے لیے بھی ایک گراؤنڈ مہیا کرے گا۔‘

وسیم خان نے کہا کہ اس دورے کے سلسلے میں وہ ’حکومت پاکستان سے بھی بات کریں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’کیونکہ یہ دورہ غیرمعمولی صورتحال میں ہونے والا ہے لہذا حکومت کی اجازت درکار ہوگی۔‘

انھوں نے کہا کہ وہ آئندہ ہفتے تمام کھلاڑیوں سے بھی بات کریں گے۔ ’کھلاڑیوں پر دورہ کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا جائے گا تاہم انھیں پتا چلا ہے کہ تمام کھلاڑی اس دورے کے سلسلے میں خاصے پُرجوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ وہ جلد سے جلد دوبارہ میدان میں نظرآئیں۔‘

پاکستان کے کھلاڑیوں کی ٹریننگ کا سلسلہ بھی جلد شروع کرنے کے بارے میں غور کیا جا رہا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں