جموں کشمیر: درماندگان کی واپسی اور ٹیسٹنگ صلاحیتوں کا جائزہ

جموں: لفٹینٹ گورنر کے مشیر بصیر احمد خان نے سول سیکرٹریٹ جموں میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے میٹنگ منعقد کر کے کووڈ 19 وباء پر قابو پانے کے انتظامات اور جموں کشمیر میں باہر سے وارد ہونے والے یو ٹی کے شہری ، طلبا اور مزدوروں کی وطن واپسی کیلئے جاری انتظامات کا جائیزہ لیا ۔   

دورانِ میٹنگ مشیر موصوف نے متعلقہ ضلع انتظامیہ کی جانب سے یو ٹی آنے والے جموں کشمیر کے شہریوں کیلئے کئے گئے انتظامات کے بارے میں ڈپٹی کمشنروں سے تفصیل طلب کی ۔

انہوں نے یو ٹی وارد ہونے والے جموں کشمیر کے شہریوں کے نمونے حاصل کرنے اُن کا ٹیسٹ کرنے ، انتظامی کورنٹین انتظامات ،اضافی کورنٹینی سہولیات کے قیام ، ریڈ زونوں کی صورتحال اور کووڈ 19 وباء سے متعلق دیگر معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔

ڈپٹی کمشنر کلگام نے مشیر کو بتایا کہ گورنمنٹ ڈگری کالج اور ایکلویہ ماڈل سکول میں اضافی ویلنیس سنٹر قائم کئے گئے ہیں تا کہ اگلے 15 دنوں کے دوران وادی وارد ہونے والے مزدوروں کیلئے بہتر سہولت فراہم کی جا سکیں ۔

اننت ناگ ، بڈگام ، شوپیاں ، پلوامہ  کے ڈپٹی کمشنروں نے جموں کشمیر وارد ہو رہے یو ٹی کے طلبا اور مزدوروں کے بارے میں جانکاری دی ۔

انہوں نے میٹنگ کو بتایا کہ اگلے 15 دنوں کے دوران آنے والوں کیلئے معقول انتظامی کورنٹین سہولت دستیاب رکھی گئی ہے ۔

ڈپٹی کمشنر گاندر بل نے میٹنگ میں بتایا کہ ضلع میں 1350 بستروں والے انتظامی کورنٹین سہولت کے علاوہ 150 بستروں والی اضافی سہولت قائم کی گئی ہے ۔ ڈپٹی کمشنر بارہمولہ نے میٹنگ میں بتایا کہ ضلع میں مزید کووڈ معاملوں کے سامنے آنے کے پیش نظر 17 مزید ریڈ زون قائم کئے گئے ہیں ۔

ڈپٹی کمشنر نے میٹنگ میں وی ٹی ایم کٹس کی قلت کا مسئلہ بھی اٹھایا ۔ مشیر نے ڈپٹی کمشنروں کو وی ٹی ایم کٹس کیلئے ڈائریکٹر محکمہ صحت کشمیر کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی ہدایت دی ۔

ڈپٹی کمشنر سرینگر نے مشیر کو بتایا کہ ضلع میں 6 ہزار بستروں پر مشتمل انتظامی کورنٹینی سہولت موجود ہے اور ضلع اگلے 15 دنوں کے دوران جموں کشمیر میں 15 ہزار افراد کے  داخل ہونے کی توقع ہے، لئے گئے نمونوں کے نتایج کے حصول میں التوا کا معاملہ اٹھاتے ہوئے ڈپٹی کمشنر سرینگر نے کہا کہ کوویڈ 19 منفی مریضوں کیلئے گھریلو کورنٹین میں بھیجنے کے عمل میں تعطل سے ذرائع اور انتظامات پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے ۔

مشیر نے ڈپٹی کمشنر سرینگر کو اضافی کورنٹین سہولت قائم کرنے کیلئے کہا  اور ڈویژنل کمشنر کشمیر کو ہر ضلع کیلئے نمونوں کی جانچ کا کوٹہ مقرر کرنے کیلئے کہا ۔

بصیر خان نے مزید کہا کہ 30 ہزار میٹرس اور بیڈ شیٹ ڈویژنل کمشنر کو ضرورت کے حساب سے اضلاع میں تقسیم کرنے کیلئے بھیج دئیے گئے ہیں ۔

ڈویژنل کمشنر نے میٹنگ میں بتایا کہ ہر سُپر سپیشلٹی ہسپتال میں سکریننگ بوتھ، ہیلپ لائینیں اور کنٹرول روم قائم کئے گئے ہیں جن کی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں خاصی تشہیر کی جا چکی ہے ۔مشیر نے ڈپٹی کمشنروں کو ریڈ زونوں میں سو فیصد نمونے لے کر اُن کا ٹیسٹ کرنے کو یقینی بنانے پر زور دیا ۔

ڈویژنل کمشنر کشمیر نے مشیر کو صوبے کے تین بڑے ہسپتالوں کیلئے فوری مالی ضرورت کے بارے میں بھی آگاہ کیا جن میں سکمز کیلئے 43 کروڑ روپے ، جی ایم سی سرینگر کیلئے 20 کروڑ روپے اور سکمز میڈیکل کالج بمنہ کیلئے 10 کروڑ روپے شامل ہیں اور مشیر سے اس ضمن میں ذاتی طورمداخلت کرنے کیلئے کہا تا کہ کووڈ 19 کے خلاف جنگ بالخصوص ٹیسٹنگ میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے ۔

مشیر نے ڈپٹی کمشنر بڈگام کو ڈائریکٹر ائیر پورٹ سرینگر کے ہمراہ سرینگر ائیر پورٹ کا معائینہ کرنے کیلئے کہا اور وہاں لاگو ایس او پیز اور ہوائی جہاز سے آنے والے مسافروں کیلئے دیگر سہولیات اور اقدامات کے بارے میں رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں