کیا ھم اینٹی کرونا قوم ہیں؟ تحریر – تحریر جمیل راھی ایڈووکیٹ

سبھی صرف امداد کے منتظر ہیں وہ کسی بھی جانب سے کسی بھی شکل میں نمودار ہو.مندر عبادت گاہیں ,مسجد,کلیسا سبھی پر قدغنیں ہیں ,انسانیت کس قدر بے بس ہو چکی.غائب ہو جاؤ,خود کو معاشرے سے الگ کر لو,کورنطین میں چلے جاؤ جس کا مطلب انڈر گراؤنڈ ہو جاؤ,سماجی فاصلے بڑھا دو,بار بار ہاتھ دھونا ہے,منہ پر ماسک چڑھا لو گلوز پہنو,طبی لباس.یہ کیسی اذیت ناک صورت حال ہے.عجیب بے بسی کا تماشہ لگا ہے.200 ممالک ہی نہیں پورا کرہ ارض اس وباء کی لپیٹ میں آتا دکھائی دے رہا ہے.دنیا کی قسمتوں کے فیصلے کرنے والے ویٹو ممالک بھی اس کا شکار ہیں.برتری کے دعوے منہ چڑانے لگے ہیں.کرونا نے بے بسی میں سبھی کو ایک جیسا بنا دیا ہے.سپر پاورز ہونے کے سبھی دعوے زمیں بوس ہو رہے ہیں.عبرت کے بہت سامان ہیں.کرونا تو ایک بہانہ بن گیا ہے.ہمارے وطن کی حالت تو اس سے قبل ہی نا گفتہ بہ چلی آرہی تھی.اچانک آنے والی اس افتاد نے قوم کو گھروں میں بٹھا دیا ہے.قدرت نےگہری سوچ و بچار کے کھلے مواقع عطا کئے ہیں .انفرادی خودساختہ جلا وطنی تو سنتے آئے تھے ایسی اجتماعی قومی نظر بندی کی مثال نہیں ملتی روئے زمیں پر جس کا شکار سبھی اقوام ہیں.پاکستانی قوم کا باوا ہی نرالہ ہے یہ ستر برس سے حالت ایمر جنسی ہی کا شکار چلی آ رہی ہے.سوال یہ ہے کہ کیا اس قوم کو ھمیشہ ایمر جنسی وارڈ میں وینٹی لیٹر پر ہی رکھا جائے گااور ماہرین اس کی ہسٹری شیٹ میں کبھی دھشت گردی سے پاک کرنا اور کبھی گرے لسٹ سے نکالنے کا ناگزیرعلاج ہی تجویز کرتے رہیں گے؟اور یہی اعلان ہوتا رہے گا کہ اگر وینٹی لیٹر اتار دیا گیا تو یہ ریاست ناکام ہو جائے گی؟معالج بدل جاتے ہیں لیکن علاج کا” طریقہ واردات “ایک ھی طرز کارہتا ہے.ایک بے یقینی اور سراسیمگی کی فضا بنا دی گئی ہے.منظم انداز میں خوف اور لاچارگی کا ایجنڈا پھیلایا جا رہا ہے.شیر آیا شیر آیا کے محاورے کی طرح “کرونا آیا کرونا آیا” کی ھا ھا کار مچی ہے.کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی.عالمی ماہرین کے مطابق صرف تین فیصد موت کا سبب بننے والی بیماری کو ڈراؤّنا خواب بنا دیا گیا ہے.موذی,سرعت رفتار,ناقابل علاج ہی نہیں. بلکہ مشہور کیا گیا کہ. اس کا علاج ہی دریافت نہیں ہوسکا.ایسی در فتنیاں چھوڑی گئی ہیں کہ رھے نام اللہ کا کرونا ایک یقینی موت کا پیغام بنا کر رکھ دیا گیا. رشتے ناطے توڑ کر سماجی رابطے توڑنا اس کا واحد علاج قرار پایا ہے..گویا یہ آدم بو. آدم بو جن ہے کوئی بیماری نہیں ہے.اس صورت حال میں ذمہ داری بنتی یہ ہے کہ ھم اپنی قوم کو سب سے پہلے حوصلہ افزا خبر دیں کہ کرونا ہمارا کچھ نہیں بگاڑے گا.جلد یہ ہمارے ملک سے کوچ کر جائے گا اور ما بعد کرونا اثرات بیماری کی شکل میں افٹر شاکس بن کر جھٹکے نہیں دے پائے گا. بلکہ اس کی نوعیت کسی اور شکل میں ہو گی.عالمی اداروں کی تحقیق سے پاکستانی قوم کو ان ٹاپ ٹین اقوام میں شامل کیا گیا ہے جن کا امیون سسٹم یعنی بیماری سے لڑنے کا زور اور جذبہ جسے میڈیکل زبان میں وائیٹل فورس یا امیونٹی کہا جاتا ہےجس کا ترجمہ قوت مدافعت یعنی بیماری سے لڑنے والی قوت کیا جاتا ہے.بہت زیادہ پایا جاتا ہے.
تاریخ گواہ ہے اور دنیا دیکھ چکی ہے کہ قوم نے متعدد مرتبہ ماضی میں بھی ایسی لازوال اور بے نظیر مثالیں قائم کی ہیں کہ ہم زندہ قوم ہیں پائندہ قوم ہیں.ہم سب کی ہے پہچان .یہ پیارا پاکستان.یہ ملک ہمیشہ لوہے کا چنا ثابت ہوا ہے.بڑے سے بڑا دشمن بھی اس کا بال بیکا نہیں کر سکا.1971 میں اس کا وجود دو ٹکڑے کر دیا گیا تھا لیکن پھر بھی زندہ رہا.آج دنیا کی ایٹمی قوت بن کر دو بڑی عالمی قوتوں کے لئے علاقائی و جغرافیائی ھب بن چکا ہے.دنیا کی سب سے بڑی بندر گاہ گوادر اور 62 ممالک تک رسائی پانے والی ون بیلٹ روڈ کا سی پیک منصوبہ پاک چین مشترکہ مشن کا عجوبہ بننے جا رہا ہے.پاک آرمی نے دنیا کی مشکل,طویل,پر خطر,مالی و جانی لحاظ سے مہنگی تریں جنگ میں دھشت گردی کو شکست دے کر اپنا لوھا منوا لیا ہے.ایک بار پھر ہر گھڑی تیار کامران ہیں ہم.پاکستانی فوج کے جوان ہیں ھم. نعرہ لگاتی پاک آرمی “کرونا چیلنج”سے نبرد آزما ہے اور قوم اس کے شانہ بشانہ ہے.پاکستان سمیت دیگر امت مسلمہ کی خبریں بھی حوصلہ افزا ہیں.کرونا متاثرین ممالک کی فہرست کے آخری 20 مسلم  ممالک میں اس وبا کا شکار ہونے والوں کی تعداد754 ہے اور ہلاک شدگان میں صرف ایک رپورٹ ہے. عالمی سطح پر پاکستانی قوم بارے ماھرین کی آراء ہیں کہ اس قوم کی قوت مدافعت لاجواب ہے.پاکستان جلد کرونا فری زون بن جائیگا.قومی خدمت گاروں کی حوصلہ افزائی کرتے رہنا ہے اور ایک سیسہ پلائی دیوار قوم کا تصور ابھارنا ہے.
ہم اپنی اپنی ذمہ داری ادا کریں.انفرادی کاوشیں جاری رکھتے ہوئے ضرورت مندوں کی مدد جاری بھی رکھیں.ان کی عزت نفس بھی مجروح نہ ہونےدیں.متاثرین بارے غلط اندازے لگائے جا رہے ہیں بلکہ کہا جا رہا ہے کہ دیہاڑی دار طبقہ صرف مزدور ہی نہیں بلکہ موبائل مکینک ، کار مکینک ،موٹرسائیکل مکینک ، لکڑی کا کاریگر ، ویلڈر ، الیکٹریشن ،ڈرائیور ، پلمبر ، درزی ، ڈرائی کلینر ، بھی روزمرہ کے مزدور ہیں ۔ایک طبقہ سفید پوش ہے جس کی جانب کسی کی توجہ نہیں.ایک طبقہ سروسز یعنی خدمات کے عوض روزی کماتا ہے ان کا بھی کوئی پرسان حال نہیں.اب تو خصوصی لوگ اور ہیجڑے بھی دھائی دینے لگے ہیں.حکومت کس کس کو روزی روٹی اور راشن کا بندوبست کر کے دے سکتی ہے.ٹائیگر فورس کی رسائی کہاں تک ممکن ہے.حکومت کی نیت کتنی ہی خالص کیوں نہ ہو اتنا وسیع انتظام کرنا کسی کے بس میں نہیں.
یہ حقیقت ہے کہ لاک ڈاؤن کا تسلسل صورتحال کو گھمبیر کر دے گا.ابھی تو لوگ امید کا دامن تھامے کھڑے ہیں اور حکومتی امدادی اعلانات پر تکیہ کیا جا رہا ہے لیکن یہ صورت حال تا دیر برقرار نہیں رکھی جا سکتی.اگر صبر اور برداشت کے دامن ٹوٹ گئے تو سبھی بندھن ٹوٹ سکتے ہیں.بھوکا شخص نہ گالی کی پرواہ کرتا ہے نہ گالی کی.پانی تیزی سے پلوں تلے سے گزر رہا ہے ارباب حکومت کو جلد اس کی راہ میں بند باندھنا چاہیے.تاخیر کے نتائج ناقابل گرفت اور خوف ناک ہو سکتے ہیں. کرونا کی بابت ماہرین اس کا علاج صفائی بتاتے ہیں لیکن معزرت کے ساتھ ملک پاکستان میں یہ فارمولہ لاگو نہیں ہوتا.ہم مجموعی طور پر گندگی پروف قوم بن چکے ہیں .ہائی جینک ہونے کا تصور ہم سےکوسوں دور ہے.یقین نہ آئے تو زمینی حقائق کا جائیزہ لے کر دیکھ لیں آپ بھی ہمارے ہم نوا بن جائیں گےاکثر بڑے فائیو سٹار ہوٹل بھی گندےنالوں کے کنارے ہیں. عام معاشرے کا حال ہےکہنانبائی, حجام,ڈاکٹر,حکیم شفاخانے,ٹی سٹال,ںسبزی,پھل,قصاب,ہوٹل سبھی کھلے ناکوں کے کنارے بیٹھے ہیں.دنیا بھر میں برڈ فلو آیا تھا.مرغی سستی ہوئی تو غریبوں نے خوب لطف اٹھایا.کرونا کے شر سے بھی کوئی خیر برآمد ہو سکتی ہے.اس چیلنج سے نمٹنے کے لئیے ,اپوزیشن اور دیگر تمام طبقات کو فوج اور دیگر اداروں کے ساتھ مل کر یک جان و قالب ہو کر مقابلہ کرنا ہے.احتیاطی تدابیر کو مذھبی اور سیادی ربگ دینے سے بچتے ہوئے ایک زندہ قوم کا تصور ابھارنا ہو گا.قوم افراد سے بنتی ہے اور افراد کی شناخت قومی شعار اور اعلی’اقدار سے ترتیب پاتی ہے.ہم وطنوں کی زندگیاں بچانے کا فریضہ جو بھی ادارہ ادا کر رہا ہے اس کے ہم آواز و ہم قدم ہونا ہی وقت کی ناگزیر ضرورت ہے وگرنہ آمدہ اطلاعات انفرادی نہیں اجتماعی ھلاکتوں کی خبریں دے رہی ہیں.ہمیں ثابت کرنا ہو گا کے ہم بھی چین کی طرح نہ صرف ایک ایٹمی قوت ہیں بلکہ اینٹی کرونا قوم بھی ہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں