احساس پروگرام کی پہلی شہیدہ: تحریر- محمد جمیل راھی سپرا ایڈووکیٹ

کیا پاکستانی قوم کی قسمت میں اسی طرح ذلت آمیز اموات,رسوائی,مایوسی اورپچھتاوہ ہی رہ گیا ہے؟کیا یہ سادہ لوح ہر چمکدار شے کو سونا سمجھ کر لپکتے رہیں گے؟کیا یہی تدبیر ہے غربت مٹانے کی؟کتنی لاشیں مذید درکار ہوں گی؟دھشت گردی مٹانے نکلے تھے آج تک خود اس کا سب سے بڑا ھدف ہی بنے ہوئے ہیں.عالمی افواج کے فرنٹ لائن اتحادی بھی رہے ہیں اور اس کا ایندھن بھی.آج تک اسی کی دلدل میں دھنستے چلے جارہے ہیں.آئے روز کنٹرول لائن پر بلا اشتعال فائیرنگ کے نتیجے میں بے گناہوں کی لاشیں بھی اٹھاتے ہیں اور جنگ سے محفوظ بھی قرار پاتے ہیں.اب تک سنتے آتے تھے کہ جو دھشت گردی سے محفوظ رہا وہ محافظوں کا ھدف بنا اور ناکوں پر دھر لیا گیا.محافظ و محفوظ دونوں ہی بے یارو مدد گار.اب ریت چلی ہے کہ دنیا پر کرونا وائیرس راج کر رہا ہے.ساری دنیا اس کی لپیٹ میں ہے.اس پر ستم ظریفی یہ کہ جو کرونا وائیرس سے بچ بھی گئے تو بھوک اور فاقوں سے ضرور ہلاک ہو جائیں گے.ملتان کے امدادی رقوم کی تقسیم مرکز میں ہونے والے نزیراں بی بی کی ہلاکت کے واقع نے “احساس پروگرام” کی  قلعی کھول دی ہے.کمشنر ملتان جناب شان الحق نے تو میڈیا کو یہ خبر دی کہ یہ بے چاری غریب 9 اپریل کی صبح “احساس پروگرام” کے تحت قائم مرکز میں امدادی رقم بارہ ہزار وصول کرنے آئی تھی.7بجے لائن میں لگی 9 بجے گیٹ کھلا. تو پانچ ہزار افراد عمارت میں داخل ہو گئے. انتظامیہ نے لاک ڈاؤن میں مناسب سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کی بہت اپیلیں کیں لیکن عوام پر اس کا کوئی اثر نہیں ہونے کے بعد. کارروائی کی گئ.بد نصیب. بوڑھی دھکم پیل کی بھیڑ میں کچلی گئی جس کے نتیجہ میں اس کی موت نشتر ہسپتال ملتان جاکر اس لئے واقع ہوئی کہ وہ بہت کمزور تھی. صوبائی وزیر زبیر دریشک ن صحافیوں کو بتایا کہ اس 70 سالہ بوڑھی کی موت ہارٹ اٹیک سے ہوئی ہے.9 اپریل سے شروع ہونے والا یہ سر کاری سرکس 25 اپریل تک چلے گا اور قوم کی عزت نفس مجروح کرنے کی اجتماعی ذلت کا سفر شروع ہوتے ہی یہ المناک حادثہ رونما ہوا ہے. حکومت اگرچہ دعوے کر رہی ہے کہ امدادی رقوم کی وصولی کے لئے آنے والوں کے لئے پانی,سایہ اور بیٹھنے کا مناسب بندوبست کیا گیا ہے.عوام اور پولیس کی مڈبھیڑ اور بد انتظامی کے علاوہ تشدد کے واقعات کی شکایات بھی مل رہی ہیں.حکمران بہت دعوے کرتے رہے ہیں کہ پہلی بار لوگوں کو براہ راست مالی امداد دی جا رہی ہے جس کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور کمپیوٹر سسٹم سے حق داروں تک رقم پہنچائی جائے گی.لیکن کوئی نئی بات دکھائی نہیں دی .وہی دکھاوا,دھکے,فوٹو سیشن اور سیاسی شو جو سابقہ حکومتیں کرتی چلی آئی ہیں.کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی.سوال یہ ہے کہ ذلت آمیزی کے سلسلہ کب رکیں گے ؟احساس کشی کی خاطر یہ قطار بندیاں,صبر آزمائی اور غربت کے تماشے کب جا کر رکیں گے؟امیدوں  کےٹوٹنے,حسرتوں کے بکھرنے اور لاشوں کے جنازے اٹھنے کا یہ سلسلہ کہاں جا کر تھمے گا؟ مفلوک الحال گھرانے کی سربراہ کے قتل کی ایف آئی آر کس کے خلاف کٹے گی؟روح اور جسم کا رشتہ برقرار رکھنے کی ناکام جدوجہد میں نزیراں بی بی تو “شہید غربت “کا اعزاز پا گئی لیکن حکمرانوں کے لئے خطرے کی گھنٹی ضرور بجا گئی ہے.اس کی موت کے اصل ذمہ دار کون بنیں گے؟حضرت عمر رضی اللہ و تعالی’عنہ کا فرمان قیامت تک مشعل راہ ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ”دریائے فرات کے کنارے اگر ایک کتا بھی بھوکا مر گیا تو روز قیامت عمر اس کا ذمہ دار ہو گا”یہ ان سب کے سوچنے کی ذمہ داری ہے جو اس ریاست کے اسٹیک ہولڈرز ہیں ان کی تبدیلی کے نعرے,ریاست مدینہ کے دعوے فقط الفاظ کی جگالی بن کر رہ گئے ہیں.ابھی تو پچاس لاکھ گھر بنا کر دینے کی باری ہے,ایک کروڑ نوکریاں دینے کا وعدہ بھی سنگین مذاق کی شکل اختیار کرتا جاتا ہے اور ریت حکمران طبقے کے پاؤں تلے سے نکلتی محسوس ہونے لگی ہے.ایک چیز واضع ہو چکی ہےکہ یہ حکمران بھی کان نمک میں داخل ہو کر نمک بن چکے ہیں.نظام اور ریاست کی درستگی کے دعویدار محض ذاتی مفاد کی چکی چلانے والے کولہو کے بیل ہی ثابت ہوئے ہیں.عوام کی مایوسی اب موت کی صورت ڈھل رہی ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں