جراثیم یا بیالوجیکل وار تاریخ کے آئینے میں : تحریر- زید حارث


یقیناً وبائی امراض انسانی معاشرے کے لئے مہلک اور مفسد ہیں. اور انسانی تاریخ میں ان وباؤں کا پھیلنا ایک تسلسل کے ساتھ موجود رہا اور ان کی وجہ سے لاکھوں اور کڑوڑوں میں اموات کے مصدقہ اعداد و شمار بھی موجود ہیں.
موجودہ کرونا وائرس کو کوئی سازش قرار دینے کے لیے کوئی موثوق دلیل تو موجود نہی،
لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ بہت دفعہ ایسا بھی ہوا کہ ان وائرسز اور امراض کو بطور ہتھیار استعمال کیا گیا اور یہ سلسلہ عیسی علیہ السلام کی ولادت سے بھی پہلے کا چل رہا ہے. اگرچہ زمانے کی ترقی اور ٹیکنالوجی کی رفتار کے ساتھ ان کی نوعیت و کیفیت میں تبدیلی آئی لیکن یہ سلسلہ آج کی جدید دنیا میں بھی موجود ہے.جس کو بیالوجیکل وار بھی کہا جاتا ہے.
.تاریخی اوراق کی گواہی کے مطابق 400.500قبل مسیح سولون نے کیراہ شہر کی طرف جانے والے پانی میں ایک زہریلی بوٹی کو ملا دیا
.اسی طرح 600قبل مسیح میں اشوریوں نے اپنے دشمنوں کے کنوؤں میں زہر ملا دیا تا کہ وہ اس کو پینے سے ہلاک ہو جائیں اسی طرح 300قبل مسیح میں پانی کے کنوؤں اور چشموں کی گزر گاہوں میں بھی مردہ جانور ڈال دیئے گئے تا کہ دشمن کا جانی نقصان کیا جا سکے۔
اسی طرح بارہویں صدی میلادی میں بھی مقتولین کے جثے کنوؤں میں ڈال کر ان کو زہر آلود کیا گیا۔
.اسی طرح تاتاریوں نے چودھویں صدی میں بعض شہروں کو فتح کرنے کے لیے اور ان کے ساکنین کو قتل کرنے کے لیے وہاں ان کے قلعوں میں طاعون زدہ لوگوں کی میتیں پھینکی گئیں جس سے لوگوں کی کثیر تعداد ماری گئی۔
.اسی طرح پندرھویں صدی کے آخر میں امریکہ کے کچھ علاقے دریافت کرنے والے لوگوں نے وہاں پہلے سے موجود لوگوں کو ایسے لباس دیئے جو جدری وائرس سے بھرے ہوئے تھے اور ان سے ان کی موت واقع ہوئی۔ اسی طرح روس نے اٹھارہویں صدی ہجری میں سویتی افواج کے قتل کے لئے ان کے درمیان طاعون زدہ لوگوں کو داخل کیا۔
.برطانوی افواج نے 1763ء میں بعض ہندی قبائلی سرداروں کو ایسے کمبل اور رومال تحفہ میں دیئے. جس سے اس علاقے میں بہت سی اموات واقع ہوئیں.اور جو وائرس اس میں لگایا گیا وہ بہت تیزی سے فضاء میں منتشر ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے اور بہت دیر تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں ۔
اور1998 میں امریکی جنرل نے حکم دیا کہ شمالی امریکہ میں اس ہتھیار کو استعمال کیا جائے تا کہ وہاں موجود کچھ پرانے ہندی قبائل کو جلدی ختم اور کمزور کیا جا سکے. اور تاریخ محفوظ کرنے والوں نے یہ بات بہت تاکید کے ساتھ لکھی ہے کہ اگر اس وائرس کو نہ پھیلایا جاتا تو یقیناً گوروں کی ایک بڑی تعداد کا اس طرح امریکہ کی بعض ریاستوں میں غلبہ نہ ہوتا ۔ بدلتے ہوئے حالات کے ساتھ اس جنگ کی نوعیت میں تطور و ترقی ہوئی اور اس کے انتشار کے خطرات اور اس پہ مرتب ہونے والے اثرات بھی زیادہ ہوتے چلے گئے ۔
پہلی جنگ عظیم میں ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جس سے ہزاروں لوگوں کی اموات واقع ہوئیں
دوسری جنگ عظیم میں جاپان نے اسی جنگ کو ترقی دینے کے لیے اور ایک مضبوط ہتھیار کے طور پہ استعمال کرنے کے لئے بعض خفیہ ریسرچ لیبارٹریز بھی کھولیں ۔
اس کے بعد 1952 میں عالمی تجزیہ نگاروں نے انکشاف کیا کہ امریکہ نے شمالی کوریا کے ساتھ جنگ کے لیے ایسے ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے ۔ 1965 ء میں بعض ایسی جگہوں کا انکشاف ہوا جو ایسے وائرسز کو پھیلانے کے لیے بطور سٹور استعمال کی جاتی تھیں پھر 1972ء میں ایسی جگہوں کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا ۔ ویتنام کے خلاف جنگ میں بھی ایسے وائرسز کے استعمال کا انکشاف ہوا جن کا مقصد امریکی افواج میں وباء پھیلانا تھا ۔ 1978 میں روس میں ایک دھماکے کے نتیجے میں 66لوگوں کے قتل کی اصل داستان یہ تھی کہ وہ ایک ایسی فیکٹری میں کام کر رہے تھے جہاں ایسے وائرسز تیار کرنے کے لئے تجربات کئے جاتے تھے. جس کا اعتراف 1992ء میں روسی صدر نے خود بھی کر لیا تھا
اگرچہ 1972ء میں ایک ایسے معاہدے پر اقوام متحدہ نے اعتماد کیا اور دنیا کے بہت سارے ممالک نے اس پہ دستخط کئے جس کا مقصد دنیا کو اس جنگ سے محفوظ کرنا تھا ۔ لیکن بہت ساری حکومتیں خفیہ طور پہ ایسے اسلحے کو استعمال کرنے کے لئے تجربات بھی کرتی رہتی ہیں اور ایسی لیبارٹریز بھی ان کے ہاں موجود ہیں۔
یقیناً سب کچھ اللہ کے اختیار میں ہے کوئی چیز اس کے اختیار سے باہر نہیں ہے اللہ ہم سب کو اپنی عافیت میں رکھے. آمین یارب العالمین

اپنا تبصرہ بھیجیں