پاکستان کی تاریخ میں 25 مارچ کیوں اہم

آج سے28 سال قبل 25 مارچ 1992 پاکستانی کرکٹ کی تاریخ کا یادگار ترین دن تھا جب قومی ٹیم نے انگلینڈ کو شکست دے کر دنیائے کرکٹ کے چیمپئن کا تاج سر پر سجایا تھا۔

قومی کرکٹ ٹیم نے عمران خان کی قیادت میں ملبورن کے میدان میں انگلینڈ کو بائیس رنز سے شکست دے کر کامیابی اپنے نام کی تھی۔ آخری ٹاکرے میں اس وقت ٹیم کے کپتان عمران خان، جاوید میانداد، انضمام الحق اور وسیم اکرم نے نمایاں کارکردگی دکھائی اور جیت میں مرکزی کردار ادا کیا۔

قومی ٹیم کے تیز گیند باز وسیم اکرم کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جب کہ مشتاق احمد اورعاقب جاوید نے بھی زبردست باولنگ سے پاکستان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ پاکستان ٹیم کی بیٹنگ کا ستون سمجھے جانے والے جاوید میانداد بھی کمر میں تکلیف کے باعث مکمل فٹ نہیں تھے اور کپتان عمران خان بھی کندھے کی انجری کا شکار رہے۔

میلبورن کرکٹ گراونڈ پر 23 فروری 1992 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کیخلاف شکست کے ساتھ ٹورنامنٹ کا آغاز کیا۔ پھر دوسرا میچ جیتا اور تیسرا میچ بارش کی نظر ہوا۔

چوتھے اور پانچویں میچ میں قومی ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا لیکن چھٹے میچ میں فتح یاب رہی۔ 1992 کے ٹورنامنٹ میں اپنا سفر جاری رکھنے کیلئے پاکستان کی امیدیں ویسٹ انڈیز کیخلاف آسٹریلیا کی فتح سے وابستہ تھیں۔ ویسٹ انڈیز کو شکست ہوگئی اور بارش سے متاثرہ گروپ میچ کا ایک پوائنٹ قومی ٹیم کو ورلڈکپ کے مزید نزدیک لے گیا۔

پاکستان نے فائنل میں پہلے بلے بازی کرتے ہوئے انگلینڈ کو 250 رنز کا ہدف دیا تھا۔ فائنل میں ٹرننگ پوائنٹ وسیم اکرم کی دو گیندوں پر ایلن لیمب اور کرس لوئس کی وکٹیں تھیں جس کے بعد میچ کا پانسہ پلٹ گیا۔ پاکستان ہاکی اور سکواش میں ورلڈ کپ ونر تھا جس کے بعد کرکٹ میں بھی یہ مقام حاصل کیا جس سے ملک کے وقار میں مزید اضافہ ہوا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں