کشمیر میں شوپیاں کا علاقہ مجاہدین کا گڑھ کیوں بن رہا ہے؟

Spread the love

شوپیاں مقبوضہ کشمیر کا ایک ایسا ضلع ہے جو شدت پسندی میں اضافے کے سبب انڈین سکیورٹی اداروں کے لیے تشویش کا باعث بنا ہوا ہے۔

پیرپنجال کی برف پوش پہاڑیوں کے دامن میں آباد شوپیاں کو کبھی ’برف کا جنگل‘ کہا جاتا تھا۔ شوپیاں ضلع کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق چار پولیس سٹیشنوں والے 613 مربع کلومیٹر پر پھیلے اس ضلعے کی آبادی 2.66 لاکھ ہے اور95 فیصد دیہی آبادی ہے۔

شوپیاں میں سیب کے باغات بہت گنجان ہیں۔ اتنے گنجان کہ ان باغوں میں کسی شخص کی تلاش ایک مشکل کام ہے۔ مجاہدین کے یہاں پناہ لینے کی ایک وجہ یہ بھی سمجھی جاتی ہے۔

گذشتہ ایک سال کے دوران جنوبی کشمیر میں بھارتی فوج اور مجاہدین کے درمیان سب سے زیادہ تصادم ہوئے ہیں اور درجنوں مجاہد شہیدہوئے ہیں۔

عسکریت پسند گروہوں میں یہاں کے نوجوان کے شامل ہونے کے شواہد ہیں۔ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ایک سال میں 58 نوجوانوں نے ان گروہوں میں شمولیت اختیار کی ہے اور ان میں سے 20 سے زائد شہید ہو چکے ہیں۔

شوپیاں کے گاؤں پڈگام پور میں صرف اپریل میں تین مجاہد شہید کیے جا چکے ہیں۔ 17 اپریل کو اسی گاؤں کا نوجوان عابد نذیر چوپان شدت پسند گروہ میں شامل ہوا ہے۔

اہل خانہ کے مطابق عابد سنہ 2012 میں ہندوستانی فوج کی نیشنل ڈیفنس اکیڈمی (این ڈی اے) میں شامل ہوا تھا۔ وہ انڈین ریاست پنجاب میں انجنیئرنگ کی تعلیم حاصل کر رہا تھا۔

عابد کے والد نذیر احمد چوپان کہتے ہیں: ’عابد ایک چھٹیوں پر گھر آیا ہوا تھا اور جس دن سوشل میڈیا پر اس کی ہتھیار لہراتی ہوئی تصویر دکھائی گئی وہ لمحہ ہمارے لیے ایسا تھا جیسے میں مر گیا۔ کھانے کے بعد وہ گھر سے عام طریقے سے باہر نکلا اور پھر وہ واپس نہیں آیا۔‘

عابد نذیر کے والد سے جب پوچھا گیا کہ شوپیاں کے نوجوان آئے دن شدت پسند گروہوں میں شمولیت کیوں اختیار کر رہے ہیں تو انھوں نے کہا: ’میں کیا کہہ سکتا ہوں، میں چھوٹا شخص ہوں۔ اس کے متعلق بڑے لوگ بتا سکتے ہیں کہ یہ نوجوان بندوق اٹھانے پر مجبور کیوں ہیں؟ یہ آپ ان لوگوں سے پوچھیں جو سیاست کرتے۔ بڑے بڑے حکام کو بھی پتہ ہے کہ وہ ایسا کیوں کر رہے ہیں۔ ان سے پوچھیے کہ تعلیم یافتہ نوجوان کیوں ہتھیاروں کو اٹھا رہے ہیں۔ میرا تو جگر کا ٹکڑا چلا گیا، میں تو یہی رونا رو رہا ہوں کہ وہ کیوں چلا گیا؟ والدین کا فرض ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے جو میں نے کیا۔ اب اس میں میری کیا غلطی ہے؟‘

شوپیاں کے رہنے والے ایک دوسرے والد بشیر احمد کا بیٹا گذشتہ یکم اپریل کو سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں شہید ہوا تھا ۔ بشیر احمد کہتے ہیں کہ ان کے بیٹے کو پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں نے بندوق اٹھانے پر مجبور کیا۔

بشیر احمد نے کہا: ’میرے بیٹے کو پولیس نے فرضی معاملات میں پھنسایا۔ اس پر پی ایس سی اے کا مقدمہ درج کیا گیا۔ اس پر پتھراؤ کا الزام لگایا گیا۔ یہ سچ ہے کہ وہ حریت کے ساتھ کام کرتا تھا۔ وہ 2017 میں پولیس سٹیشن سے بھاگ گیا۔ سنہ 2004 سے انھوں نے اسے ہراساں کرنا شروع کیا تھا۔ وہ یہاں ہونے والے مظالم کے خلاف آواز بلند کرتا تھا۔ اور یہی اس کا قصور تھا۔‘

بشیر احمد نے کہا کہ میں نے اسے کبھی بھی ہتھیار ڈالنے کے لیے نہیں کہا۔

اگر آپ کے دوسرے بیٹے نے بھی بندوق اٹھائی تو کیا کریں گے؟ اس کے جواب میں انھوں نے کہا: ’وہ ابھی پڑھ رہا ہے۔ اگر اسی طرح مظالم ہوتے رہے تو بیٹا کیا میں 80 سال کی عمر کا بوڑھا بھی بندوق اٹھا سکتا ہوں۔ میں نے ایک دن بھی ایس پی سے بھی یہ بات کہی تھی۔‘

بشیر احمد کا خیال ہے کہ بندوق مسئلے کا حل نہیں ہے مذاکرات مسئلے کا حل ہے۔ لیکن جب کوئی بات چیت نہیں ہوتی ہے تو ایک بندوق اٹھانی پڑتی ہے۔

عابد اور زبیر کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان دونوں کا رجحان مذہب کی طرف تھا۔یکم اپریل کو مختلف تصادم میں ایک درجن شدت پسند مارے گئے تھے۔

شوپیاں کے نوجوان کیا کہتے ہیں؟

شوپیاں کے ایک طالب علم ارشد کہتے ہیں: ’پہلے آپ کو یہ سمجھنا ہوگا کہ جب نوے کی دہائی میں شدت پسندی کی لہر آئی تو بھارت نے اس وقت یہ پروپیگنڈا کیا کہ جو شدت پسند بن رہے ہیں وہ پڑھے لکھے نہیں ہیں۔ ان کا تعلق غریب گھرانوں سے ہے۔ اب اگر آپ دیکھیں تو تعلیم یافتہ افراد اس جانب جا رہے ہیں۔ دراصل ہندوستانی رہنماؤں نے کشمیری عوام سے جو وعدے کیے کشمیری نوجوان ان وعدوں کو پورا ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں۔‘

شوپیاں میں زیادہ تر نوجوان شدت پسند کیوں بن رہے ہیں؟ اس کے جواب میں ارشد کہتے ہیں: ’اگر آپ دیکھیں کہ ظلم کہاں زیادہ ہوا ہے تو آپ کو جنوبی کشمیر نظر آئے گا اور شوپیاں پہلے نمبر پر ہے۔ ایک اور بات یہ کہ افضل گورو کی پھانسی، برہان وانی کی ہلاکت اور ریاستی حکومت کی طرف سے فوجی کالونی کا منصوبہ، پنڈت کالونی کی بات، پاکستانی پناہ گزینوں کو شہریت دینے جیسے مسئلوں پر نوجوانوں میں لاوا بن رہا ہے اور وہ اب پھٹ رہا ہے۔‘

ارشد بتاتے ہیں: ’ظلم کی حد یہ ہے کہ یہاں فوج، پولیس یا کوئی بھی سکیورٹی ایجنسی والے آپ کو گاڑی سے اتار کر ایسے ایسے سوال پوچھیں گے کہ آپ ذلت محسوس کرتے ہیں۔ کیا یہ ظلم نہیں ہے کہ جب 2009 میں آسیہ اور نیلوفر کا ریپ اور قتل کیا گیا تو کسی کو اس کے لیے سزا نہیں دی گئی۔ شام کے بعد آپ گھر میں موبائل پر زور سے بات نہیں کر سکتے۔ فوج باہر گشت کرتی ہے۔‘

کشمیر زون کے انسپکٹر جنرل ایس پی پانی کا کہنا ہے کہ جنوبی کشمیر کے نوجوانوں میں شدت پسندی کے میلان کے کئی اسباب ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جنوبی کشمیر میں اننت ناگ، کولگام، پلوامہ اور شوپیاں میں شدت پسندی میں اضافے کی جو باتیں ہو رہی ہیں، اس کو صحیح معنوں میں سمجھنا پڑے گا۔ جو آپ اعداد و شمار میں اضافے کی بات کر رہے ہیں اس کے بارے میں تو ہم نہیں کہہ سکتے۔ اگر آپ پانچ یا دس سال کے اعداد و شمار دیکھیں تو یہاں شدت پسند سرگرم نظر آتے ہیں۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میں صرف ایک وجہ نہیں مانتا۔ بہت ساری وجوہات ہیں۔ جیسا کہ ایک پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ ہتھیار اٹھانے والے پڑھے لکھے ہوتے ہیں وہ درست نہیں ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ پڑھے لکھے بچے اس میں شامل ہوتے ہیں۔ سوشل میڈیا ایک بڑا سبب ہے۔ سوشل میڈیا پر شدت پسندی کو سراہا جاتا ہے جس سے ایک ماحول بنتا ہے۔‘

پولیس کی حراست میں زبیر احمد تورے
شوپیاں میں شدت پسندی میں اضافے پر آئی جی پانی کہتے ہیں: ’جولائی 2016 کے بعد شوپیاں میں شدت پسند گروپوں میں بھرتی میں تیزی ضرور آئی۔ اور جو بھرتی ہوئی تھی اس پر بہت حد تک قابو پا لیا گیا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ سرحد پار پاکستان سے جو شدت پسند بھیجے جاتے ہیں۔ جنوبی کشمیر میں ان کی موجودگی بھی ہے۔‘

آئی جی پانی کا کہنا ہے کہ گذشتہ چند مہینوں میں تقریباً 11 لڑکوں نے مجاہدین کو خیرباد کہا ہے۔

سیاسی تجزیہ نگار طاہر محی الدین شوپیاں میں شدت پسندی میں اضافے کے متعلق کہتے ہیں: ’آج کل تو شوپیاں ہی شدت پسندی کے حوالے سے نظر آ رہا ہے۔ زیادہ نئے لڑکے شوپیاں کے ہی بندوق اٹھا رہے ہیں۔ شوپیاں کا علاقہ بعض مذہبی جماعتوں کے لیے مرکز کا درجہ رکھتا ہے جس کے سبب یہاں شدت پسندی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے۔ میرے خیال سے اسے مذہب سے تحریک ملتی ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ انڈیا میں بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کی کشمیر پالیسی تمام مسائل کو فوج کے ذریعے حل کرنے کی رہی ہے۔ وہ یہاں کی تحریک دبانا چاہتے ہیں۔ برہان وانی بھی ایک وجہ ہے۔ کشمیر میں شدت پسندی کی جو نئی لہر شروع ہوئي وہ برہان کے بعد ہی ہوئی۔‘

طاہر محی الدین یہ بھی کہتے ہیں کہ کشمیر میں آواز بلند کرنے کے تمام طریقوں کو بند کر دیا گیا ہے، نتیجہ یہ ہے کہ انتہا پسندی بڑھ رہی ہے۔

شوپیاں کے ایک شہری شکیل احمد کہتے ہیں کہ جنوبی کشمیر میں شدت پسند خود کو محفوظ پاتے ہیں اور شاید اسی لیے شدت پسند اسے اپنا ٹھکانہ بناتے ہیں۔

جنوبی کشمیر کو حکمراں جماعت پی ڈی پی کا گڑھ کہا جاتا ہے۔ پی ڈی پی نے جنوبی کشمیر سے ہی اپنی ریاست شروع کی ہے۔ جنوبی کشمیر کے کشیدہ حالات کے باعث جنوبی علاقے میں کوئی بھی انڈیا حامی سیاسی جماعت کھل کر اجلاس عام منعقد نہیں کر پاتی ہے۔.

2 تبصرے “کشمیر میں شوپیاں کا علاقہ مجاہدین کا گڑھ کیوں بن رہا ہے؟

  1. inshaallah kashmir jalad az jalad aazad ho jayea gha humain poora poora yakeen h yeahian pr her koie mujhideen h inshalla kashmir aazad ho jayine gha…..

اپنا تبصرہ بھیجیں