فکر اسلامی میں تجدید ،تحریر:زید حارث

مصر جامعہ ازہر میں 27 اور 28جنوری 2020ء کو مسلمان علماء کی ایک انٹرنیشنل کانفرنس ہوئی جس میں پاکستان سعودی عرب اور دنیا بھر سے جید اہل علم نے شرکت فرمائی. اس کا موضوع “فکر اسلامی میں تجدید” تھا

اس انٹرنیشنل کانفرنس کا اعلامیہ اس طرح جاری گیا 1۔ تجدید شریعت کے لوازم میں سے ایک لازم ہے
شریعت کی وہ نصوص جو اپنی دلالت و مفہوم میں قطعی اور واضح ہیں ان میں کوئی تجدید نہی کی جائے گی. اور وہ نصوص جو اپنی دلالت و مقصود میں ظنی ہیں ان میں اجتہاد و استنباط کی بنیاد پر احوال مقامات اوقات اور لوگوں کے اعراف کے اعتبار سے فتوی بدل جاتا ہے لیکن شریعت کے مقاصد اور بنیادی اصول اور لوگوں کی مصلحت کو ملحوظ خاطر رکھا جائے گا ۔


شدت پسند تحریکیں اور دہشت گرد جماعتیں تجدید کا انکار کرتی ہیں اور وہ اپنی دعوت کی بنیاد میں شریعت کی نصوص کی غلط رنگ چڑھا کر دین کے بنیادی احکام کو روند دیتی ہیں. اور ایسے لوگ جانوں مالوں عزتوں کی زیادتی کے جرم کا ارتکاب کرتے ہیں اور یقینا یہ چیز یورپ اور اس سے متاثر لوگوں کے نزدیک اسلام کے خوبصورت چہرے کو مسخ کرنے کا سبب بنتی ہے. اداروں اور معاشروں پہ یہ واجب ہے کہ وہ ایسی جماعتوں سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے ریاستوں کا تعاون کریں. اور ان شدت پسند جماعتوں کی ایک بنیادی فکری غلطی یہ بھی ہے کہ وہ عقیدے اور عمل کے احکام کو ایک ہی درجے میں رکھتے ہیں اور بعض نافرمانیوں کو کفر قرار دیتے ہیں اور بعض جائز کاموں واجب قرار دے دیتے ہیں. اور یہی رویہ مغرب میں اسلام فوبیا کے بڑھنے کا سبب بنتا ہے .ان شدت پسند جماعتوں کے نزدیک حاکمیت سے مراد یہ ہے کہ ہر قسم کے فیصلے کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے. اور جو فیصلوں میں اپنی مرضی کی کوشش کرے وہ اللہ کے ساتھ خاص افعال میں جھگڑنے کی کوشش کر رہا ہے. اور وہ کافر اور اس کا خون حلال ہے. اور ان کی یہ بات قرآن و سنت کی واضح نصوص میں تحریف ہے. حافظ ابن حزم رحمہ اللہ نے فرمایا. اللہ کے حکم میں سے ہی ہے کہ اس نے بعض فیصلے غیراللہ کو سونپ دیئے ہیں اور اس کی ایک مثال وہ معاملہ ہے جو خاوند اور بیوی کے درمیان اختلاف کے وقت حکم دیا گیا کہ ایک فیصل مرد کے گھر والوں میں سے بناؤ اور ایک فیصل عورت کے گھر والوں میں سے بنا لو.اور اس موقع پر لوگوں کی معلومات کی تصحیح کی ضرورت ہے کہ ہر وہ فیصلہ جو شریعت کے ضوابط کے ساتھ منضبط ہو وہ اللہ کی حاکمیت کے متضاد نہی بلکہ اللہ کی حاکمیت ہی ہے.

تکفیر ایک ایسا فتنہ ہے جس میں ہمیشہ مسلمان مبتلا رہے اور یقینا اس کا ارتکاب کرنے والا شریعت پہ جرأت کرتا ہے. کسی کی تکفیر کے فیصلے کا اختیار صرف اللہ کے پاس ہے اور اگر کوئی شخص ایسا جملہ کہے جس میں 99فیصد کفر کا احتمال اور ایک فیصد اسلام کا احتمال ہو تو اس شخص پہ کفر کا حکم نہی لگایا جا سکتا. بعض جماعتیں جو ملکوں سے ہجرت کا اعلان کرتی ہیں اس کی کوئی حقیقت نہی بلکہ حقیقت تو اس کے برعکس ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا. فتح مکہ کے بعد کوئی ہجرت نہی. مسلمان نوجوانوں کو وطن معاشرے غاروں کچھاروں کی طرف پناہ لے کر جماعتوں کے ساتھ ملنے کی بنیاد گمراہی ہے اور یہ شریعت کے مقاصد سے جہالت کا نتیجہ ہے. اور اس مسئلہ میں حکم شرعی یہ ہے کہ مسلمان دنیا میں جہاں بھی اپنی جان مال عزت کو محفوظ سمجھتا ہو اور اپنے دین کے شعائر کو ادا کرنے کی استطاعت رکھتا ہو. اور ہجرت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ اپنے گناہوں کو چھوڑ دینا یا رزق، علم اور زمین کی آباد کاری کے لیے یا ملکوں کی آبادی کے لیے اپنے وطن کو چھوڑ دینا۔


 جہاد سے مراد صرف قتال نہی بلکہ قتال تو جہاد کا ایک مفہوم ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں پر ظلم کرنے والوں کے ظلم کو روکنا اور بند کرنا ہے اور اس کا مقصد یہ نہی کہ جو آپ کے دین کو قبول نہ کرے اسے قتل کر دیا جائے اور یقینا غیر مسلموں کے خون کی حرمت بھی ہماری شریعت میں واضح ہے. اور جہاد ایک ایسا فریضہ ہے جو حکومتی ذمہ داری ہے اور یہ دستور اور قانون کے دائرے میں رہ کر ادا کی جاتی ہے اور یہ صرف جماعتوں اور افراد کے ذمہ نہی. اور ہر وہ جماعت جو اس کو اپنا ذاتی و انفرادی حق سمجھتی ہے اور نوجوانوں کو اس کے لیے تیار کرتی ہے تو حکومت پر واجب ہے کہ ان کو روکے اور ان کا سد باب کرنے کے لیے ہر قسم کی تدابیر اختیار کرنا حکومت کا شرعی و قانونی حق ہے کیونکہ ایسی جماعتیں زمین میں مفسد ہیں اور اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کر رہی ہیں.

 اسلام کی نظر میں موجودہ دور کی ریاست سے مراد ایسی حکومت ہے جو وطن دستور جمہوری اقدار کی بنیاد پر ہو. اور جامعہ ازہر اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ اسلام کے تصور میں کسی ایسی مذہبی ریاست کا تصور نہی جو ادیان کا انکار کرے اور لوگوں کی توجیہات و آراء کا احترام نہ کرتی ہو. اور تاریخ اسلام میں بھی اس پہ کوئی دلیل نہیں. خلافت ایک ایسا نظام حکومت تھا جو صحابہ کرام نے اختیار کیونکہ ان کے وقت کے لیے وہی مناسب تھا اور اسلام میں کوئی ایسی دلیل نہیں جو ہمیں کسی ایک نظام کو اختیار کرنے پہ مجبور کرے. بلکہ ہر وہ نظام حکومت جو عدل و مساوات، آزادی، وطن کی حفاظت اور تمام شہریوں کے حقوق کی حفاظت کا ضامن ہو اور شریعت کے اصولوں سے متصادم نہ ہو وہ نظام حکومت درست ہے.


حاکم وہ ہے جس کو ملک کا دستور حاکم بنا دے یا وہ ملک میں موجود کسی رائج نظام کے ساتھ حاکم بن جائے. اور اس پر واجب ہے کہ اپنی رعایا کے مصالح کا خیال کرے اور ان کے درمیان عدل کرنا اور ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرے اور اس کے داخلی امن کو یقینی بنائے اور لوگوں کی ضروریات کی تکمیل یقینی بنائے.


 إلحاد معاشرے میں پھیلتا ہوا ایک ایسا ناسور ہےجو تمام مقدس مذاہب کا منکر ہے اور وہ موجودہ فکری جنگ کا ایک ہتھیار ہےجس میں مذہبی آزادی کا مطلب تمام ادیان کے تصور کو ختم کرنا ہے اور یہ فکر شدت پسندی اور دہشت گردی کا ایک بلاواسطہ سبب بھی ہے.
اسلامی جماعتوں اور علماء پہ واجب ہے کہ اس کے لیے بیدار ہوں اور اس کے خطرات سے آگاہ ہوں اور اس کا مقابلہ کرنے کے لئے فکری تجدید کے اسلحے سے لیس ہوں اور عقلی دلائل اور نقلی براہین کو سامنے رکھیں اور آفاقی دلیلیں اور جدید علوم کے تجربات سےبھی مستفید ہوں اور اس کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال کریں.


کرپشن، دھوکہ دہی اور مناصب میں ظالمانہ تقسیم کو روکنا سب کا قانونی، اخلاقی، معاشرتی دینی فریضہ ہے. تمام کمپنیوں اور اداروں پر یہ واجب ہے کہ وہ حکومتوں کا تعاون کریں تاکہ معاشرے ترقی و استقرار کی طرف گامزن ہوں.
خود کشی ایک بہت بڑا معاشرتی جرم ہے. کسی کو قتل کرنے والا بعض اوقات لواحقین کے معاف کرنے کی وجہ سے یا سزا ملنے کی وجہ سے معاف کر دیا جاتا ہے لیکن خود کشی کرنے والا اپنے جرم کی سزا بھگتتا رہتا ہے. یونیورسٹیز اور تحقیقی اداروں پہ یہ واجب ہے کہ اس کے اسباب تلاش کرنے کے لیے تحقیقاتی سروے کئے جائیں تاکہ اس کے حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں.

کسی ملک کا ویزہ ایک معاہدہ ہےجس کی پابندی شرعی فریضہ ہے.


تاریخی آثار کسی قوم کی کی تہذیب و ثقافت کی عکاسی اور یاد گار ہوتی ہیں ان کو بت یا مورتیاں قرار نہی دیا جائیگا. ان کو ختم کرنا یا ان کی اصل کو خراب کرنا درست نہیں. اور وہ آثار تمام نسلوں کی ملکیت ہوتےہیں. اور ان آثار کو ملک سے باہر لے جا کر بیچنے یا خراب کرنے پر سزائیں دی جائیں.

طلاق کسی معتبر شرعی سبب کے بغیر حرام ہے کیونکہ اس میں خاندان اور بچوں کو نقصان سے دوچار ہونے کا خدشہ ہےاور شریعت کے مقصد کے بھی خلاف ہے اور قدر امکان اس سے بچنا واجب ہے.
تمام منشیات اور نشہ دینے والی چیزیں تھوڑی مقدار میں نشے کا سبب ہوں یا زیادہ مقدار میں اور ان کا کوئی بھی نام ہو جب وہ عقل کو خراب کرتی ہوں تو وہ قطعا حرام ہیں.
اور ان کے لیے تمام تربیتی دعوتی ثقافتی اور امنی تدابیر اختیار کرنے چاہئیں تاکہ ان کو عام ہونے سے روکا جا سکے. اور ان کو پرموٹ کرنے والوں اور بیچنے والوں کے لئے سخت سزاؤں کا اعلان کرنا چاہیے.


شہریت ایک وطن کے اندر رہنے والے تمام شہریوں کا بنیادی حق ہے. مذہب، رنگ، نسل کی بنیاد پر تعریف کرنا درست نہی اور پہلی اسلامی ریاست اس بنیاد پر قائم ہوئی اور مسلمانوں پر واجب ہےکہ وہ اس بنیاد کو اختیار کریں.


اہل کتاب کے ساتھ نیکی میں سے ہے کہ ان کے تہواروں کی مناسبت سے ان کو مبارکباد دی جائے اور جو متشدد اس کو حرام قرار دیتے ہیں وہ جمود ہے اور شریعت کے مقاصد پہ جرات ہےاورفتنے کا دروازہ ہے جو قتل سے زیادہ سخت ہےاور غیر مسلموں کے لیے تکلیف دہ عمل ہے. اور غیر مسلموں کو مبارکباد دینے میں عقیدےیا شریعت کی کوئی مخالفت نہی. اور ذمہ داران پہ واجب ہے کہ غیر مسلموں کے تہواروں کے موقع پر میڈیا کو ایسی باتیں اور فتاوی کے نشر سے روکا جائے. کیونکہ یہ ایک ہی معاشرے میں رہنے والے مختلف لوگوں کے درمیان اضطراب و نفرت کا سبب ہے.


 عورت ریاست کے ہر منصب کی اہل ہوسکتی ہے اور عورت کو کسی ھی عہدے پر فائز کیا جا سکتا ہے.


 موجودہ دور میں اگر کوئی عورت ایک محفوظ گروپ کے ساتھ یا کسی ایسے ذریعے سے سفر کرے جس میں وہ خود کو محفوظ سمجھتی ہے تو اس کو محرم کی کوئی ضرورت نہیں.

اپنا تبصرہ بھیجیں