بہت جوتے پڑے ہیں، تحریر-محمد جمیل راھی

جوتا بنیادی طور پر پاؤں میں پہنے کے لئے ایجاد ہوا لیکن وقت گزرنےکے ساتھ ساتھ اس کی اپنی منفرد تاریخ مرتب ہوتی رہی.زمانہ قدیم میں عمومی طور پر صرف محاوروں ہی میں استعمال ہوتا رہا .مثال کے طور پر ,سو جوتے سو پیاز,جوتےپڑنا ,جوتیوں میں دال بٹنا,پاوں کی جوتی,جوتیاں توڑنا,جوتے دکھانا. یہ دوسروں کی توھین کا ہتھیار اور استعارہ بھی سمجھا جاتا ہے.توھین کی غرض سےجوتا بطور ہتھیار عالمی سطح پر ایک استعارہ کے طور پر بھی معروف اور جوتاحصول شہرت کا باعث بن کر بھی ابھرتا رہا ہے.ایسی شہرت مختلف طرز پر وجود پزیر ہوتی رہی ہے.مار خور پاکستان میں ناپید ہو رہا تھا.پنجاب یونیورسٹی کے ایک طالب علم جوڑے نے مشترکہ طور پر اس جانور کی تصویر لگا کر جوتے کا برانڈ متعارف کرایا جسے بہت تیز رفتار شہرت نصیب ہوئی ,جوتا برانڈ بھی چل گیا اور دنیا کی توجہ مار خور کی ختم ہوتی نسل پر بھی پڑی. اکثر جوتوں کی شاپ کے بورڈ پر آپ نے بورڈ دیکھا ہو گا “بہت جوتے پڑے ہیں”یہ دراصل ایک طرز کا اشتہار ہوتا ہے کہ گاھک کی فوری توجہ حاصل کی جاتی ہے.جوتے کا ایک پہلو احترام سے بھی وابستگی رکھتا ہے. جوتا اتار کر مسجد,مندر,درگاہ اور آستانوں میں داخل ہونا صدیوں پرانی ریت چلی آرہی ہے,جوتا سیاسی اعتبار سے بھی اپنی منفرد تاریخ کا حامل رہا ہےِ مقامی و ملکی سیاست میں سابق قومی لیڈر اور حاضر دماغ عوامی لیڈر ذوالفقار علی بھٹومخالفین نےگجرات کے جلسہ عام میں اپنے جوتےہاتھوں میں پکڑ کر لہرانے شروع کئے تو وہ فوری بھانپ گئے. اپنی تقریر کا موضوع روک کر گویا ہوئے کہ” آپ لوگ جوتے نہ لہرائیں مجھے معلوم ہے چمڑہ مہنگا ہو گیا ہے اور ہر شہری کو جوتا میسر نہیں ہے.اگر آپ لوگوں نے ووٹ دے کر مجھے جتوا دیا تو میں گجرات میں جوتوں کی فیکٹری لگوا دوں گا.پھر آپ لوگوں کو جوتوں کی کمی محسوس نہیں ہو گی”.جوتا بغرض توھین دوسروں کی جانب اچھالنا جدید دور میں اس وقت معروف ہوا جب ایک عراقی صحافی منتظر الزیدی نے 2008 میں امریکی صدر بش کی جانب دو جوتےاچھال دیئے جو خوش قسمتی سے لگ تو نہ سکے لیکن اس کی شہرت کو چار چاند ضرور لگا گئے.اس صحافی نے دونوں جوتے یکے بعد دیگراچھال دئے تھے.اسی طرح سٹراس کاہن سربراہ آئی ایم ایف, ھندودتانی وزیراعظم من موھن سنگھ,پاکستانی صدر جنرل مشرف,جے للیتا وزیر اعلی’تامل ناڈو پر بھی جوتے اچھالے گئےللیتا پر کرپشن کا الزام عائد ہوا تھا.پولیس نے 1997 میں اس کے گھر چھاپہ مار کر 750 جوتوں کے قیمتی جوڑے ,دس ہزار ساڑھیاں برآمد کیں تھیں.ایملڈا مارکوس فلپائنی خاتون اول نے 3400 جوڑے رکھ کر گینز بک میں اپنا نام شامل کرا لیا.مساجد سے جوتے چوری ہونا ھمیشہ سے ہی قابل مذمت رہا ہےلیکن ہندوستانی معاشرے میں اپنے جیجا جی کے جوتے چوری کرنا شغل اور رسم چلی آتی ہے.بادشاھی مسجد لاہور سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وابستہ جوتے یعنی نعلین پاک چوری ہونے کا واقعہ بھی عرصہ دراز سے موضوع بحث چلا آ رہا ہے جن کا آج تک سراغ نہیں مل سکا. لیکن اب حال ہی میں وفاقی وزیر آبی وسائل فیصل واوڈا کو نا جانے کہاں سے ایک نایاب جوتا ہاتھ آیا کہ انہوں نے پوری قوم کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی.یہ قصہ اس وقت شروع ہوا جب وفاقی وزیر نے لائیو ٹی وی شو میں معروف اینکر کاشف عباسی کے پروگرام آف دی ریکارڈ میں بوٹ نما ایک جوتا اچانک اپنے سامنے رکھے میز پر رکھ دیا اورپروگرام میں بیٹھے دیگر دو مہمانوں کو باور کرایا کہ تم لوگ جوتے چاٹنے والے اور جوتےکھانے والے ثابت ہوئے ہو.وہ اس عمل سے دعوی’کر رہے تھےکہ اپوزیشن نے بوٹوں والوں سے ڈر کر آرمی چیف کی تقرری,توسیع ملازمت وغیوہ سے وابستہ آرمی ایکٹ پاس کرنے والے ہو. اداروں,پارلیمنٹ اور سیاسی جماعتوں کی توھین کی اس حرکت کی بنیاد پر نہ صرف پییمرا اتھارٹی نے فوری طور پر اس پروگرام اور اینکر پربھی ساٹھ روز کی پابندی عائد کر دی مزید یہ کہ وہ میڈیا پر بھی نہیں آسکتے.دوسری جانب وزیر اعظم عمران خان اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئےاپنے وفاقی وزیر پر آٹھ روز کی پابندی لگا دی ہے کہ وہ میڈیا سے دور رہیں.ان دونوں پابندیوں پر زبر دست تنقید کا بازار گرم ہے اور متضاد دلائل دیئیے جانےکے ساتھ ساتھ ان کو پریس کی آزادی اور میڈیا پر قدغنوں سے تشبیہ دی جارہی ہے.میڈیا معاشرے کی آنکھ اور قوم کا ترجمان ہوتا ہے.اسے کسی طور مادر پدر آزادی نہیں دی جا سکتی.پاکستان ایسی نظریاتی مملکت میں تو اس کی ذمہ داری مزید بڑہ جاتی ہے.اعلی’ اعلی’اخلاقی اقدار کی پابندی اور غیر جانبداری میڈیا کی وہ خصوصیت ہے جو اسے دیگر ادراروں سے ممتاز بناتی ہے.ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام اداروں کو سختی سے طے کردہ اخلا قی ضابطوں کا پابند بنایا جائے.پاکستان کو جن اندرونی اور بیرونی چیلنجز در پیش ہیں اندریں حالات میڈیا کی قومی ذمہ داری میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے.عدلیہ, انتظامیہ اور عدلیہ ریاست کے بنیادی ستون ہیں تو میڈیا بھی چوتھا ستون ہونے کا دعویدار ہے.یہ مقام اسی صورت برقرار رہ سکتا ہے جب کوئی ادارہ اپنی ذمہ داریوں پوری کرنے میں بھی کامیاب رہے.بصورت دیگر وہ اپنا وقار ,اعتبار اور مقام سبھی کچھ کھو دیتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں