وزیراعلیٰ سندھ نے صوبے میں طلبہ یونین کی بحالی کی منظوری دے دی

Spread the love

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اسمبلی کی جانب سے طلبہ یونین پر عائد پابندی ختم کرنے لیے قرار داد کی منظوری کے بعد اہم فیصلہ کرتے ہوئے طلبہ یونین بحال کرنے کی منظوری دے دی۔

سندھ حکومت کے ترجمان اور مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی مرتضی وہاب نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے قرارداد منظور کرچکی ہے اور چیئرمین پیپلزپارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری بھی اس حوالے سے اعلانات کرچکے ہیں۔

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ پہلے ہی طلبہ یونین کی بحالی کی ہدایت کرچکے ہیں اور طلبہ کو سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ کی منظوری کے بعد اگلا مرحلہ طلبہ یونین کی بحالی سے متعلق قانونی سازی ہوگی ۔

مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ جلد ہی ایک قانون بنا کر کابینہ اور پھر سندھ اسمبلی سے منظور کرایا جائے گا اور اس حوالے سے طلبہ تنظیموں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوچکی ہیں۔

قبل ازیں29 نومبر کو طلبہ یونین کی بحالی سمیت مطالبات کا چارٹر پیش کرنے کے لیے اسٹوڈنٹ ایکشن کمیٹی (ایس اے سی) کی قیادت میں ملک بھر میں طلبہ یکجہتی مارچ ہوا تھا، جس میں طلبہ کے ساتھ ساتھ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی تھی۔

مارچ کے شرکا کی حمایت کے لیے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹویٹرمیں اپنے پیغام میں کہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ طلبہ یونین کی حمایت کی ہے، شہید محترمہ بیظیر بھٹو کی جانب سے طلبہ یونین کی بحالی کے اقدام کو جان بوجھ کر معاشرے کو ناکارہ بنانے کے لیے کالعدم کیا گیا۔

چیئرمین پیپلز پارٹی نے لکھا تھا کہ آج طلبہ، یونین کی بحالی، پڑھنے کے حق پر عمل درآمد، سرکاری جامعات کی نجکاری کے خاتمے، جنسی ہراسانی کے قانون کے نفاذ، طلبہ کی رہائش اور جامعات کی ڈی ملیٹرائزیشن کے لیے طلبہ یک جہتی مارچ میں شریک ہورہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘طلبہ کی نئی نسل کی جانب سے پرامن جمہوری عمل کے لیے سرگرمی کا جذبہ اور تڑپ واقعی متاثر کن ہے۔

گزشتہ روز وزیراعظم عمران خان نے بھی اپنے ایک ٹویٹ میں جامعات میں طلبہ یونین کی بحالی کا اشارہ دے دیا تھا۔

وزیر اعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ‘جامعات مستقبل کی قیادت تیار کرتی ہیں اور طلبہ یونینز اس سارے عمل کا لازمی جزو ہیں، لیکن بدقسمتی سے پاکستان کی جامعات میں طلبہ یونینز میدان کارزار کا روپ دھار گئیں اور جامعات میں دانش کا ماحول مکمل طور پر تباہ ہوکر رہ گیا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم دنیا کی صف اول کی جامعات میں رائج بہترین نظام سے استفادہ کرتے ہوئے ایک جامع اور قابل عمل ضابطہ اخلاق مرتب کریں گے تاکہ ہم طلبہ یونینز کی بحالی کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے انہیں مستقبل کی قیادت پروان چڑھانے کے عمل میں اپنا مثبت کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکیں۔’

خیال رہے کہ 29 نومبر کے مارچ کے بعد لاہور میں سول لائن پولیس نے طلبہ یک جہتی مارچ کے منتظمین اور شرکا کے خلاف بغاوت کے الزام میں مقدمات درج کرلیے گئے تھے اور عالمگیر وزیر نامی ایک شہری کو گرفتار بھی کرلیا تھا۔

سول لائن پولیس نے ریاست کی مدعیت میں مارچ کے منتظمین عمار علی جان، فاروق طارق، (مشال خان کے والد) اقبال لالا، (پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور ایم این اے علی وزیر کے بھتیجے) عالمگیر وزیر، محمد شبیر اور کامل کے علاوہ 250 سے 300 نامعلوم شرکا کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں